کراچی سے منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی کو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔
ملزمہ انمول عرف پنکی کو چہرہ ڈھانپ کر سخت سیکیورٹی میں سٹی کورٹ کراچی لایا گیا اور 4 پرانے مقدمات میں جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا۔
ملزمہ انمول عرف پنکی نے پیشی کے دوران شور شرابا کیا اور الزام لگایا کہ مجھ پر تشدد کیا جا رہا ہے۔
جج نے ملزمہ کو یقین دہائی کروائی کہ عدالت میں آپ کو کوئی ہراساں نہیں کر سکتا، آپ سانس لیں، میں آرام سے آپ کی مکمل بات سنوں گا، وکیل اور ملزمہ کا مکمل مؤقف سنا جائے گا۔
ملزمہ کے وکیل نے کہا کہ کورٹ روم کا دروازہ بند کر دیں، ملزمہ کو 15 مئی کو پیش کرنا چاہیے تھا، 22 دن ہو گئے ہیں کبھی کہاں تو کبھی کہاں لے کر جا رہے ہیں۔
جج نے ریمارکس دیے کہ میں کورٹ کا دروازہ بند نہیں کر سکتا، میں آپ کی مکمل بات سنوں گا، ملزمہ کو بغدادی تھانے میں درج ایف آئی آر نمبر 147 میں پیش کیا گیا ہے، جتنے انویسٹی گیشن آفیسر ہیں عدالت میں رہیں۔
عدالت نے ملزمہ سے استفسار کیا کہ آپ کا نام کیا ہے، آپ کی طبعیت اب ٹھیک ہے؟جس پر ملزمہ نے جواب دیا کہ میرا نام انمول ہے، میرے خلاف 20 سے 25 پرچے ڈالے جا رہے ہیں، کہا جا رہا ہے کہ سب کچھ قبول کریں ورنہ آپ کی فیملی کو اٹھا کر لے جائیں گے، مجھے وین میں لاہور سے لے کر آئے ہیں، 3 دن سے پوری فیملی پر پرچے کاٹے جارہے ہیں، تالہ توڑ کر مجھے فلیٹ میں سے اٹھا کر میری آنکھوں پر پٹی باندھ کر لے گئے تھے، جب گرفتاری کی ویڈیو بنائی گئی اس وقت میری آنکھوں پر پٹی تھی، اگر میں پہلے سے وہاں تھی تو آنکھوں پر پٹی کہاں سے آئی؟
عدالت نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ ملزمہ کا پہلا آرڈر کہاں ہے؟ نظرِ ثانی اور جوڈیشل مجسٹریٹ کے پرانے دونوں آرڈر پیش کریں، تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ پہلا آرڈر پولیس موبائل میں موجود ہے، جج نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ یہ انویسٹی گیشن ہے آپ کی؟ 3 دن ریمانڈ ملا تھا، کیس میں کیا پیش رفت ہے؟
تفتیشی افسر نے بتایا کہ 7 لوگ گرفتار کیے ہیں، ملزمہ ٹال مٹول سے کام لے رہی ہیں، ملزمہ کی نشاندہی پر ریکوری ہو رہی ہے، 3 کیسز ہیں معزز عدالت کو صحیح طرح سمجھا نہیں سکا، ملزمہ آج تک نہیں پکڑی گئی بہت عرصے سے کام کر رہی ہے، یونیورسٹیوں میں نسلیں تباہ کر دی گئی ہیں، 800 افراد کے نمبر ملے ہیں جن کو منشیات سپلائی کر رہی تھی، اس نے اپنا برانڈ بنایا ہوا ہے، ملزمہ کے گینگ میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔
تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ ملزمہ کی نشاندہی پر ان کے رائیڈرز کو گرفتار کرنا ہے، ان تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوئے، ملزمہ کے بھائی پر 6 مقدمات پہلے کے ہیں ملزمہ پر پرانے کیسز ہیں، چھوٹا بھائی لاہور سے منشیات کا نیٹ ورک چلاتا ہے، ابھی ان کے سہولت کاروں کو گرفتار کرنا ہے۔
عدالت نے سوال کیا کی کیس میں موجود جو بندہ مر گیا ہے اس کا کیا ہے؟ افسر نے بتایا کہ ابھی تک نامعلوم ہے فنگر پرنٹ بھیجے ہوئے ہیں۔
ملزمہ کے وکیل نے کہا کہ 15 مئی کو ملزمہ کو پیش کرنا تھا، جس پر تفتیشی افسر نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں 3 دن کا لکھا ہوا ہے، جج نے ریمارکس دیے کہ 16 مئی کی صبح پیش کیا گیا ہے، 3 دن کا ریمانڈ واضح تھا میرے حساب سے ٹھیک پیش کیا، اگر پیر کو پیش کرتے تو شوکاز ہوتا۔
