سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وفاقی وزیر انور سیف اللّٰہ خان کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا بریت کا فیصلہ بحال کر دیا۔
سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کا 13 جون 2002ء کا بریت کا فیصلہ بحال کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر انور سیف اللّٰہ کی سزا کے خلاف نظرِ ثانی کی درخواست منظور کر لی۔
عدالت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ماضی کے کسی فعل پر بعد کے قانون کے تحت زیادہ سزا نہیں دی جا سکتی۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انور سیف اللّٰہ پر 1996ء کے الزامات کے تحت 1999ء کے نیب آرڈیننس کا اطلاق غلط تھا۔
سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ استغاثہ رشوت یا قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا ثبوت پیش نہ کر سکا، محض انتظامی بے ضابطگی مجرمانہ بدنیتی ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں، نظرِ ثانی میں ریکارڈ پر واضح غلطی کی اصلاح عدالت کا فرض ہے۔
واضح رہے کہ انور سیف اللّٰہ خان پر 1996ء میں بطور وفاقی وزیرِ پیٹرولیم او جی ڈی سی ایل میں غیر قانونی تقرریوں کا الزام تھا۔