برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر پر مستعفی ہونے کے دباؤ کے بعد ہاؤسنگ اور کمیونٹیز کے شعبے سے وابستہ پہلی حکومتی وزیر میاٹا فینبولے نے استعفی دے دیا۔
مستعفی ہونے کے بعد انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں وزیرِاعظم سے اپیل کی کہ وہ ملک اور پارٹی کے مفاد میں منظم انتقالِ اقتدار کا شیڈول طے کریں۔
وہ موجودہ حکومت میں استعفیٰ دینے والی پہلی وزیر بن گئی ہیں، جنہوں نے وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر کی قیادت پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ شب وزراء کے 4 معاونین بھی اپنے عہدوں سے مستعفی ہو چکے ہیں۔
بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کے بدترین نتائج پر کیئر اسٹارمر سے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے، استعفے کا مطالبہ کرنے وا لے لیبر اراکینِ پارلیمنٹ کی تعداد 72 ہو گئی ہے، نئے پارٹی لیڈر کے انتخاب کی تحریک کے لیے 81 اراکین کی حمایت درکار ہے۔
وزیرِاعظم کے چیف سیکریٹری ڈیرن جونز نے کہا ہے کہ اسٹارمر اپنے ساتھیوں کی بات سن رہے ہیں جو قیادت کے مستقبل کے لیے ایک واضح ٹائم لائن کا مطالبہ کر رہے ہیں، تاہم حتمی فیصلہ وزیرِاعظم خود کریں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ برطانیہ کے وزیرِاعظم کا عہدہ انتہائی مشکل اور دباؤ والا ہوتا ہے اور جو بھی سمجھتا ہے کہ یہ کام آسان ہے وہ اس ذمے داری کی پیچیدگی کو نہیں سمجھتا۔