ابھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین پر تبصروں کا سلسلہ تھما نہ تھا کہ چین کے قریبی اتحادی پڑوسی ملک روس کے صدر دوطرفہ دوستی کی پچیسویں سالگرہ منانے بیجنگ پہنچ گئے۔دنیا کے دو بڑےطاقتورعالمی سربراہانِ مملکت کے حالیہ دورہ چین سےمیرے ذہن میں مایہ ناز پاکستانی ادیب، شاعر، کالم نگار اور مزاح نگار ابن انشاء کی یاد تازہ ہوگئی، جب ساٹھ کی دہائی میں انکا مشہور سفرنامہ "چلتے ہو تو چین کو چلیے"شائع ہوا تھا تواس زمانے کا چین ایک نسبتاً پسماندہ، بند معیشت اور انقلابی اشتراکی ریاست سمجھا جاتا تھا، اُس وقت چین بیرونی دنیا سے الگ تھلگ تنہائی کا شکار تھا،اقوام متحدہ میں چین کی مستقل نشست پر کوئی اور قابض تھا، پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے وہ واحد غیرملکی ایئرلائن تھی جو چین تک رسائی رکھتی تھی، پاکستانی ہوائی جہاز جب چینی فضاؤں میں اُڑان بھرتے تھے تو چینی عوام اپنے ٹوٹے پھوٹے گھروں کی چھتوں کے اوپر سے حیرانی سے دیکھاکرتے تھے،عام چینی آدمی کی نظر میں پاکستان ہی باہر کی دنیاکا سب کچھ تھا، اس وقت دو بلاکوں میں بٹی عالمی برادری چین کومکمل نظرانداز کرتے ہوئےاپنی توجہ امریکہ اور سوویت یونین کی سرد جنگ پر مرکوزرکھے ہوئی تھی۔ تاہم آج اگر ابن انشاء زندہ ہوتے تو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے کہ اُن کے دور کا چین غربت و پسماندگی سے چھٹکارا پاکر اکیسویں صدی کی سب سے اہم اقتصادی، صنعتی ،عسکری اور ٹیکنالوجیکل سپر پاور کا روپ دھار چکا ہے، آج انکی نصیحت پرعمل پیرا ہوکر نہ صرف سپرپاورامریکہ کا صدر ٹرمپ خود چل کرچین آتا ہے بلکہ ماضی کی دوسری سپرپاور سویت یونین کے جانشین روس کا صدر پوتن بھی چین کی جانب چل رہاہے۔ تاریخی طور پر سرد جنگ کے ابتدائی دور میں ماؤ زے تنگ کی زیرقیادت عوامی جمہوریہ چین اپنے پڑوسی سویت یونین کا سب سے قریبی اتحادی ملک تھا، کمیونسٹ سوشلسٹ نظریات کے علمبردار ہونے کے ناطے دونوں ممالک امریکہ کے زیرسایہ مغربی سرمایہ دارانہ نظام سے خائف تھے، ماسکو نے چین کو صنعتی منصوبوں، دفاعی تعاون، تکنیکی مہارت اور مالی امداد فراہم کی جبکہ دونوں پڑوسیوں نے کوریائی جنگ سمیت کئی عالمی معاملات میں امریکی اثر و رسوخ کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کیا۔ تاہم نظریاتی مماثلت کے باوجود وقت بیتنے کےساتھ دونوں کمیونسٹ پڑوسیوں کے درمیان کچھ ایشوز پر غلط فہمیاں پیدا ہونا شروع ہوگئیں، بڑھتے ہوئے اختلافات ساٹھ کی دہائی میں چین اور سوویت یونین کی علیحدگی کا باضابطہ سبب بن گئے جسے عالمی سفارتی زبان میں سینو-سوویت سپلٹ کا نام دیا گیا،ایک عرصے تک دونوں کمیونسٹ پڑوسیوں کے درمیان شدید کشیدگی، محاذآرائی، چپقلش اور سرحدی جھڑپوں کی خبریں عالمی میڈیا کی زینت بنتی رہیں۔جب نوے کی دہائی میں سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد روس کو شدید معاشی، سیاسی، دفاعی اور سفارتی چیلنجز کا سامناکرنا پڑا تو چین اس وقت اپنی اقتصادی اصلاحات، کامیاب خارجہ پالیسی اور عالمی معیشت میں شمولیت کے سفر پر تیزی سے گامزن تھا، یہی وجہ تھی کہ گزشتہ صدی کے اختتام پرروس میں ولادی میر پوتن نے اقتدار سنبھالتےہی مغرب کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کیلئے چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات میں بہتری کی ٹھانی۔ اور پھرجولائی 2001ء کا وہ تاریخی لمحہ بھی آگیا جب روس اور چین کے صدورنے ٹریٹی آف گُڈ نیبرلی نیس اینڈ فرینڈلی کوآپریشن یعنی اچھی ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون کےدوطرفہ معاہدے پر دستخط کرکے عالمی سفارتی محاذ پرایک نیا بھونچال برپا کردیا،یہ معاہدہ محض سفارتی تعلقات کے رسمی اظہار تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں دفاع، تجارت، توانائی، سرحدی سلامتی، ٹیکنالوجی، ثقافت اور عالمی سیاست میں تعاون کے وسیع پہلو شامل کیے گئے، مذکورہ سمجھوتےکے بعد دونوں ممالک کے مابین سرحدی تنازعات سمیت مختلف ایشوز کو پُرامن انداز میں حل کرنے کی راہ ہموار ہوئی، دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت نےفیصلہ کیا کہ بدلتی عالمی سیاست میں ایک دوسرے کے قریب آنا مشترکہ مفادات کے حصول کیلئے ناگزیر ہے،دونوں ممالک نے اتفاق کیا کہ وہ ایک دوسرے کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے، عدم جارحیت اور داخلی معاملات میں عدم مداخلت ،پُرامن بقائے باہمی اور طویل المدتی دوستی کو فروغ دیں گے،اس معاہدے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ دونوں اطراف سے عالمی معاملات میں یکطرفہ غلبے کی بھرپورمخالفت کی گئی۔جب 2013ء میں شی چن پنگ چین کے صدر بنے توانہوں نےماسکو سے قریبی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچا نے کا ارادہ کیا جبکہ دوسری طرف روسی صدر پوتن نے بھی والہانہ انداز میں چین کو روس کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون قرار دیا، گزشتہ ایک دہائی کے دوران دونوں رہنماؤں کی درجنوں ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور وہ ایک دوسرے کو اپنا قریبی ،پرانا دوست قرار دیتے ہیں۔ آج دوطرفہ دوستی معاہدےکے پچیس سال بعدچین اقتصادی میدان میں روس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن چکاہے، جب روس کو مغربی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تو چین روس کے تیل ، گیس اور خام مال کا سب سے بڑا خریدار بن کر سامنے آیا، پاور آف سائبیریا گیس پائپ لائن منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی تعاون کی سب سے بڑی مثال ہے۔اسی طرح جب امریکہ نے چینی ٹیلی کام کمپنی پر پابندیاں عائد کیں توپوتن نے اُسی چینی کمپنی کوروس میں اپنا ٹیلی کام نیٹ ورک بچھانے کیلئے سازگارماحول یقینی بنایا،عسکری محاذپر بحرالکاہل، بحیرہ جنوبی چین اور آرکٹک خطے میں دونوں کا دفاعی تعاون مغربی طاقتوںکے عزائم میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔میری نظر میں پوتن کا پچیسواں دورۂ چین اس امر کی علامت ہے کہ ابن انشاء کے زمانے کا پسماندہ چین آج اکیسویں صدی میں عالمی سیاست کا محور بن چکا ہے، چین نے اپنی مستقل مزاجی سےثابت کردکھایا ہے کہ آج کی جدید دنیا کا انحصارمعاشی اثرورسوخ ، ٹیکنالوجی، انرجی، بندرگاہوں، تجارتی راہداریوں اور علاقائی رابطوں پر ہے، اگر کوئی ملک نیک نیتی سےاپنے قومی کاز سے مخلص رہتا ہے تو دنیا ایک دن خود چل کر اسکے در پر حاضر ہوتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ امریکی صدر ٹرمپ کی بیجنگ سے روانگی کے فوراََ بعد روسی صدر کی چین آمد دو پڑوسی ممالک کے مابین رسمی دوستی کا اظہار نہیں بلکہ اسٹرٹیجک تعاون میں اضافے، عالمی طاقت کے نئے توازن کی مشرق منتقلی اور مغربی غلبے کے مدمقابل ایک اُبھرتے ہوئے نئے متبادل عالمی نظام کی تشکیل کا بھی پیش خیمہ ہے، ہمیں اس وقت اپنے اردگرد تیزی سے بدلتے عالمی منظرنامے سے ہم آہنگ رہنے کیلئے متوازن سفارت کاری جاری رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