• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چین میں شادیوں کی شرح 1 دہائی کی کم ترین سطح پر، آبادی سے متعلق خدشات میں اضافہ

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو 

چین میں شادیوں کی رجسٹریشن 2026ء کی پہلی سہ ماہی میں ایک دہائی کی کم ترین سطح پر آ گئی، نئے اعداد و شمار نے ملک میں آبادی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا۔

چینی وزارتِ شہری امور کے مطابق ملک میں جنوری سے مارچ کے دوران تقریباً 16 لاکھ 97 ہزار شادیوں کی رجسٹریشن ہوئی، یہ تعداد 2017ء کے مقابلے میں نصف رہ گئی ہے۔

اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار چین میں آبادی سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ چین کی آبادی میں مسلسل چوتھے سال کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور شرحِ پیدائش بھی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

یہاں اس بات کا ذکر کرنا اہم ہے کہ چین کی سماجی و ثقافتی روایات کی وجہ سے وہاں بچوں کی پیدائش شادی کے بعد ہی ہوتی ہے۔

چین میں بچوں کی پیدائش شادی کے بعد کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ملک کے بعض انتظامی قوانین بچوں کی رجسٹریشن اور سرکاری سہولتوں کو شادی سے منسلک کرتے ہیں۔

چینی حکومت نے نوجوانوں کو شادی اور بچوں کی پیدائش کی جانب راغب کرنے کے لیے مختلف اقدامات شروع کیے ہیں جن میں مالی معاونت، بچوں کی نگہداشت کے لیے سہولتیں اور زچگی سے متعلق طبی اخراجات میں کمی شامل ہیں۔

حکومتی اقدامات کے باوجود بھی شادیوں کی شرح میں مسلسل کمی آ رہی ہے، جس سے پالیسی سازوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ ملک میں عمر رسیدہ افراد کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور معاشی ترقی کی رفتار کم ہو رہی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید