(گزشتہ سے پیوستہ)
دفتر کے تمام راستے میں، میں نے اپنی پوری توانائیاں اس کوشش کیلئے وقف کر دیں کہ مجھ سے کوئی غیر معمولی حرکت سرزد نہ ہو پائے اور میں نے احتیاطاً ہر معمولی حرکت کو بھی غیر معمولی حرکات میں شامل کر لیا تھا۔ سو اللہ کا شکر ہے کہ میں دفتر تک بخیریت پہنچ گیا۔ میں صبح بھاری بھر کم ناشتہ کر کے گھر سے نکلا تھا، چنانچہ میں نے چھینک تو کیا، وہ ڈکار بھی بڑی مشکل سے روکے رکھا جو ناشتے کی رسید کے طور پر باہر آنا چاہتا تھا لیکن میری بد قسمتی کہ گاڑی سے اتر کر دفتر کی طرف جاتے ہوئے ایک کیلے کے چھلکے پر میرا پاؤں پھسلا۔ پیشتر اس کے کہ میں زمین پر گرتا مایوس خیالی نے مجھے دونوں ہاتھوں سے تھام لیا مگر اس کے بعد ان کی حالت غیر ہوگئی۔ مجھے لگا وہ کسی گہرے صدمے کی زد میں ہیں،چنانچہ میں گھبرا گیا۔
میں نے پریشانی کے عالم میں پوچھا ’’آپ ٹھیک تو ہیں؟‘‘وہ بہت نروس نظر آ رہے تھے، بولے’’میں تو بالکل ٹھیک ہوں ۔ تم ٹھیک ہو ؟‘‘ میں نے جواب دیا مجھے کیا ہوا ہے، میں ہر لحاظ سے بخیریت ہوں۔کہنے لگے’’نہیں تم ٹھیک نہیں ہو تمھیں چکر آیا ہے اور تم گرتے گرتے بچے ہو۔ یہ انتہائی خطرناک علامت ہے۔ اب میں تمہاری ایک نہیں سنوں گا۔ دفتر میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں، یہاں سے سیدھا ڈاکٹر کی طرف چلو۔ ‘‘اس مرتبہ میں نے انھیں بہت محبت سے سمجھایا کہ مجھے دفتر میں بہت ضروری کام نمٹانے ہیں لہٰذا اب آپ گھر جائیں، میں کل ڈاکٹر کو ضرور دکھاؤں گا لیکن ان پر میری کسی بات کا اثر نہ ہوا۔ وہ نہ صرف یہ کہ میرے ساتھ دفتر میں چلے آئے بلکہ میری کرسی کے ساتھ اپنی کرسی جما کر بیٹھ گئے اور اپنی نظریں مستقل مجھ پر مرکوز رکھیں۔اب اسے آپ اتفاق ہی کہہ سکتے ہیں کہ ملازم جب چائے اور بسکٹ لے کر آیا توغلطی سے میرا ہا تھ ٹرے پر لگ گیا جس سے سب ساز و سامان فرش پر گر گیا۔ اسی طرح ایک فون نمبر ملانے کی کوشش کرتے ہوئے میں نے دوسری طرف سے رانگ نمبر کی آواز سنی تو اپنے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہیں غلطی سے کہہ بیٹھا بس حافظہ کمزور ہو گیا ہے ۔ اسی طرح کے دو تین اور واقعات ہوئے جس پر مایوس خیالی کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا اور انھوں نے زبر دستی مجھے میری نشست سے اٹھایا اور دھکیلتے ہوئے گاڑی کی طرف لے گئے اور میرے ڈرائیور کو ایک نامی گرامی امپورٹڈ ڈاکٹر کی طرف چلنے کے لیے کہا۔ ڈاکٹر نے میرے دل، دماغ ، پھیپھڑوں ، جگر ، معدے اور خون کے بے شمار ٹیسٹ ،سی ٹی اسکین ، الٹرا ساؤنڈ اور ایکسرے لکھ کر دیئے ہیں اور مایوس خیالی بضد ہیں کہ میں یہ سب ٹیسٹ کراؤں ۔
مجھے مایوس خیالی کی محبت اور خلوص پر کوئی شبہ نہیں لیکن میں جانتا ہوں جو جسمانی عوارض حقیقی طور پر مجھے لاحق ہیں۔ میں ان کی طرف سے لا پروائی نہیں برتتا تا ہم ایک بیماری ایسی ہے جس سے میں تاحال محفوظ ہوں اور اس بیماری کا نام مایوسی ہے۔ مسائل خود کو بھی پیش آتے ہیں اور قوموں کو بھی ۔ مایوس ہو کر ہیجان کا شکار ہونے والے کسی منزل تک نہیں پہنچ سکتے ۔ ہماری ساری توجہ اصل بیماریوں اور ان کے تدارک پر مرکوز ہونا چاہئے۔ اگر ہم محض توہمات کو حقیقت سمجھ کر لرزہ بر اندام رہے تو اس کے نتیجے میں بھی وہی بربادی افراد اور قوموں کا مقدر بنتی ہے جو مسائل سے اغماض برت کر سمجھتے ہیں کہ وہ مسائل کو ٹالنے میں کامیاب ہو گئے ہیں حالانکہ بقول حبیب جالب :مسائل ایسے سائل ہیں جو ٹالے سے نہیں ٹلتے،یہ بات جہاں خوش فہم لوگوں کو سمجھانے کی ہے وہاں حضرت مایوس خیالی کے سمجھنے کی بھی ہے مگر یہ دونوں طبقے کب کسی کی سنتے ہیں؟