• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دو ایک دفعہ ایسا ہوا کہ میرا کالم لکھنے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔ میں نے کالم کا آغاز ہی اپنی ذہنی کیفیت کے بیان سے کیا اور اتفاق یہ کہ وہی کالم ہٹ ہو گئے ، جس پر دوستوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یار! آئندہ تم کالم لکھا ہی اس وقت کرو جب تمہارا کالم لکھنے کو جی نہ چاہ رہا ہو۔ آپ یقین کریں کہ میں نے کل سے یہ پروگرام بنایا ہوا تھا کہ میں آج کالم نہیں لکھوں گا۔ تنگ آ گیا ہوں روز ایک جیسے موضوعات پر کالم لکھتے لکھتے ۔ چنانچہ کل میں بکر منڈی چلا گیا۔ بکرا خریدنے کیلئے نہیں بلکہ ذرا شوشا بنانے کیلئے۔ چنانچہ کئی لوگوں نے پوچھا ” قاسمی صاحب !کتنے بکرے خریدنے کا پروگرام بنا کر آئے ہیں؟“ میں اس دوران جان بوجھ کر صرف ان بکروں کو ٹٹول ٹٹول کر دیکھ رہا تھا آڑھتی جن کی قیمت لاکھوں میں بتا رہے تھے۔ اس سے دیکھنے والوں پر اور زیادہ رعب پڑ رہا تھا۔

اس دوران میری نظر ایک بکرے پر پڑی، کیا حسین و جمیل بکر ا تھا۔ نازک اندام سا، تھوڑی سی زنانہ جھلک بھی نمایاں تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ کئی بکرے اسے رشک کی نظروں سے دیکھ رہے تھے اور ایک آدھ کو تو میں نے اسے معیوب نظروں سے بھی دیکھتے دیکھا۔ میں آڑھتی کے پاس گیا اور پوچھا ” سناؤ بھئی! کتنے پیسے مانگو گے اور کتنے میں دے دو گے؟“ میں نے محسوس کیا کہ وہ میری بات پر دھیان کم دے رہا ہے اور مجھے دیکھتا زیادہ چلا جا رہا ہے۔ کچھ لمحے کے بعد اس نے مجھے مخاطب کیا اور کہا ” آپ ٹی وی پر کوئی پروگرام بھی کرتے ہیں؟“ میں اس کے سوال پر حیران ہو گیا اور کہا ہاں ، کھوئے ہوؤں کی جستجو کے عنوان سے ایک پروگرام کرتا تھا ۔اب نہیں کرتا۔بولا ”آپ کے تو سب جاننے والے ہوں گے۔آپ مجھے کسی پروگرام میں بطور مہمان بھیج سکتے ہیں ؟‘‘ میں نے جواب دیا ” ان میں مختلف شعبوں کے بڑے نامور لوگوں کو بلایا جاتا ہے ورنہ میں آپ کی سفارش ضرور کرتا‘‘۔ بولا ” آپ مجھے کیا سمجھتے ہیں؟“ میں نے جواب دیا ” آڑھتی ! ‘‘ اس پر یہ ستم ظریف کہنے لگا ’’ میں نے آپ کے پروگرام میں ایک دو دفعہ مختلف شعبوں کے آڑھتی بھی دیکھے ہیں؟“ میں نے کھسیانا ہو کر کہا ”ممکن ہے آپ ٹھیک کہتے ہوں مگر وہ اپنے شعبے کے بہت مشہور آڑھتی ہوں گے۔‘‘ بولا ” تو آپ مجھے کیا سمجھتے ہیں؟ یہاں کسی سے بھی پوچھیں معراج دین آڑھتی کو جانتے ہو؟ وہ آپ کو بتائے گا میں کون ہوں۔ میں جناب سارے پاکستان کے آڑھتیوں کی انجمن کا صدر ہوں !“

