• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کا قیام برصغیر کے مسلمانوں کی ایک طویل اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ یہ جدوجہد صرف ایک الگ وطن کے حصول کی کوشش نہیں تھی بلکہ مسلمانوں کے سیاسی، مذہبی، معاشرتی اور تہذیبی تشخص کے تحفظ کی تحریک بھی تھی۔

برصغیر میں مسلمانوں نے تقریباً ایک ہزار سال تک حکومت کی، لیکن مغلیہ سلطنت کے زوال اور انگریزوں کی آمد کے بعد مسلمانوں کی سیاسی طاقت بتدریج کم ہوتی گئی۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد مسلمانوں کے حالات مزید خراب ہوگئے اور انہیں سیاسی، معاشی اور تعلیمی میدانوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

1857ء کی جنگِ آزادی

1857ء کی جنگِ آزادی برصغیر کی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھی۔ اس جنگ میں ہندوؤں اور مسلمانوں نے مل کر انگریز حکومت کے خلاف مزاحمت کی، لیکن ناکامی کے بعد خاص طور پر مسلمانوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انگریز حکومت نے مسلمانوں کو بغاوت کا بنیادی ذمہ دار سمجھا اور ان کے خلاف سخت پالیسیاں اختیار کیں۔ مسلمانوں کی جاگیریں ضبط کی گئیں، سرکاری ملازمتوں میں ان کی نمائندگی کم ہوگئی اور تعلیمی میدان میں بھی وہ پیچھے رہ گئے۔

ایسے مشکل حالات میں مسلمانوں کو ایک ایسے رہنما کی ضرورت تھی جو انہیں جدید تعلیم کی طرف راغب کرے اور ان میں سیاسی شعور پیدا کرے۔ سر سید احمد خان نے یہ اہم کردار ادا کیا۔

سر سید احمد خان کی خدمات

سر سید احمد خان نے مسلمانوں کی ترقی کے لیے تعلیمی اصلاحات کو بنیادی اہمیت دی۔ انہوں نے مسلمانوں کو جدید علوم حاصل کرنے کی ترغیب دی اور علی گڑھ میں ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا جو بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بنا۔ علی گڑھ تحریک نے مسلمانوں میں ایک نئی سیاسی اور فکری بیداری پیدا کی۔

سر سید احمد خان نے یہ احساس اجاگر کیا کہ ہندو اور مسلمان دو مختلف قومیں ہیں، جن کے مذہب، تہذیب، روایات اور معاشرتی اقدار ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان کے خیالات نے بعد میں دو قومی نظریے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔

مسلم لیگ کا قیام

1906ء میں ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ قائم ہوئی۔ اس جماعت کا مقصد ہندوستان کے مسلمانوں کے سیاسی حقوق کا تحفظ اور ان کی سیاسی آواز کو مضبوط بنانا تھا۔ ابتدا میں مسلم لیگ برطانوی حکومت کے ساتھ تعاون کے ذریعے مسلمانوں کے حقوق حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کے سیاسی مطالبات میں تبدیلی آتی گئی۔

مسلمانوں کو یہ احساس ہونے لگا کہ متحدہ ہندوستان میں ہندو اکثریت کے باعث ان کے سیاسی اور معاشرتی حقوق محفوظ نہیں رہیں گے۔ اسی احساس نے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ سیاسی مستقبل کی ضرورت کو مزید واضح کیا۔

قائداعظم محمد علی جناح کا کردار

قائداعظم محمد علی جناح نے تحریکِ پاکستان کو منظم اور مضبوط بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ ابتدا میں وہ ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے اور دونوں قوموں کے درمیان تعاون کے لیے کوشش کرتے رہے، لیکن بعد کے سیاسی حالات نے انہیں اس نتیجے تک پہنچایا کہ مسلمانوں کے مفادات ایک علیحدہ سیاسی نظام کے بغیر محفوظ نہیں ہوسکتے۔

