• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاریخ وار ہی دیکھ لیں کہ یہ تو شروع ہی مزدوروں کے دن سے ہے۔ کیسے کیسے لوگ تھے، بشیر بختیار، مرزا ابراہیم کےعلاوہ ہر ادارے کے مزدور اپنی یونین بناتے اور پھر سب لوگ جس میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہوتے، کوئی پولیس گارڈ (ضیاء الحق کے زمانے میں بھی) یا انہیں روکنے والا یا ان پر دفعہ 144 نہیں لگا سکتا تھا، ساری سڑکیں، سارے چوک، مزدوروں کے قبضے میں رہتے، بھٹو صاحب نےاپنے زمانے میں ایسے یکم مئی منایا تھا کہ ہر شہر میں (معرکہ حق کی طرح) لوگ خود جلوس نکالتے اور مزدوروں کی بڑی آئو بھگت کی جاتی اور اب مزدور بہت ہیں، مگر لیڈر اس پائے کا نہیں کہ جن کو قوم نے تسلیم کیا ہو، سبب بھی یہ ہے کہ گزشتہ دو سال میں ہمارے ملک میں زیادہ تر دفعہ 144 ہی لگی رہی ہے۔ چاہے عید، بقرعید ہو، شاید حکومت عوام سے ڈرتی ہے۔

مہینہ آگے بڑھتا ہے تو 9مئی آجاتی ہے کہ اس وقت کے ایک افسر نےدوسروں سے مل کر منصوبہ بنایا، مگر جیسے ہر بزنس اور ہر تحریک میں سامنے کسی اور کو کردیا جاتا ہے، اس وقت تحریک انصاف کو آگے لگایا۔ سارے نقشے، ساری ترکیبیں، سارے مقامات باقاعدہ تیار ہوئے، عمران خان اور اس کے جیالوں کو باقاعدہ تیار کیا گیا، اسلحہ و دیگر آگ لگانے کے لوازمات فراہم کیے گئے۔ ہوا کیا، ویسا ہی جیسے ٹیپو سلطان کو شکست انگریزوں کی فوج نے دی تھی۔ اس طرح تحریک انصاف مع سربراہ کے پابند زنداں ہیں۔ پھر میں نے مصرعہ لکھا۔

’’یہاں سازشیں تو بہت ہوئیں، کوئی انقلاب نہ آسکا‘‘

9 مئی دیگر سازشوں کی طرح پاکستان کی تاریخ میں لکھی گئی، مئی ہی میں امریکہ، اسرائیل گٹھ جوڑ نے ایران پر حملہ کیا۔اور نوبل انعام والی نرگس ابھی جیل میں ہے۔ 10 مئی کو انڈیا پاکستان کی چار روزہ ہوائی لڑائی ہوئی۔ پاکستان کے فیلڈ مارشل نے ایسی تحریک چلائی کہ ایک دن میں انڈیا کے 6 جہاز مع پائلٹ آناً فاناً زمین دوز کردیے گئے۔ پوری قوم نے ایک سال بعد 10 مئی کو معرکہ حق کے طور پر والہانہ انداز میں منایا، پاکستان کے چپے چپے میں جوان اور بچوں کے معرکہ حق کے نعرے گونجتے رہے، مگر اب دونوں ممالک راکٹ فورس، اسٹیلتھ طیارے، میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ کوئی دن جاتا ہے کہ یہ عذاب پھر آئے۔2007میں 12 مئی کوکراچی شہر پورا جیل بنادیا گیاپرویز مشرف نے، بقول غازی صلاح الدین وہ کہیں باہر کے ملک سے آئے تھےاور رات 8 بجے تک ایئر پورٹ پر ہی پھنسے رہے۔ اس زمانے میں افتخار چوہدری اور وکیلوں کی تحریک اعتزاز احسن کی سربراہی میں چل رہی تھی۔ وہ تحریک بھی معرکہ حق کی طرح کامیاب رہی اور وکیلوں کی تحریک پر افتخار چوہدری بحال ہوگئے تھے۔ البتہ پرویز مشرف کی کشتی ڈوبنے والی تھی۔

