پاکستان کے طاقتور طبقات نے ہمیشہ ملک کی تقدیر کے فیصلے کرتے وقت یہاں کے دانشوروں اور عوامی نمائندہ سوچ کو اہمیت دینے کے بجائے وقتی اور جذباتی فیصلوں کو ترجیح دی، جن کا خمیازہ بارہا قوم اور ریاست دونوں کو بھگتنا پڑا۔ کبھی ون یونٹ کا تجربہ کیا گیا، کبھی مشرقی و مغربی پاکستان کے نام پر غیر فطری بندوبست قائم کیا گیا۔ آبادی کے لحاظ سے بنگال کی اکثریتی حیثیت تسلیم کرنے کے بجائے رقبے کی بنیاد پر بلوچستان کو وسائل میں زیادہ حصہ دیا گیا،جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا تو وہی حق پنجاب کی طرف منتقل کر دیا گیا، جسے بعد میں بلوچستان کے قوم پرست رہنماؤں نے پنجاب کے خلاف نفرت کے بیانیے میں استعمال کیا۔اگر ابتدا ہی سے صوبوں کو مضبوط اور بااختیار ریاستی اکائیوں کی شکل دی جاتی تو شاید احساسِ محرومی، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور مرکز کے خلاف ردعمل اس شدت سے جنم نہ لیتا، مضبوط ریاستی ڈھانچہ نہ صرف مقامی آبادی کو اپنے فیصلوں میں شریک کرتا ہے بلکہ انتظامی کارکردگی، احتساب اور ترقی کے عمل کو بھی زیادہ مؤثر بناتا ہے۔
ون یونٹ ناکام ہوا تو دوبارہ صوبائی حیثیت بحال کر دی گئی، مگر صوبوں کے گلے شکوے کبھی ختم نہ ہو سکے۔ وجہ یہ تھی کہ پاکستان کی تمام صوبائی اکائیاں، جو ہزاروں برس سے اپنی الگ زبان، ثقافت اور تہذیب کے ساتھ زندہ تھیں اور اپنی مرضی سے پاکستان کے جھنڈے تلے جمع ہوئی تھیں، کو تسلیم کرنے سے گریز کیا گیا، یہ سوچے بغیر کہ ایک مضبوط صوبہ دراصل مضبوط پاکستان کی علامت ہوگا مگر بادشاہت کے حامی حکمرانوں نے ہمیشہ مرکز کو زیادہ طاقتور اور صوبوں کو کمزور رکھنے کی پالیسی اپنائی۔ ساتھ ہی صوبوں کے درمیان بداعتمادی اور نفرت کو بھی ہوا دی گئی تاکہ عوام آپس کی لڑائیوں میں الجھے رہیں اور حکمرانوں سے سوال و احتساب نہ کر سکیں۔قیامِ پاکستان کے بعد مختلف قومیتوں کی زبانوں اور ثقافتوں کو کمزور کرنے کی بھرپور کوششیں کی گئیں، مگر نہ زبانیں ختم ہو سکیں اور نہ ثقافتوں کے رنگ ماند پڑے۔تاہم دیگر صوبوں کے مقابلے میں پنجاب ایک مختلف نوعیت کے استحصال کا شکار رہا۔ ’بڑے بھائی‘ اور ’وحدت کے ٹھیکیدار‘ کے نام پر اسے ہر حکومتی فیصلے اور قانون سازی میں اس انداز سے استعمال اور پیش کیا گیا کہ باقی صوبوں کے دلوں میں پنجاب کے خلاف نفرت پیدا ہوتی رہی جبکہ اصل طاقت کہیں اور موجود تھی۔ریاستی ڈھانچہ اس فاصلے اور بیگانگی کو بڑھاتا رہا تاکہ تمام اکائیاں متحد ہو کر طاقت نہ بن سکیں،اس دوران مشرف کی ضلعی حکومتوں کا نظام اس لحاظ سے بہتر تھا کہ اگر یہ جاری رہتا تو اختیارات نچلی تک منتقل ہوتے اور عوام کی ترقی و خوشحالی ممکن ہوتی،تاہم یہ سلسلہ بھی ختم کر دیا گیا۔ اب ایک نیا شوشہ گردش میں ہے کہ مزید صوبے بنا کر تقسیم در تقسیم کا سلسلہ شروع کیا جائے،صوبوں کو مزید کمزور اور لوگوں کو دور کرنے کی کوشش ہے، یہ راستہ کسی طور پاکستان کے حق میں نہیں ہو گا، پنجاب پہلے ہی تقسیم کے زخموں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، وہ دوبارہ ایسی کسی تقسیم کا درد برداشت نہیں کرئیگا اور ایسی سیاست کرنے والی جماعتیں اپنی ساکھ کھو دیں گی۔
پاکستان کی بقا، استحکام اور ترقی اسی میں ہے کہ اسے حقیقی وفاق بنایا جائے۔ ایسا وفاق جہاں صوبوں کو نیم خودمختار ریاستوں کی حیثیت دی جائے۔ دفاع، کرنسی اور خارجہ پالیسی وفاق کے پاس رہے، جبکہ باقی اختیارات صوبائی ریاستوں کے سپرد ہوں، وہ مرکز کی طرف دیکھنے کی بجائے خود محنت اور کوشش کریں ،شاید اسی تصور کے تحت پاکستان ایک زیادہ مضبوط، مطمئن اور متحد ملک بن کر آگے بڑھ سکے ۔ ایک حقیقی ریاست ہائے متحدہ پاکستان، ہم نے امریکہ سے بہت دوستی نبھائی ہے اب ان کے نظام سے بھی کچھ اخذ کرلیں تو کیا ہی اچھا ہو۔