• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی سیاسی اور معاشی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی اس ملک نے مفاہمت، تدبر اور اجتماعی فیصلوں کے ذریعے راستہ نکالا ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ابتدائی برسوں میں وسائل کی کمی، انتظامی مسائل اور مہاجرین کی آبادکاری جیسے بڑے چیلنجز سامنے آئے، مگر اس کے باوجود ملک نے اپنے ادارے قائم کیے اور معیشت کو چلانے کی کوشش جاری رکھی۔ بعد ازاں 1960ء کی دہائی میں صنعتی ترقی اور زرعی اصلاحات کے ذریعے معیشت کو استحکام دینے کی کوشش کی گئی، جبکہ 1970ء کی دہائی میں قومیانے کی پالیسیوں نے معیشت کی سمت کو بدل دیا۔ 1990ء کی دہائی کے معاشی بحران ہوں، 2008ء کے مالیاتی دباؤ یا پھر کورونا وبا کےبعد کی عالمی کساد بازاری، پاکستان نے ہر چیلنج کا تدبر و حکمت سےسامنا کیا۔ آج ایک بار پھر ملک نازک معاشی مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں آئندہ بجٹ محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ سیاسی استحکام، وفاقی ہم آہنگی اور معاشی بحالی کا امتحان بھی ہے۔ ملکی تاریخ گواہ ہےکہ جب بھی سیاسی قوتوں نے باہمی تعاون اور مفاہمت کا راستہ اختیار کیا، ملک میں استحکام پیدا ہوا۔یہی وجہ ہے کہ آج بھی سیاسی ہم آہنگی کو معاشی بحالی کیلئے ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔اس وقت حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ایک طرف عوام کو ریلیف دیا جائے اور دوسری جانب عالمی مالیاتی اداروں کے تقاضے بھی پورے کیے جائیں۔

خطے میں جاری کشیدگی، مشرق وسطیٰ کی صورتحال، تیل و گیس کی قیمتوں میں عالمی اضافہ اور تجارتی دباؤ نے پاکستان جیسے صارف ملک کیلئے مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ چنانچہ مہنگائی، توانائی کی قیمتیں اور مالیاتی دباؤ حکومت کیلئےایک حقیقی آزمائش بنی ہوئی ہے۔ بجلی، گیس، آٹا، چینی اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ عام آدمی کی زندگی مشکل بنا رہا ہے، جبکہ کاروباری طبقہ بھی بلند شرحِ سود اور پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے۔تاریخی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان نے کئی بار عالمی مالیاتی اداروں سے رجوع کیا۔ 1988ء کے بعد سے مختلف حکومتیں آئی ایم ایف پروگرامز کا حصہ بنتی رہیں تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا جا سکے اور مالیاتی خسارے پر قابو پایا جا سکے۔ تاہم ماہرین معیشت کا ماننا ہے کہ صرف قرضوں پر انحصار دیرپا حل نہیں بلکہ برآمدات میں اضافہ، صنعتی ترقی، ٹیکس اصلاحات اور مقامی سرمایہ کاری ہی معیشت کو پائیدار بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔

مشرقی ایشیا کے کئی ممالک، خصوصاً ملائیشیا اور جنوبی کوریا، نے بھی معاشی بحرانوں کے بعد اصلاحات، برآمدات اور صنعتی پالیسیوں کے ذریعے ترقی کی۔ پاکستان کیلئے بھی یہی راستہ مؤثرہے۔تاہم اس تمام صورتحال میں ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ سیاسی قوتیں کم از کم معاشی استحکام کے معاملے پر کسی حد تک ایک دوسرے کی ضرورت بن چکی ہیں۔ حالیہ دنوں میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہبازشریف کی ملاقات کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو پارلیمانی اور سیاسی استحکام کیلئے پیپلز پارٹی کی حمایت درکار ہے، جبکہ پیپلز پارٹی بھی یہ چاہتی ہے کہ وفاقی فیصلوں میں سندھ کے مفادات اور صوبائی خودمختاری کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر موجود ہے کہ آنیوالے بجٹ اور آئینی معاملات میں کوئی اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔خاص طور پر اٹھائیسویں ترمیم کے حوالے سے مختلف سیاسی آراء سامنے آ رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ اگر کوئی آئینی یا مالیاتی تبدیلی ہو تو اس سے سندھ سمیت صوبوں کے حقوق متاثر نہ ہوں۔ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ اٹھائیسویں ترمیم پاکستان کی وفاقی سیاست میں ایک سنگِ میل ہے، جس نے صوبوں کو مالی اور انتظامی اختیارات دیے۔ اس ترمیم کے بعد این ایف سی ایوارڈ اور وسائل کی تقسیم کے معاملات میں صوبوں کا کردار زیادہ مضبوط ہوا۔ اسی لیے آج بھی صوبائی خودمختاری کا معاملہ ملکی سیاست میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ دوسری جانب حکومت اب معیشت کوبتدریج دستاویزی شکل دینے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اگرچہ اس سفر میں مشکلات ضرور ہیں، لیکن ڈیجیٹل نظام، بینکنگ چینلز کے فروغ اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے جیسے اقدامات مستقبل میں مثبت نتائج دے سکتے ہیں۔ ماضی میں بھی جب پاکستان نے اصلاحات کے عمل کو تسلسل سے جاری رکھا تو معیشت بہترہوئی۔

2000ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں بینکاری نظام کی جدید کاری، ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر میں سرمایہ کاری اور نجی شعبے کے فروغ نے معاشی سرگرمیوں کو تقویت دی تھی۔ اسی دور میں پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا۔ آج بھی ضرورت اسی بات کی ہے کہ قلیل المدت سیاسی فائدے کے بجائے طویل المدت معاشی استحکام کو ترجیح دیجائے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ حکومت کو آئیڈیل معاشی حالات نہیں ملے۔ قرضوں کا بوجھ، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ، بے روزگاری اور عالمی مالیاتی منڈی کی غیر یقینی صورتحال نے فیصلوں کو مشکل بنا دیا۔ اس کے باوجود اگر حکومت کاروباری طبقے کا اعتماد بحال کرنے، صنعتوں کو سہولت دینے، زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور عام آدمی کو تدریجی ریلیف فراہم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو آئندہ بجٹ معاشی بحالی کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب ایک بڑی معاشی طاقت بن سکتا ہے، بشرطیکہ تعلیم، ٹیکنالوجی اور ہنر مندی کے شعبوں پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے۔پاکستان کی معیشت کو اس وقت محاذ آرائی نہیں بلکہ سیاسی ہم آہنگی، پالیسیوں کے تسلسل اور حقیقت پسندانہ فیصلوں کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتیں قومی مفاد کو ترجیح دیں اور معیشت کو دستاویزی بنانے کے عمل میں تمام طبقات کو شامل کیا جائے تو یہی بحران مستقبل کی مضبوط بنیاد بھی بن سکتا ہے۔ آنے والے دن شاید آسان نہ ہوں، مگر درست سمت میں کیے گئے فیصلے پاکستان کو معاشی استحکام، سیاسی توازن اور دیرپا ترقی کی طرف ضرور لے جا سکتے ہیں۔

تازہ ترین