پشاور ہائی کورٹ نے کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں گرفتار ملزم کی علاج کےلیے دائر ضمانت کی درخواست احتساب عدالت بھجوادی۔
عدالت عالیہ کے جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس انعام اللّٰہ خان نے درخواست پر سماعت کی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ کیس احتساب عدالت میں زیر سماعت ہے، اس پر رائے نہیں دینا چاہتے۔
درخواستگزار کے وکیل نے کہا کہ درخواستگزار کو کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں گرفتار کیا گیا ہے، وہ اس وقت پشاور سینٹرل جیل میں ہیں اور علیل ہیں۔
انہوں استدعا کی کہ سینٹرل جیل میں مناسب علاج ممکن نہیں، علاج کی بنیاد پر ضمانت دی جائے۔
اسپیشل پراسیکیوٹر نیب نے عدالت میں بتایا کہ علاج کی بنیاد پر ضمانت کی درخواست میں نیب کو نوٹس جاری نہیں ہوا جس پر عدالت نے کہا کہ درخواست میں متعلقہ محکمے کو نوٹس ضروری نہیں، یہ درخواست گزار کا آئینی حق ہے۔
اسپیشل پراسیکیوٹر نیب کا کہنا تھا کہ درخواستگزار نے احتساب عدالت میں بھی ضمانت کی درخواست دائر کی ہے، درخواست میں میڈیکل بورڈ رپورٹ اور چیک اپ کی استدعا کی گئی ہے، ضمانت کی نہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں نہیں لکھا کہ جیل میں علاج ممکن نہیں، رپورٹ میں چیک اپ کی ہدایت کی گئی ہے، جو فراہم کی جا رہی ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ احتساب عدالت اس درخواست پر فیصلہ کرے، اس مرحلے پرکوئی رائے نہیں دینا چاہتے۔