• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حدیقہ کیانی سے مجھے ہمیشہ ایک انجانی سی جڑت، شفقت اور روحانی قربت کا احساس رہا ہے۔اُس کی شخصیت میں جھلکتی ایک بے نیاز درویش، ملنگ اور صوفی روح مجھ سے کلام کرتی رہتی ہے۔حدیقہ کو سنتے ہوئے روح پر جو سرشاری اور وجدانی کیفیت اترتی ہے وہ محض موسیقی اور کلام کا اثر نہیں بلکہ آواز میں موجود کسی عطائے کرم کا فیضان محسوس ہوتی ہے۔

حدیقہ کی والدہ خاور راجہ پنجابی کی نہایت عمدہ شاعرہ تھیں۔گجرانوالہ کے ادبی اور شعری حلقوں میں اُن کے ساتھ مشاعرے پڑھنے کا شرف ملا تو اُن سے ایک بے تکلف محبت اور اپنائیت بھرا تعلق قائم ہو گیا ، وہ نہایت شفیق،نفیس، گیانی اور فلسفیانہ سوچ رکھنے والی روشن ضمیر اور شدید حساس خاتون تھیں،پھر زندگی اپنے اپنے دائرے کھینچتی چلی گئی، ہم بھی مصروفیات کی گرد میں گم ہو گئے اور خاور بھی وقت کی لہروں میں دور نکل گئیں۔

ٹیکسٹ بک بورڈ میں ملازمت کے دوران پنجابی کی ممتاز کہانی کار نائلہ صدف سے دوستی ہوئی تو اکثر خاور راجہ کا ذکر رہتا ۔ کئی بار خاور سے ملنے کے منصوبے بنائے اور مؤخر کئے جاتے رہے، زندگی کی الجھنیں اور مصروفیات ہمیشہ راستہ روکتی رہیں، یہاں تک کہ وہ خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔

حدیقہ کیانی کی شخصیت میں مجھے اُس دانشور، گیانی اور صوفی منش عورت کی تربیت، فکر اور خون پوری شدت کے ساتھ رواں دکھائی دیتا ہے۔ ہمارے ہاں بہت سے فنکار فلاحی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں مگر حدیقہ اُن سب میں منفرد اور نمایاں محسوس ہوتی ہے۔ اُس کی خدمت خلق میں نہ نمود کی خواہش دکھائی دیتی ہے، نہ سیاست کی آمیزش اور نہ کسی مفاد کی پرچھائیں، وہ ایک سچے، دردمند اور بیدار دل انسان کی طرح لوگوں میں اپنی گائیکی کے ذریعے روحانی مسرتیں بھی بانٹ رہی ہے اور ٹوٹے ہوئے بے آسرا انسانوں کو جینے کا حوصلہ بھی عطا کر رہی ہے۔حدیقہ کیانی صرف ایک ہر دلعزیز گلوکارہ نہیں بلکہ انسان دوستی، محبت اور سماجی خدمت کی ایک روشن علامت بلکہ مثال بن چکی ہے ۔ اُسے جب قومی اعزاز سے نوازا گیا تو مختلف سیاسی جماعتوں، ادبی حلقوں، فنکاروں، دانشوروں اور عوام کی جانب سے جس محبت سے اس اعزاز کو سراہا گیا وہ اٌس کی عمر بھر کی کمائی کا انعام اور اسکی صلاحیتوں کا اعتراف ہے ۔ اپنی آواز کے ساتھ اپنے کردار سے لوگوں کے دل جیتنے والی کی آواز میں مٹی کی خوشبو، انسانیت کا درد اور محبت کی عجب جادوئی تاثیر روحوں کو کیف وسرور عطا کرتی اور دلوں کو اجالتی ہے ، مگر اُسکی عظمت صرف اسٹیج یا موسیقی تک محدود نہیں، قدرتی آفات، زلزلوں، سیلابوں اور دیگر مشکل حالات میں وہ ہمیشہ متاثرہ لوگوں کی مدد کیلئے سب سے آگے دکھائی دیتی ہے۔ جب بہت سے لوگ صرف بیانات تک محدود رہتے ہیں۔

حدیقہ کیانی خود متاثرہ علاقوں میں لوگوں کے درمیان موجود ہوتی ہے۔ پنجاب ،بلوچستان کشمیر ، سندھ ، خیبرپختونخوا اور بلتستان میں سیلاب اور زلزلوں کے دوران اسکی دکھی لوگوں کی عملی دلجوئی کا ایک زمانہ معترف، گواہ اور دعا گو ہے۔ آفات کے ہاتھوں بے گھر ہو چکے خاندانوں کو چھت مہیا کرنا کوئی آسان کام نہ تھا مگر نیت اور جذبے کے اخلاص نے ممکن کر دیا۔حدیقہ کیانی کا کردار اس بات کی مثال ہے کہ فن کی ترویج اور تفریح فراہم کرنے والا فنکار معاشرے کی تعمیر اور انسانیت کی خدمت کا مؤثر ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔آج کے دور میں جب معاشرہ تقسیم، نفرت اور خود غرضی کا شکار دکھائی دیتا ہے، حدیقہ کیانی امید، آسرا ،محبت، شفقت اور خدمت کا استعارہ بن کر سامنے آتی ہے۔ اُسے ملنے والا اعزاز دراصل انسان دوستی، فن اور خدمتِ خلق کے اُس سفر کا اعتراف ہے جو وہ برسوں سے خاموشی اور خلوص کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے۔ایک اعزازاسے سرکار نے دیا اور ایک لوگوں نے ۔ اگر تمام صاحبِ حیثیت لوگ اور فنکار انسانوں کے دکھ بانٹنے اور زندگی کو بامقصد بنانے کی کوشش کریں تو دنیا جنت بن جائے۔ آخر میں خاور راجہ کے چند پنجابی شعر . ..

گلّ کدے نہ آکھ سکی میں، بلھاں اتے آئی ہوئی ،

چن سورج توں لُکدی پھردی ،واواں توں گھبرائی ہوئی ،

کوئی بوہا کُھلیا ناہیں مینوں دیکھ کے لوکیں لُکدے،

کدھر جاواں ؟ سوچ رہی آں، بند گلی وچ آئی ہوئی ،

وا دی پینگھ تے پتے وانگوں، ایدھراودھر جھوٹے کھاواں،

نہ کوئی میرا بابل ایتھے، نہ کوئی میری مائی ہوئی ،

دریا وی صحرا بن جاندے،میرے کولوں لنگھدے لنگھدے،

نھیرے دے وچّ لُک جاندی اے، رتّ رنگیلی چھائی ہوئی،

دکھ ودھ کے گھٹّ ہو جاندے نے، رات ہنھیری لنگھدی ناہیں،

روز ای ڈِگے بجلی گھر تے، مڑیؤں دل نوں لائی ہوئی ،

کالی گھٹ چھاوے نہ چھاوے، دن ہووے یا شاماں ہوون،

چن چمکے یا سورج، خاور تیرے کد رشنائی ہوئی ؟

تازہ ترین