• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی: سانحہ گل پلازا، پولیس چالان مسترد، ڈی ایس پی رینک کے افسر کو تفتیشی افسر مقرر کرنے کا حکم

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کراچی کی عدالت نے سانحہ گل پلازا کیس میں پولیس چالان مسترد کردیا۔ عدالت نے ڈی ایس پی رینک کے افسر کو تفتیشی افسر مقرر کرنے کا حکم دیا ہے۔ 

عدالت نے ریمارکس دیے کہ انسانی جانیں ممکنہ مجرمانہ غفلت کے باعث ہوئیں، ذمہ داروں کا تعین ناگزیر ہے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے کیس کا تفصیلی حکم نامہ جاری کردیا جس میں قرار دیا کہ تفتیشی افسر نے واقعے کے مکمل اور پہلوؤں پر موثر تفتیش نہیں کی، تفتیشی افسر اداروں کی مجرمانہ غفلت کی تحقیقات میں ناکام رہا ہے۔

اس میں کہا گیا کہ تفتیشی افسر سے پوچھا گیا کیا کمشنر کی رپورٹ پولیس فائل میں موجود ہے؟ تفتیشی افسر نے منع کیا لیکن حیران کن طور پر رپورٹ پولیس فائل کا حصہ تھی۔

عدالت نے حکم نامے میں کہا کہ 70 سے زائد قیمتی جانیں کسی قدرتی آفات کے نتیجے میں نہیں گئیں، گل پلازا میں سیفٹی اور رولز کی خلاف ورزی کا تعین نہیں کیا گیا، انسانی جانیں ممکنہ مجرمانہ غفلت کے باعث ہوئیں، ذمہ داروں کا تعین ناگزیر ہے۔

اس میں کہا گیا کہ سرکاری وکیل کے مطابق پولیس چالان کی اسکروٹنی کے بعد ناقص ہونے کی نشاندہی کی گئی، تفتیشی افسر نے دو بار چالان واپس کرنے کے باوجود نقائص دور نہیں کیے۔ عدالت پولیس کی تفتیش من وعن تسلیم کرنے کی پابند نہیں ہے۔

حکم نامہ میں کہا گیا کہ کیس کی مزید تحقیقات کی ضرورت ہے، ڈی ایس پی رینک کے افسر کو تفتیشی افسر مقرر کریں، تفتیشی افسر گل پلازا کا منظور شدہ نقشہ اور ریگولرائیزیشن حاصل کرے، ریکارڈ کا اصل اسٹرکچر کے ساتھ موازنہ کیا جائے۔

عدالت نے حکم نامہ میں کہا کہ تفتیشی افسر جائزہ لے کہ 1102 دکانیں 1153 میں کیسے تبدیل ہوئیں، ایس بی سی اے کے ذمہ داران افسران کی نشاندہی کی جائے۔

اس میں مزید کہا گیا کہ سول ڈیفنس سے فائر سیفٹی انسپیکشن کا ریکارڈ حاصل کیا جائے، تفتیشی افسر مارکیٹ کمیٹی، سول ڈیفنس سے معلومات حاصل کرے، کے ایم سی اور ضلعی انتظامیہ سے فائر آڈٹ اور انسپیکشن رپورٹ لی جائیں۔ ٹریفک پولیس کے کردار کا بھی جائزہ لیا جائے۔

خیال رہے کہ کراچی کے مصروف علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں 17 جنوری کی رات لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں عمارت زمین بوس ہو گئی تھی۔ آگ پر 33 گھنٹوں بعد بھی قابو نہ پایا جاسکا تھا۔

افسوسناک واقعے میں 86 افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ 1200 سے زائد دکانیں جل کر خاکستر ہو گئیں۔

قومی خبریں سے مزید