پنکی کے وکیل کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی نے کہا ہے کہ ملزمہ اتنے عرصے سے کام کر رہی ہے، اگر ہر چیز ہے ان کے پاس، تو پہلے کیوں گرفتار نہیں کیا، اصل بندے ان کے ہاتھ نہیں آتے ہیں، دوسروں کو پکڑ لیتے ہیں، قتل کیس دیکھیں قتل کی تاریخوں میں تضاد ہے، ملزمہ لاہور میں تھی یہ جعلی کیس ہے، بدنیتی پر مبنی ہے۔
تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزمہ نے اپنا برانڈ بنایا ہوا ہے وہ ڈبیاں ملی ہیں، وکیل نے کہا کہ پولیس نے اپنی طرف سے ملزمہ کا برانڈ بنایا ہوا ہے، ساری منشیات پہلے سے رکھی ہوئی تھی، سارے جعلی کیسز ہیں، کسی پرانے کیس میں نام نہیں ہے، عدالتی ریمانڈ پر بھیجا جائے۔
پنکی نے عدالت میں بیان دیا کہ مجھے 22، 23 دن پہلے لاہور سے 6 پولیس اہلکاروں نےاٹھایا، 15 دن اپنے پاس رکھا 5 دن پہلے لے کر آئے، عدالت نے کہا کہ آپ نے اس وقت شور شرابہ کیوں نہیں کیا، انمول پنکی نے کہا کہ مجھ پر تشدد کیا جارہا تھا، میں بے گناہ ہوں میں نے کچھ نہیں کیا، میرا سابق شوہر یہ سب کچھ کرا رہا ہے۔
عدالت نے سوال کیا کہ آپ کا سابق شوہر وہ سب کیوں کر رہا ہے؟ اس پر ملزمہ نے کہا کہ کیونکہ میں نے اس کو چھوڑ دیا ہے، مجھے 3 ماہ پہلے اس نے چھوڑا تھا، جج نے استفسار کیا کہ خلع لی ہے یا طلاق دی تھی، ملزمہ نے کہا کہ طلاق دی تھی، نکاح رجسٹرڈ نہیں تھا۔
تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزمہ کے پہلے شوہر نے 14 سال پہلے چھوڑا، یہ سابق شوہر کے سارے کلائنٹ لے کر آ گئی ہے، ایک ڈی ایس پی لاہور کے ہیں ان سے بھی شادی کی تھی، ان کے وائس میسجز ان کے کلائنٹس نے لیک کیے ہیں، ہم نے نہیں، ان کے موبائل سے منشیات بنانے کی ویڈیوز ملی ہیں، 12 مئی کو وکیل نے ملزمہ کے بھائی سے لاہور میں بات کرائی ہے، ملزمہ کے بھائی نے کہا ہے کہ معاملات خراب ہیں سب بھاگ گئے ہیں، ملزمہ بہت ہی شاطر ہے، بار بار بیان بدل رہی ہے، ملزمہ نے ابھی آتے ہوئے کہا کہ مجھے جانتے نہیں ہو، میرا نام پنکی ہے۔
عدالت نے ملزم کامران سے سوال کیا کہ آپ موبائل ایپ منی ٹرانسفر اکاؤنٹ چلاتے ہیں؟
تفتیشی افسر نے کہا کہ دونوں بھائی موبائل ایپ منی ٹرانسفر کی دکان چلاتے ہیں، 3 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی ہیں۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ ملزمہ کا جسمانی ریمانڈ ضروری ہے، عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزمہ پنکی کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
عدالت نے کہا کہ ملزمہ کو لے جائیں، ریمانڈ کی درخواست پر کچھ دیر بعد فیصلہ کریں گے، جس وکیل نے ملزمہ سے بات کرنی ہے یہیں کریں کسٹڈی باہر مت لے جائیں۔
عدالت سے واپسی پر لیڈی پولیس اہلکار بار بار ملزمہ کا چہرہ ڈھانپنے کی کوشش کرتی رہیں، ملزمہ بار بار چہرے سے کپڑا ہٹا کر بولنے کی کوشش کرتی رہی، جبکہ کسٹڈی لےجاتے ہوئے ملزمہ پولیس پر چیخنے بھی لگی۔
ملزمہ انمول نے کہا کہ میرا دم گھٹ رہا ہے میرے منہ پر چادر نہ ڈالیں، عدالت نے کہا کہ آپ چادر اوڑھ لیں تاکہ کوئی آپ کو تنگ نہ کرے، ملزمہ کے وکیل نے کہا کہ ہمیں ملزمہ کے ساتھ باہر بیٹھنے دیا جائے، عدالت نے کہا کہ سیکیورٹی کا معاملہ ہے کیسے آپ کو باہر بیٹھنے کی اجازت دیں؟
پولیس ملزمہ پنکی کو ڈیوٹی مجسٹریٹ وسطی کی عدالت میں پیش کرنے کے لیے لے گئی، ملزمہ انمول عرف پنکی کو ایس آئی یو کے مقدمے میں ریمانڈ کے لیے پیش کیا جائے گا۔