ستارہ محض فلکیاتی مظہر نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر استعارہ ہے۔ ایسا استعارہ جو صدیوں سے انسانیت کی رہنمائی کرتا آیا ہے۔ یہ وہ علامت ہے جو تاریکیوں میں سمت کا تعین ، بھٹکے ہوؤں کو منزلِ مقصود تک لے جاتی اور جستجو کرنے والوں کو کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے۔ اسی معنوی وسعت کے پیش نظر ”ستارہ“ ان نابغہ روزگار شخصیات کیلئے بھی مستعمل ہے جو اپنی انفرادیت،جراتِ رندانہ، دیانتِ بے مثال اور کردارکی تابندگی کے باعث دنیا میں مثال خود بن جاتی ہیں۔ یہ وہ نفوسِ قدسیہ ہوتے ہیں جو نہ صرف اپنے بلکہ ہر عہد کی فکری و عملی رہنمائی کرتے ہیں۔میرے مرحوم والد شیخ حمید الٰہی، انہی نادر و نایاب انسانوں میں سے تھے جن کی زندگی محض ایک ملازمت نہیں بلکہ اصولوں کی ایک تابندہ داستان تھی ایسی داستان جسکے ہر ورق سے صداقت، جرات اور دیانت کی خوشبو بکھرتی تھی۔وہ ایک درخشاں سول افسر تھے، جنہوں نے اپنی پوری ملازمت میں اقتدار کے ایوانوں میں رہتے ہوئے بھی کبھی اپنے ضمیر کا سودا نہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر کے منصب سے لے کر متروکہ وقف املاک بورڈ اور دیگر اعلیٰ اداروں کے سیکرٹری تک ، ہر جگہ انہوں نے ایک ایسی مثال قائم کی جسے آج کے دور میں تلاش کرنا دشوارہے۔دھمکیاں ملیں، دبائوآیا، مراعات کے دروازے کھلے لیکن وہ شخص جس نے سادگی، عاجزی اور سچائی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہو، وہ کیسے جھک سکتا تھا؟
ان کی جرات کا ایک اور منظر اس وقت سامنے آیا جب وہ میانوالی میں تعینات تھے۔ اس وقت کے گورنر نواب کالا باغ کے صاحبزادے اسد اللہ خان رات کی تاریکی میںتشریف لائے۔انکا مقصد قانون اور انصاف کے اصولوں سے متصادم تھا،میرے والد نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ ”کام کا وقت صبح ہوتا ہے، صبح دفتر میں تشریف لائیے۔“ یہ انکار صرف ایک شخص کو نہیں، بلکہ ایک پورے غیر منصفانہ نظام کو تھا۔ اس کا نتیجہ بھکر تبادلے کی صورت میں نکلا، مگر اس وقت کے معروف ڈپٹی کمشنر چوہدری بشیر کے اصرار پر معذرت نہ کی، سفارش نہ ڈھونڈی۔ وہ خاموشی سے اپنے اصولوں کے ساتھ بھکر روانہ ہو گئے۔لاہور میں بطور اسسٹنٹ کمشنر جنرل خدمات کے دوران، انہیں ممتاز سول سرونٹ مختار مسعود کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ اس دور میں شہر کی فلاحی اور تاریخی سرگرمیوں میں ان کا کردار نہایت نمایاں تھا۔ مسجد شہداء کے قیام سے لے کر مینارِ پاکستان کی تزئین و آرائش تک، وہ پسِ منظر میں رہ کر ایسے کاموں کی نگرانی اور تکمیل میں بھرپور حصہ لیتے رہے۔ یہ وہ خدمات تھیں جن میں نام کی نمود نہیں، بلکہ کام کی صداقت و دیانت اہم تھی۔مگر جب مختار مسعود صاحب کا تبادلہ بطور سیکرٹری جنرل RCD ریجنل کارپوریشن ڈیولپمنٹ تہران ہوا اور نئے کمشنر آئے، تو مزاج بدل گیا۔ دیانت، اصول پسندی اور سختی ان کیلئے قابلِ قبول نہ تھی۔ نتیجتاً والد صاحب کو کینٹ منتقل کر دیا گیا۔اس زمانے میں کینٹ لاہور سے دور، گویا ایک الگ ہی دنیا سمجھا جاتا تھا۔ ہم وہاں منتقل ہو گئے،تاہم اصول اور جرات وہی رہی اورایمانداری سے کام کرتے رہے۔ان کی زندگی کا ایک روشن باب وہ واقعہ ہے جب بطور سیکرٹری متروکہ وقف املاک بورڈ، اس وقت کے وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں ایک پلاٹ بطور انعام پیش کیا مگر والد صاحب نے نہایت عاجزی، وقارکے ساتھ اسے واپس کر دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ’’جب میرے پاس اس پلاٹ پر گھر بنانے کے وسائل ہی نہیں، تو یہ میرے لیے بوجھ کے سوا کچھ نہیں۔ اور جو کچھ میرے والد نے مجھے دیا ہے، وہی میرے لیے کافی ہے۔“یہ محض ایک انفرادی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک عہد کی گواہی تھا۔ اس واقعے کے چشم دید گواہ اس زمانے کے معروف صحافی مصطفی صادق ،سابق وزیراعظم جناب معراج خالد اور سابق وفاقی وزیر شیخ رشید بھی تھے، جنہوں نے اس کردار کی عظمت کو نہ صرف سراہا بلکہ اسے تحریری صورت میں بھی محفوظ کیا۔ بعدازاں نامور کالم نگاروں ،اینکرز اور جناب حسن نثار نے بھی اپنے کالموں میں اس واقعے کو بارہا اجاگر کیا، یوں یہ صرف ایک ذاتی یاد نہ رہی بلکہ دیانتداری کی ایک روشن مثال بن کر عوامی حافظے کا حصہ بن گئی۔
ہم تین بھائی تھے۔مختلف ا سکولوں اور کالجوں میں زیرِ تعلیم،مگر والد صاحب کی تربیت کا ایک پہلو ایسا تھا جس نے ہمیں اندر سے تراش دیا۔ سرکاری وسائل کے استعمال کے معاملے میں وہ اس قدر سخت تھے کہ ہمیں کبھی سرکاری گاڑی استعمال کرنے کی اجازت نہ تھی۔ حتیٰ کہ والدہ محترمہ بھی عید کے موقع پر خریداری کیلئے جانا چاہتیں تو سرکاری گاڑی کے بجائے ٹیکسی استعمال کرتی تھیں۔ ان کے نزدیک سرکاری وسائل امانت تھے اور امانت میں خیانت کا تصور بھی ان کیلئے ناقابلِ برداشت تھا۔اسی طرح گھریلو زندگی میں بھی انہوں نے ہمیں خود انحصاری کا درس دیا۔ ہمیں سکھایا گیا کہ اپنے جوتے خود صاف کریں، اپنے کپڑے خود استری کریں، اپنے ذاتی کام اپنے ہاتھوں سے انجام دیں۔ ملازمین کو ہماری ذاتی خدمت کی اجازت نہ تھی۔ اس وقت یہ سب ہمیں ایک طرح کی سختی محسوس ہوتی تھی، مگر وقت نے ثابت کیا کہ یہی تربیت ہماری اصل دولت تھی۔
آج جب وہ ہمارے درمیان نہیں ، تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے گھر کی دیواروں سے روشنی اٹھ گئی ہو۔ وہ صرف ایک باپ نہیں تھے، وہ ایک ادارہ تھے۔ایک درسگاہ، جہاں ہمیں سچ بولنا، حق پر ڈٹنا اور حلال پر قناعت کرنا سکھایا گیا۔آج ان کی برسی کے موقع پر، دل اشکبار ہے مگر فخر سے معمور بھی کہ ہمیں ایسے باپ کا سایہ نصیب ہوا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائے، اور ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔آمین۔
چند اشعارازارہِ عقیدت:
دیانت کا چراغ ایسا جلایا اس نے
کہ اندھیروں میں بھی رستہ دکھائی دیتا ہے