• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلاشبہ وہ مرد اور خواتین صحافیوں کا سب سے بڑا اجتماع تھا اور سب کی اپنی اپنی کہانیاں تھیں، ذاتی تجربے تھے جوانہوں نے خاص طور پر خواتین صحافیوں نے کھل کر اور پراعتماد طریقے سے بیان کیے، تمام تر کالے قوانین دھونس دھمکیوں کا سامنا کرنے کے باوجود انکے اندر خوف نہیں امید تھی۔ کسی کا تعلق ملتان سے تھا، کسی کا کوئٹہ سے، کے پی، گلگت، بلتستان اور آزاد کشمیر سے تو کسی کا سندھ کے مختلف شہروں سے۔ صحافی کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی رہا ہے کہ وہ سب کے دکھ درد، معاشرے کی ناانصافیاں سامنے لاتا ہے مگر خود اپنا درد بیان نہیں کرسکتا ۔ اسلام آباد میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس(پی ایف یوجے) کے تحت ہونیوالے خواتین جرنلسٹس اور قومی کنونشن ایک کامیاب کوشش تھی جسکے ایک درجن سے زائد سیشنز میں کئی ان کہی کہانیاں سامنے آئیں کچھ قابل بیان ہیں کچھ ناقابل بیان۔ سچ پوچھیں تو مجھے انگریزوں کے زمانے کے ’زباں بندی ایکٹ185cاور2026کے پیکا ترمیمی ایکٹ میں زیادہ فرق نظر نہیں آتا۔ دونوں کنونشن کے اسلام آباد اعلامیہ سے ایک بات واضح ہوگئی کہ’ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں‘۔ صحافت کل بھی زیر عتاب تھی اور آج بھی کالے قوانین کی ہتھکڑیوں میں جکڑی ہوئی ہے کیونکہ حکومت ’خبر‘ سننا، پڑھنا ااور جاننا نہیں چاہتی اور’خبر‘ وہی ہوتی ہے جو کچھ لوگ سننا نہیں چاہتے اسلئے کبھی اخبار کے اشتہار بند، کبھی چینل تو کبھی ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئےنت نئے قوانین، ایسا نہیں کہ صحافت میں سب اچھا ہے اسلئے صحافیوں کی اخلاقی، صحافتی اقدار کے منافی کردار پر بھی کھل کر بات ہوئی۔ اور پھر سب نے کھڑے ہوکر دومنٹ کیلئے ان صحافیوں کو بھرپور تالیاں بجاکر داد دی جنہوں نے ’غزہ‘ میں آزادی صحافت کا علم بلند رکھتے ہوئے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

یہ ’ ماضی اور حال‘ کے صحافیوں کی جدوجہد کا خوبصورت اجتماع تھا۔ حسین نقی صاحب 90سال کی عمر میں بھی پر اعتماد نظر آرہے تھے انکی باتیں سن کر اور حوصلہ دیکھ کر کئی آنکھیں نم ہوگئیں جب انہوں نے بتایا،’’ اک روز میری اہلیہ مجھ سے جیل میں ملنے آئی اور کہا کہ اب گھر میں آٹاختم ہوگیا ہے‘ مجھے یاد آیا کہ نثار عثمانی صاحب صحافیوں کی تحریک میں جیل گئے تو انکی اہلیہ کی بینائی کمزورپڑ گئی تھی اور جب رہا ہوکر واپس آئے تو انکی بیگم انہیں صرف آواز سے پہچان سکیں۔ نقی صاحب اور علی احمد خان صاحب جیسے لوگ صحافت کی آبرو اورغرور ہیں جن کو دیکھ کر ، سن کر حوصلہ ہوتا ہے۔ اس بار خان صاحب شریک نہ ہوسکے مگر نقی صاحب کی باتوں نے نوجوان صحافیوں کو بے انتہا متاثر کیا۔بہت سی نوجوان خواتین صحافیوں کا تعلق ان علاقوں سے تھا جہاں نہ خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت ہےاور نہ ہی الیکشن لڑنے کی۔ انہوں نے کہا ہمیں بس ٹریننگ چاہئے خبریں بہت ہیں ہمارے اردگرد۔ وہ اپنی مادری زبان میں بھی گفتگو کر رہی تھیں،اردو میں بھی اور انگریزی میں بھی۔ بس ان کو ایک ہمت دینے کی ضرورت ہے۔صحافت کا یہ’’سانپ سیڑھی ‘‘کا کھیل برسوں سے جاری ہے اور شاید آئندہ بھی جاری رہے گا کیونکہ حکومت، ریاست کو ’خبر‘ پسند نہیں اور صحافت ’خبر‘ کے بغیر صرف ’ اشتہار‘ ہے۔ صحافی جتنا حکومتوں سے قریب ہوگا وہ صحافت سے دور ہوتا چلا جائیگا۔ لہٰذا صحافی کا کسی وزیر، مشیر سے رابطہ ’خبر‘ اور آن دی ریکارڈ اور آف دی ریکارڈ سے زیادہ نہیں رہنا چاہئے۔ صحافت میں اشتہار دوطرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جن کی کمرشل ویلیو ہوتی ہے اور جو صحافت کی کسی حد تک ضرورت بھی ہوتے ہیں مگر دوسرا اشتہار وہ بیانات ہوتے ہیں جو صرف اُنکی پبلسٹی کرتے ہیں ایسے میں عوام کیلئے ’خبر‘ کوئی نہیں ہوتی۔اگر آج بھی ہم، اندر کی خبر والی صحافت پرجائیں تو لوگ اخبار کی طرف واپس آ سکتے ہیں اور ٹی وی کی طرف بھی۔ پہلے بھی لکھتا رہا ہوں یاد رکھیں ڈس انفارمیشن اس وقت لوگوں کو متوجہ کرتی ہے جب حکومت اور ریاست کی طرف سے ’ انفارمیشن‘ دینے پر پابندی لگائی جاتی ہے۔ اگر ہم ’ مدیر‘ کے ادارے کو مضبوط کرتے اور حکومتیں’خبروں‘ سے سبق سیکھتیں توشاید اس ملک میں کالے میڈیا قوانین کی ضرورت ہی نہ ہوتی مگر انہوں نے تو صحافیوں کی خبر لینی شروع کردی۔اب صحافی ہی لاپتہ نہیں ہوتے ایسی ’ خبریں‘ بھی لاپتہ ہو گئیں جولاپتہ کا پتہ دیتی تھیں۔