میں نے سوچا موضوع بدلنا چاہئے ۔ چنانچہ کہا ” اس موضوع پر آپ سے پھر بات کرتے ہیں، پہلے یہ بتائیں آپ اس بکرے کا کیا لیں گے؟‘‘اس پر وہ ناراضی کے عالم میں بولا ” جناب! آپ نے اسے بکرا کہا ہے۔ یہ شہزادہ ہے شہزادہ ‘‘۔ میں نے کہا ’’ٹھیک ہے، شہزادے کا کیا لو گے؟“ پیشتر اس کے کہ میں بات آگے چلاتا ، اس نے کہا ” میں آپ کو بتا دوںکہ یہ شہزادہ جو آپ کے سامنے کھڑا ہے بڑے بڑے اونچے خاندانوں کے رشتے اس کیلئے آتے ہیں مگر یہ انکار کر دیتا ہے۔“ یہ سن کر میری ہنسی چھوٹ گئی۔ میں نے کہا’’ بکریوں میں بھی اعلیٰ خاندان پائے جاتے ہیں؟ ‘‘بولا ” آپ میرے ساتھ لبرٹی چلیں۔ وہاں بڑے بڑے خاندان کی بکریاں شاپنگ کیلئے آئی ہوں گی‘‘۔ میں نے اسے ٹوکا اور کہا ’’بھائی آپ انھیں بکریاں تو نہ کہیں ۔‘‘ بولا ’’چلیں نہیں کہتا مگر میں نے ایک بکری پالی ہوئی ہے، وہ میں اپنے ساتھ لے جاؤں گا اسے بھی دیکھئے گا ، وہ اسے کسی بڑے خاندان ہی کی سمجھیے گا!‘‘

میں سمجھ گیا کہ یہ شخص آڑھتی کم اور مسخرہ زیادہ ہے، چنانچہ میں نے اس سے اجازت چاہی اور ابھی جانے ہی کو تھا کہ میرے کانوں میں ایک آواز آئی ” حضور! ایک آدھ نظر ادھر بھی ڈال لیں‘‘ ۔ میں نے دیکھا تو یہ خوبرو بکرا تھا جس کیلئے بہت معزز گھرانوں کے رشتے آئے تھے مگر وہ انکار کرتا رہا ہے۔ میں نے کہا ” بولو سر کار !“ اس پر اس نے بایاں ہاتھ ہوا میں لہرایا۔ تھوڑی سی کمر لچکائی اور بہت ناز و ادا سے بولا ” میں آپ کو کیسا لگا ہوں؟“‘ میں نے جواب دیا ایک دم شاندار اس نے پھر کمر لچکائی اور آنکھیں مٹکاتے ہوئے بولا ” اس معراج دین آڑھتی کو تو میری قدر ہی نہیں۔ یہ پرلے درجے کا بے وقوف ہے۔ یہ مجھے پیسے لے کر کسی سیٹھ کے پاس بیچ دے گا اور وہ میرے گلے پر چھری پھیر دے گا۔اس گدھے کو علم ہی نہیں کہ میں کون ہوں ، کیا ہوں ؟ اس کو تو اس وقت بھی سمجھ نہیں آتی جب میں اچھے اچھے رشتوں سے انکار کرتا ہوں ۔ میں کیوں کسی کی زندگی خراب کروں۔ میں پہلے کچھ بن تو لوں ، پھر شادی بھی کرلوں گا۔ یہ سن کر معراج دین آڑھتی دوبارہ میرے پاس آگیا اور بولا ’’آپ کو اس کی باتوں کی کچھ سمجھ آئی ؟“ میں نے مسکراتے ہوئے کہا ” کچھ کچھ سمجھ تو آ گئی ہے، باقی آپ سمجھا دیں“ بولا ’’یہ کہتا ہے کہ اس کے کئی بھائی بند اس وقت صف اوّل کے فیشن ڈیزائنر ہیں اور وہ کروڑوں میں کھیل رہے ہیں۔ ان میں کئی صف اول کے اینکر بھی ہیں اور اس کا خیال ہے کہ اس میں وہ ساری جسمانی اور ذہنی صلاحیتیں موجود ہیں جو ان میں ہیں ۔ آپ ہی اسے سمجھا ئیں ؟“

میں نے ایک نظر اس نازک اندام خوبرو بکرے کو دیکھا اور اس کی اداؤں کو دھیان میں لایا اور معراج دین سے کہا ” یہ ٹھیک کہتا ہے۔ مجھے جب کبھی موقع ملا اس کی خواہش کی تکمیل کیلئے کوشش کروں گا۔“ یہ سن کر اس نازک اندام اور نازک اداؤں والے بکرے نے کچھ ایسی مست نظروں سے مجھے دیکھا کہ چند لمحوں کیلئے مجھے محسوس ہوا کہ میرا تعلق بھی اسی کے قبیلے سے ہے!

تازہ ترین