• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جامعہ کراچی میں مالی بحران، غیر قانونی تقرریوں، بدعنوانی کیخلاف اساتذہ و ملازمین کا اظہارِ تشویش

تصویر بشکریہ رپورٹر
تصویر بشکریہ رپورٹر

جامعہ کراچی کی انجمنِ اساتذہ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر غفران احمد، اساتذہ اور ملازمین کے نمائندوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جامعہ کراچی میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں، غیر قانونی تقرریوں، غیر ضروری اخراجات اور انتظامی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

 انہوں نے کہا ہے کہ جامعہ کراچی اس وقت تاریخ کے بدترین مالی بحران سے گزر رہی ہے جبکہ اساتذہ اور ملازمین کئی ماہ سے تنخواہوں، پنشن اور دیگر واجبات کی ادائیگی میں تاخیر کا سامنا کر رہے ہیں۔

پریس کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ جامعہ کراچی کے اساتذہ گزشتہ کئی روز سے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں، تاہم انتظامیہ اس بحران کے حل کے بجائے احتجاج کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ 

رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ جامعہ کی موجودہ انتظامیہ نے 21 اپریل سے 30 اپریل تک ہونے والے تمام احتجاجی پروگراموں کے دوران اساتذہ کے خلاف ہتھکنڈے استعمال کیے اور ان کے جائز مطالبات کو نظر انداز کیا۔

اساتذہ رہنماؤں نے کہا ہے کہ جامعہ کراچی کا مالی خسارہ 1 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ انتظامیہ غیر ضروری منصوبوں اور بھاری اخراجات میں مصروف ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً ڈیڑھ ارب روپے مالیت کا ERP پروجیکٹ شروع کیا گیا جس پر سوالات اٹھ رہے ہیں، اس منصوبے سے جامعہ کو مالی فائدے کے بجائے نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

پریس کانفرنس میں جامعہ میں مبینہ غیر قانونی تقرریوں کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔

رہنماؤں نے الزام لگایا کہ بعض ایسے شعبوں میں تقرریاں کی گئیں جن کی نہ تو مناسب منظوری موجود تھی اور نہ ہی ان کی حقیقی ضرورت تھی، ان میں فزیکل تھراپی، ڈیجیٹل میڈیا مارکیٹنگ، بزنس اسپورٹس مینجمنٹ اور پولٹری سائنس جیسے شعبے شامل ہیں۔

 اساتذہ نمائندوں کے مطابق ان نئے پروگراموں کے لیے بھاری فنڈز خرچ کیے گئے جبکہ جامعہ پہلے ہی شدید مالی مشکلات کا شکار ہے۔

اساتذہ اور ملازمین کے نمائندوں نے کہا کہ جامعہ کراچی میں بعض افسران کی غیر معمولی مراعات اور اختیارات بھی مالی بحران کی بڑی وجہ ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ اہم انتظامی عہدوں پر ایسے افراد کو تعینات کیا گیا جو قواعد و ضوابط پر پورا نہیں اترتے، جامعہ میں مالی نظم و ضبط کی صورتِ حال انتہائی خراب ہو چکی ہے۔

پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ جامعہ کراچی میں 2025ء تک کی آڈٹ رپورٹس مکمل نہیں کی گئیں جبکہ متعدد معاملات میں شفافیت کا فقدان ہے۔

 اساتذہ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ جامعہ کے تمام مالی اور انتظامی معاملات کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمے دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔

پروفیسر غفران احمد نے کہا کہ اساتذہ اور ملازمین کا احتجاج کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ جامعہ کراچی کے تحفظ اور اس کے مستقبل کو بچانے کے لیے ہے۔

 انہوں نے حکومتِ سندھ، چانسلر اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ جامعہ کراچی کے مالی بحران، انتظامی بے ضابطگیوں اور اساتذہ کے مسائل کے فوری حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

قومی خبریں سے مزید