بھارت کی ریاست مہاراشٹرا میں میرٹھ کے مشہور بلو ڈرم قتل کیس سے ملتا جلتا ایک ہولناک واقعہ سامنے آیا ہے، ایک خاتون نے اپنے شوہر، بھائی اور اس کے دوست کے ساتھ مل کر اپنے عاشق کو قتل کر دیا اور لاش ڈرم میں بند کر کے نالے میں پھینک دی۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مقتول کی شناخت ارباز مقصود علی خان کے نام سے ہوئی ہے، جو تھانے کے علاقے ممبرا کا رہائشی تھا، 3 اپریل کو ارباز گھر سے یہ کہہ کر نکلا تھا کہ وہ کام کے سلسلے میں دادَر جا رہا ہے، تاہم وہ واپس نہ آیا۔
اہلِ خانہ کی تلاش کے باوجود جب ارباز کا کوئی سراغ نہ ملا تو اس کے والد نے ممبرا پولیس اسٹیشن میں گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی، پولیس نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے کال ریکارڈز اور لوکیشن ڈیٹا کا جائزہ لیا، جس سے معلوم ہوا کہ ارباز کی آخری لوکیشن وسئی کے علاقے میں تھی۔
تحقیقات کے دوران پولیس کو مقتول کی گرل فرینڈ مہ جبین شیخ پر شک ہوا، جس کے بعد اسے حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی گئی۔
ایڈیشنل کمشنر آف پولیس پریا دھانکنے کے مطابق ابتدائی طور پر مہ جبین نے کچھ بتانے سے انکار کیا، تاہم سخت تفتیش پر اس نے اعتراف کیا کہ اس نے اپنے شوہر، بھائی اور اس کے دوست کے ساتھ مل کر ارباز کو قتل کیا۔
پولیس کے مطابق ملزمان کا مقصد ارباز سے رقم بٹورنا تھا، لیکن جب وہ کامیاب نہ ہو سکے تو انہوں نے ارباز کے ہاتھ باندھ کر اسے پلاسٹک کے پائپ سے تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں قتل کر دیا، لاش کو ایک سبز رنگ کے ڈرم میں بند کر کے ممبرا کے قریب نالے میں پھینک دیا۔
پولیس نے مہ جبین اور اس کے بھائی طارق شیخ کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ خاتون کا شوہر حسن اور اس کا ساتھی تاحال مفرور ہیں، پولیس کے مطابق طارق شیخ کے خلاف پہلے بھی کئی مقدمات درج ہیں۔
واقعے کا مقدمہ قتل، مجرمانہ سازش اور دیگر دفعات کے تحت درج کر لیا گیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