1930ء کی دہائی میں قائداعظم نے مسلم لیگ کو ایک مضبوط سیاسی جماعت میں تبدیل کیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو متحد کیا اور انہیں اپنے سیاسی، معاشرتی اور معاشی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے کا شعور دیا۔ ان کی قیادت میں مسلمانوں نے ایک واضح مقصد اختیار کیا اور تحریکِ پاکستان ایک عوامی تحریک بن گئی۔

علامہ محمد اقبال کا تصور

علامہ محمد اقبال نے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کے تصور کو فکری بنیاد فراہم کی۔ 1930ء میں خطبۂ الہٰ آباد میں انہوں نے شمال مغربی ہندوستان کے مسلم اکثریتی علاقوں کو ایک سیاسی وحدت کی صورت میں منظم کرنے کا تصور پیش کیا۔ اقبال کا خیال تھا کہ مسلمانوں کو اپنی مذہبی، تہذیبی اور سیاسی اقدار کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے ایک ایسا خطہ درکار ہے جہاں وہ اپنی اجتماعی زندگی کو آزادانہ طور پر ترقی دے سکیں۔

علامہ اقبال کے افکار نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور سیاسی شعور پیدا کیا اور قائداعظم کی قیادت میں تحریکِ پاکستان کو فکری قوت فراہم کی۔

1937ء کے انتخابات اور کانگریسی وزارتیں

1937ء کے انتخابات کے بعد کئی صوبوں میں کانگریس کی حکومتیں قائم ہوئیں۔ مسلم لیگ نے کانگریسی حکومتوں کے بعض اقدامات کو مسلمانوں کے لیے تشویش کا باعث قرار دیا۔ اس دور میں مسلمانوں میں یہ احساس مزید مضبوط ہوا کہ ہندو اکثریت کے زیرِ اثر متحدہ ہندوستان میں ان کی مذہبی اور تہذیبی شناخت کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

مسلم لیگ نے مسلمانوں کو منظم کیا اور انہیں ایک مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم فراہم کیا۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کی سیاسی حمایت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

قراردادِ لاہور 1940ء

تحریکِ پاکستان میں 23مارچ 1940ء ایک تاریخی دن کی حیثیت رکھتا ہے۔ لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تاریخی اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں مسلم اکثریتی علاقوں کے لیے آزاد ریاستوں کا مطالبہ پیش کیا گیا۔ یہ قرارداد بعد میں قراردادِ پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی۔

قراردادِ لاہور نے مسلمانوں کی جدوجہد کو ایک واضح سمت دی۔ اب مسلمانوں کا مقصد محض سیاسی حقوق حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنے لیے ایک الگ سیاسی مستقبل قائم کرنا تھا۔ قائداعظم نے مسلمانوں کو متحد رکھنے اور ان کے مطالبے کو سیاسی طور پر منوانے کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔

1940ء سے 1947ء تک جدوجہد

قراردادِ لاہور کے بعد تحریکِ پاکستان میں تیزی آگئی۔ قائداعظم نے برصغیر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور مسلمانوں کو مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر متحد کیا۔ طلبہ، علماء، خواتین، تاجر، مزدور اور عام مسلمان سب نے تحریک میں اپنا کردار ادا کیا۔

1945-46ء کے انتخابات میں مسلم لیگ نے مسلمانوں کی نشستوں پر شاندار کامیابی حاصل کی۔ اس کامیابی نے واضح کردیا کہ برصغیر کے مسلمانوں کی بڑی تعداد مسلم لیگ اور قائداعظم کی قیادت پر اعتماد کرتی ہے۔ برطانوی حکومت کو بھی یہ احساس ہوگیا کہ ہندوستان کا سیاسی مسئلہ صرف ایک متحدہ ریاست کے قیام سے حل نہیں ہوسکتا۔

آخرکار برطانوی حکومت نے ہندوستان کی آزادی اور تقسیم کا منصوبہ پیش کیا۔ قائداعظم کی انتھک جدوجہد اور مسلمانوں کی مسلسل قربانیوں کے نتیجے میں 14 اگست 1947ء کو پاکستان ایک آزاد ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید