افغان طالبان کے برسراقتدار آنے سے پہلے جب پاکستان میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی تو نصیراللہ بابر نے مغربی ممالک کے سفیروں سے کہا کہ وہ کوئٹہ سے ہرات تک سڑکیں تعمیر کرنےکیلئے 300ملین ڈالر جمع کرنا چاہتے ہیں۔ 28اکتوبر 1994ء کو وزیراعظم بینظیر نے ترکمانستان کے دارالحکومت اشک آباد میں کمانڈر سردار اسماعیل خان اور جنرل عبدالرشید دوستم سے ملاقات کی اور مغربی روٹ تجارت کیلئے کھولنے کے عوض ٹول ٹیکس ادا کرنے کی پیشکش کی۔
اس دوران ایک اور اہم پیشرفت یہ ہوئی کہ 12اکتوبر1994ء کو 200افغان طالبان پر مشتمل ایک دستے نے اسپن بولدک کے علاقے پر دھاوا بول دیا ۔یہ علاقہ ہمیشہ غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا ہے کیونکہ کوئٹہ سے چمن کے راستے جو بھی تجارتی سامان افغانستان جاتا ہے ،اسے یہیں سے کنٹرول کیا جاتا ہے اور ٹیکس بھی وصول کیا جاتا ہے۔یہاں تیل کا ڈپو اور ٹرانسپورٹ کا بہت بڑا اڈا تھا جس کا انتظام حکمت یار کی حزب اسلامی نے سنبھال رکھا تھا۔چند گھنٹوں کی لڑائی کے بعد طالبان نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا اور حکمتیار کے لوگ بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ اسلحہ کا بہت بڑا ذخیرہ بھی طالبان کے ہاتھ لگ گیا جس میںلگ بھگ 18ہزار کلاشنکوف رائفلیں بھی تھیں۔
بینظیر بھٹو کے وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر نے فیصلہ کیا کہ مزید سرمایہ کاری سے پہلے آزمائشی طور پر ٹرکوں کا ایک قافلہ مغربی روٹ پر روانہ کیا جائے۔چنانچہ 29اکتوبر 1994ء کو افواج پاکستان کے ادارے نیشنل لاجسٹکس سیل کا 30ٹرکوںپر مشتمل کانوائے جن پر ادویات لادی گئی تھیں ،چمن کے راستے اشک آباد روانہ ہوا۔ افواج پاکستان کے 80ریٹائر ڈرائیور اس کانوائے کا حصہ تھے اور اسکی قیادت کرنل سلطان عامر تارڑ کر رہے تھے جو کرنل امام کے نام سے مشہور ہوئے۔ دوطالبان کمانڈر ملا بورجان اور ملا ترابی بھی کانوائے کے ساتھ تھے۔
یہ وہی ملا بورجان ہیں جنکے بارے میں برطانوی خاتون صحافی Carlotta Gall نے اپنی کتاب ’’Wrong enemy‘‘ میں لکھا کہ فتح کابل کے وقت ملا بورجان نے سابق افغان صدر ڈاکٹر نجیب کو قتل کیا۔ بعدازاں ملا بور جان کو کوئٹہ سے کابل واپس جاتے ہوئے اپنے ہی کشمیری محافظ نے مار ڈالا۔ بہرحال ہم واپس اپنی کہانی کی طرف لوٹتے ہیں ،قندھار سے 12کلومیٹر پہلے تخت پل کے مقام پرتین جہادی کمانڈروں عامر لالئی ،منصور اچکزئی اور استادحلیم نے اس پاکستانی کانوائے کو روک لیا اور ٹرکوں کو قریبی گاؤں لیجا کر کھڑا کردیا ۔ان کمانڈروں کے تین مطالبات تھے کہ مال میں سے حصہ دیا جائے،نقد رقم فراہم کی جائے اور پاکستان طالبان کی مدد کرنے سے باز آجائے ۔ تین دن تک کرنل امام ان کمانڈروں سے مذاکرات کرتے رہے اور اس دوران یہ اہتمام کیا گیا کہ کانوائے اغوا کئےجانے کی خبر باہرنہ نکلنے پائے کیونکہ اس سے پاکستان کی سبکی ہوگی۔
احمد رشید نے اپنی کتاب ’’طالبان‘‘ کے صفحہ نمبر 51پر ایک پاکستانی عہدیدار کے حوالے سے لکھا ہے کہ ہمیں یہ پریشانی تھی کہ منصور ان ٹرکوں پر اپنی طرف سے اسلحہ لاد دے گا اور پھرپاکستان پر الزام لگایا جائیگا۔چنانچہ ہم اس کانوائے کو بازیاب کروانے کیلئے تمام عسکری آپشنز پر غور کر رہے تھے مثال کے طور پر SSGکمانڈوز کے ذریعے آپریشن کیا جائے یا پھر اس جگہ چھاتہ بردار اُتار کر کارروائی کی جائے۔چونکہ یہ سب آپشنز بہت خطرناک تھے اس لئے ہم نے طالبان کو یہ ٹاسک دیا کہ اس کانوائے کو چھڑوایا جائے۔ 3نومبر1994ء کو طالبان نے اس جگہ دھاوا بول دیا ۔جہادی کمانڈر یہ سمجھ کر بھاگ نکلے کہ پاک فوج نے حملہ کردیا ہے۔کمانڈر منصور اچکزئی کا پیچھا کرکے اسے قتل کردیا گیا اور طالبان نے اسکی لاش ٹینک کی بیرل سے لٹکا دی۔
اسی دن طالبان نے قندھار کا مکمل انتظام سنبھالنے کا فیصلہ کیا۔جہادی کمانڈرملا نقیب نے لڑے بغیر ہی ہتھیار ڈال دیئے ،یوں طالبان نے ملک کے دوسرے بڑے شہر پر قبضہ کرکے اپنی دھاک بٹھادی۔قندھار پر قابض ہونے سے نہ صرف اسلحے کی بہت بڑی مقدار ہاتھ آگئی بلکہ بکتر بند گاڑیاں ،ٹینک اور ایئر پورٹ پر موجود مگ21جنگی ہیلی کاپٹر اور 6مگ 21ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر بھی طالبان کے تصرف میں آگئے۔ نصیر اللہ بابر نے فتح قندھار کا مکمل کریڈٹ لیتے ہوئے صحافیوں کو آف دی ریکارڈ بتانا شروع کردیا کہ They are our boys۔ 16نومبر1994ء کو طالبان نے غیر جانبداریت ظاہر کرنے کی کوشش کی،ملا غوث نے کہا کہ مستقبل میں ایسے تجارتی قافلے بھیجنے ہوں تو پاکستان ہمیں بائی پاس نہ کرے اور کسی کمانڈر سے انفرادی طور پر مک مکا نہ کیا جائے۔طالبان نے مغربی روٹ پر اپنی حاکمیت قائم کردی۔دسمبر 1994ء میں وسط ایشیائی ریاستوں سے تجارتی قافلے کی پہلی کھیپ تب پاکستان پہنچی جب روئی کے 50ٹرک ترکمانستان سے کوئٹہ پہنچنے اور انکے عوض طالبان کو 5ہزار ڈالر ٹول ٹیکس ادا کیا گیا۔
طالبان کی طاقت بڑھنے لگی تو حکومت پاکستان پر دباؤ میں بھی اضافہ ہونے لگا۔فروری 1995ء میں وزیراعظم بینظیر بھٹو کو منیلا میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہنا پڑا کہ افغانستان میں ہمار ا کوئی فیورٹ نہیں اور ہم افغانستان میں مداخلت کے حق میں نہیں ،جب پاکستان کے قبائلی علاقوں سے طالبان کی ریکروٹمنٹ سے متعلق سوال ہوا تو بینظیر نے کہا کہ برہان الدین ربانی کی جنگ ہم نہیں لڑ سکتے۔اگر افغان سرحد عبور کرنا چاہتے ہیں تو ہم انہیں کیسے روک سکتے ہیں؟طالبان کی پیشقدمی کاسلسلہ تیزی سے جاری تھا۔قندھار کا انتظام سنبھالنے کے بعد صرف تین ماہ کے مختصرعرصے میں طالبان افغانستان کے 31میں سے 12صوبوں پر قابض ہو چکے تھے۔اروزگان ،زابل اور پھر ہلمند طالبان کے کنٹرول میں آگیا۔5ستمبر1995ء کو طالبان نے ہرات پر قبضہ کرلیا اور کمانڈر اسماعیل خان کو وہاں سے فرار ہوکر ایران جانا پڑا۔طالبان کی پیشقدمی سے سب سے زیادہ نقصان حکمت یار کو اُٹھانا پڑا۔ طالبان نے حکمت یار کے ہیڈ کوارٹر ضلع چہار اسیاب پر قبضہ کرلیا جو کابل سے سات میل کے فاصلے پر تھا۔حکمت یار نے یہاں سے دارالحکومت جانے والی رسد روک رکھی تھی جسے طالبان نے بحال کردیا ۔