اسرائیل نے ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں سے دفاع کے لیے متحدہ عرب امارات کو جدید سسٹم فراہم کیے جن میں ایک جدید لیزر دفاعی نظام بھی شامل ہے۔
برطانوی اخبار فائنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں سے نمٹنے کے لیے جدید اسلحہ اور دفاعی نظام فراہم کیے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے ’’اسپیکٹرو‘‘ نامی ایک جدید سرویلنس سسٹم یو اے ای کو فراہم کیا، جو تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے تک آنے والے ڈرونز، خصوصاً ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز کا سراغ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس کے علاوہ اسرائیل نے اپنا جدید لیزر بیسڈ دفاعی نظام آئرن بیم بھی تعینات کیا ہے، جو قلیل فاصلے کے راکٹوں اور بغیر پائلٹ طیاروں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ نظام حال ہی میں فعال ہوا ہے اور اس سال کے آغاز میں لبنان سے ہونے والے حملوں کے خلاف بھی استعمال کیا جا چکا ہے۔
ان دونوں دفاعی نظاموں کے ساتھ اسرائیل نے اپنا ’آئرن ڈوم‘ فضائی دفاعی نظام بھی یو اے ای بھیجا جبکہ ان سسٹمز کو چلانے کے لیے درجنوں اسرائیلی فوجی اہلکار بھی تعینات کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے نہ صرف یہ جدید نظام فراہم کیے بلکہ ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل حملوں سے متعلق حقیقی وقت کی انٹیلی جنس معلومات بھی یو اے ای کے ساتھ شیئر کیں۔
ذرائع کے مطابق کچھ دفاعی نظام اب بھی آزمائشی مرحلے میں تھے یا مکمل طور پر اسرائیلی ریڈار نیٹ ورک سے منسلک نہیں تھے، جس سے اس تعاون کی فوری نوعیت ظاہر ہوتی ہے۔
برطانوی اخبار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وسیع تر علاقائی کشیدگی کے دوران ایران نے یو اے ای پر 500 سے زائد بیلسٹک میزائل اور 2000 سے زیادہ ڈرونز داغے، جن میں سے زیادہ تر کو مختلف دفاعی نظاموں کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا۔
تاہم ان حملوں نے امریکہ، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے دفاعی ذخائر پر دباؤ بڑھا دیا ہے، کیونکہ جدید انٹرسیپٹر میزائل نہایت مہنگے اور وقت طلب ہوتے ہیں۔
موجودہ صورتحال کے بعد کم لاگت اور زیادہ مؤثر دفاعی ٹیکنالوجی کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق چھوٹے سائز اور کم حرارتی نشان رکھنے والے ڈرونز کو روکنا مشکل ہوتا ہے، جس کے لیے نئی ٹیکنالوجیز، خاص طور پر لیزر سسٹمز، زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