تاریخ یاد دلائوں 1857کی جنگ آزادی سے پہلے روٹی کی تحریک مسلمانوں اور ہندوئوں نے مل کر چلائی۔ یہ انگریزوں کے ظلم و ستم کے خلاف تھی۔ اسی زمانے میں ریشمی رومال کی تحریک بھی تھی کہ یہ وہ زمانہ تھاجب نہ ریڈیو تھا نہ اخبار، نہ وہ سارے میڈیا کے عوامل جنہیں آج کل ہر حکومت اپنی تعریف کیلئے اور دشمنوں کے خلاف استعمال کرتی ہے۔

انگریزوں کے عتاب کا حوالہ ساری دنیا کی تاریخ میں جلی حروف میں ہے کہ کیسے جلیانوالہ باغ میںسینکڑوںلوگ جمع تھےان پر گولی ایسی چلی کہ وہاں موجود کنواں بھی لاشوں سے بھر گیا تھا۔ دیواروں پر گولیوں کے اتنے گہرے اور بڑے نشانات ہیں کہ انگریز کے جانے کے بعد، جلیانوالہ باغ کو باقاعدہ محفوظ کیا گیا اور مشہور شخصیات کے نام لکھے گئے، جلیانوالہ باغ چونکہ گولڈن ٹیمپل کی پشت پر ہے، اس لیے بیشتر لوگ دونوں جگہوں پر جاتے ہیں اور بچوں کو انگریزوں کی زیادتیوں کے حوالے سناتے ہیں۔

ابھی مئی ختم نہیں کہ ابھی واقعات میرے سامنے ہیں۔ ایبٹ آباد، خوب صورت شہر، یہاں کم از کم 6 سال سے اسامہ بن لادن، مع اپنی دو بیویوں اور بچوں کے ساتھ رہ رہے تھے،کسی سے ملتے جلتے نہیں تھے،وہاں ان کا نام بھی کسی کو معلوم نہ تھا۔ البتہ ہماری ایجنسیوں کو نہ صرف معلوم تھا بلکہ حکومت کے سینئر ارکان بھی جانتے تھے، یہ ساری معلومات خفیہ تھیں۔ امریکہ اور پاکستانی اداروں کے درمیان مکالمہ بھی شاید ہوتا تھا۔2 مئی کی شام کو رات 11 بجےپورے شہر کی بجلی بند ہوگئی اور اگلے دن صبح پوری دنیا کو پتہ چلا کہ چار ہیلی کاپٹر آئے تھے، ایک خراب ہوکر گر پڑا، باقی نے جو جوہر دکھائے وہ ساری دنیا اپنے کمپیوٹر پر دیکھ چکی ہے، اسامہ بن لادن کو اغوا کرکے (کچھ لوگ کہتے ہیں بوری میں بند کرکے) لے گئے۔ سنا ہے کہ بوری میں لاش سمندر میں پھینک دی گئی بعد کی کہانی بھی ساری دنیا کو معلوم ہے۔

انگریزوں کی حکومت نے مئی کے مہینے میں ہی سلطان ٹیپو کو گھیرا ڈال کے ایسے مارا کہ وہ آخری سانس تک لڑتا رہا۔ اسی زمانے میں مشہور محاورہ تھا ’’شیر کی ایک دن کی زندگی، گیدڑ کی سو سال کی زندگی سے بہتر ہے‘‘، ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ہائوسنگ فراڈ بھی مئی میں عریاں ہوا۔ 6 مئی سے ون کانسٹیٹیوشن ٹاور کا ڈرامہ چلا کہ وہاں کےبرسوں سے رہنے والوں کو رات ایک بجے اٹھاکر کہا گیا کہ آپ فلیٹ خالی کریں، کل 284 فلیٹ ہیں، ان میں سے 260 فلیٹوں کی ملکیت تو معلوم ہوگئی، باقی فلیٹ کس کے ہیں، سب جانتے ہیں۔

تازہ ترین