ماضی میں بھوک ہڑتال، جلسوں میں شریک ہونیوالی خواتین دیگر نوجوان خواتین صحافیوں کو بتارہی تھیں کہ انہوں نے جدوجہد میں کتنا حصہ ڈالا جیلوں میں قید صحافیوں کی کیسے مدد کی ۔ وہاں’ لالی‘ کابھی ذکر آیا۔ ہمارے ساتھی زاہد حسین کی اہلیہ لالہ رخ جس کو ایک سال کے بچے کیساتھ گرفتار کیا گیاتھا1978کی تحریک میں۔ بعد میں آنیوالی خواتین صحافیوں عاصمہ شیرازی، ابصاکومل، غریدہ فاروقی، تنزیلہ مظہر اور دیگر نے آن لائن ہراسانی، دھمکیوں کی اپنی اپنی داستانیں شیئر کیں۔ تنقید کرنا سب کا حق ہے مگر وہ اس کی ’خبر‘ یا تجزیے پر ہوسکتی ہے اس کے لباس اور کردار پر نہیں۔ صحافت میں ایک موثر آواز فرح وڑائچ کی رہی ہے جنہوں نے کئی دباؤ حوصلے اور ہمت سے برداشت کئے ۔صحافیوں کیلئے ’خبر‘ کی لگن کبھی ختم نہیں ہوتی۔ بدقسمتی سے ہمارےبہت سے دوست بہت سے سیاستدانوں کی طرح ’چمک‘ کاشکار ہوگئے ہیں۔ صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کی یونینوں کی تقسیم اور نت نئی تنظیموں کو بنانے کا مقصد صحافیوں کی تاریخی جدوجہد کو کمزور کرنا تھا۔ جدوجہد ابھی نامکمل ہے اس لیے کہ’خبر‘ کی لگن کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اگر حکومت اور ریاست کو واقعی ’ فیک نیوز‘ اور ’ڈس انفارمیشن‘ جیسے خطرات سے بچنا ہے تو اسے ’ انفارمیشن‘ کے راستے کھولنے ہونگے۔ ان چند دنوں میں صحافیوں خاص طور پر خواتین صحافیوں کا جذبہ اور خبر سے انکی دلچسپی دیکھ کر ، انکی اپنی کہانیاں سن کر حوصلہ ہوا کہ ابھی نثار عثمانی، منہاج برنا، ایم اے شکور، کے جی مصطفیٰ کا مشن جاری ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے عملی طور پر قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ میرے پاس ایسی بھی دستاویزات موجود میں جن میں برنا صاحب کی وفات کے بعد بھی انکی تلاش جاری رہی جب تک وہ انکی قبر تک نہیں پہنچ گئے اور پھر لکھا’’ اب یہ فائل بند کردو موت کی تصدیق ہوگئی ہے‘‘۔ اچھا ہوا آج کے صحافیوں کو کل کے صحافیوں کے بارے میں پتا چلا۔ اب یہ کام ان کا اور تنظیموں کا ہے کہ وہ اس کوکیسے آگے لے کر چلتے ہیں۔ جو مجھ سے ہوسکتا وہ میں نے کر بھی لیا اور کہہ بھی دیا۔ خبر کی تلاش کبھی ختم نہیں ہوتی چاہے اسکی لگن آپ کو قبر تک لے جائے۔

تازہ ترین