• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

منگل کے روز اِس وقت جب میں اپنایہ اخباری کالم تحریر کررہا ہوں تو دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں حاجیوں کے قافلے میدانِ عرفات میں جمع ہورہے ہیں، رواں برس سعودی حکومت نے خطبہ حج دنیا بھر میں بولی جانے والی 35 بڑی زبانوں میں ترجمے کے ساتھ نشر کرنے کا اعلان کیا ہے، پاکستان کے زائرین کیلئے خطبہ حج کو قومی زبان اردو کے ساتھ علاقائی زبانوںمیں بھی نشر کرنےکے انتظامات کیے گئے ہیں۔ میں ہر سال حج کے موقع پر خطبہ حج بہت دلچسپی سے سنتا ہوںجو مجھے نہ صرف مذہبی ہم آہنگی کے مقدس مشن پر کاربند رہنے کیلئے ایک نیا جوش و ولولہ بخشتا ہے بلکہ میرا یقین اس امر پر مزید پختہ کرتا ہےکہ انسان کی روحانی ترقی، ایثار، قربانی، خدمت اور عاجزی ہر مذہب کی بنیادی اقدار میں شامل ہیں۔ہر سال جب میںٹی وی اسکرین پرفریضہ حج کی ادائیگی کرتےدنیا کے خوش قسمت ترین حاجیوں کو دیکھتا ہوں تو میرے دِل میں یہی صدا گونجتی ہے کہ یہ عظیم الشان اجتماع کسی مخصوص مذہب کے ماننے والوں تک ہی محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کیلئے ایک گہرا پیغام ہے۔ میری نظر میں حج دنیا کے ان منفرد اجتماعات میں سے ایک ہے جہاں نسل، زبان، قوم، رنگ، دولت، طاقت اور جغرافیائی سرحدوں کی تمام تفریق ثانوی ہوجاتی ہیں، جب لاکھوں حاجی ایک ہی جیسا سادہ لباس، ایک بلند مقصد اور ایک مشترکہ مرکز کے گرد جمع ہوتے ہیںتو یہ ر وح پرور منظر مساوات کے اس آفاقی تصور کو مضبوط کرتا ہے کہ انسانوں کے درمیان اصل تعلق انسانیت اوراعلیٰ اخلاق کا ہے، نہ کہ ظاہری برتری یا مال و دولت کا، اس حوالے سے پیغمبر اسلامﷺ کا حج الوداع کا آخری خطبہ ساڑھے چودہ سو سال بیت جانے کے باوجود مشعل راہ ہے کہ دنیا کا ہر انسان برابر ہے، کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر کوئی برتری حاصل نہیں۔حج کا ایک اور خوبصورت پہلو خداکی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اُسے مالک کی راہ میں قربان کرنا ہے جو آپ کو سب سے پیارا اور اچھا لگے، آج سے ہزاروں سال قبل جب اللہ کے نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے سب سے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کے حکم پر قربان کرنے کا مشکل ترین فیصلہ کیا تو دونوں باپ بیٹے کو کسی قسم کی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ ہوئی، خدا جو اپنی مخلوق سے بے پناہ محبت کرتا ہے، اُس نے جنت سے دنبے کو زمین میں اتار کر اس عظیم قربانی کو رہتی دنیا تک کیلئے امر کردیا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی عید الاضحی کے موقع پر دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں لوگ خدا کو خوش کرنے کیلئے بہترین سے بہترین جانور قربان کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ ایک ہندو مذہبی و ثقافتی پس منظر رکھنے والے شخص کے طور پر میں قربانی کے فلسفے کو اجنبی نہیں سمجھتا،ہندوستان کی قدیم تہذیب اور ہندو مذہبی روایات میں بھی قربانی، تیاگ اور ایثار کو نہایت بلند مقام حاصل ہے، ہندو دھرم میں یاگیہ،دان اورتپسیاکے تصورات انسان کو اپنی خواہشات، انا اور ذاتی مفاد قربان کرکے اعلیٰ انسان بننے کا درس دیتے ہیں۔اسی طرح دنیا کے ہر مذہب میں مقدس مقامات کی زیارت کو نہایت اہمیت حاصل ہے، حج کیلئے مقدس سرزمین حجاز کا سفر ہو یا کمبھ میلہ میں شرکت کرنا یا بیت المقدس کی زیارت کرنا، دنیا بھر کے باشندے اپنی اپنی مذہبی عقیدت کے مطابق یہ مقدس فریضہ سرانجام دیتے آرہے ہیں، وہ اس مقدس سفر کے دوران ہر قسم کی مشکلات برداشت کرنے پر آمادہ رہتے ہیں۔ آج جب ہمارے ارد گرد طاقت کے بل بوتے پر غلبے کی سیاست، نفرت، سماجی تقسیم اور معاشی تفریق تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے، میری نظر میں حج کا مقدس فریضہ یہ درس دیتاہے کہ ہمیں اپنی خواہشات، غرور، خود غرضی اور دنیاوی وابستگیوں کو اعلیٰ مقصدکیلئے قربان کردینا چاہیے، حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی قربانی کا واقعہ انسان کی اپنے مالک سے اطاعت، اپنے اوپر اعتماد اور اعلیٰ اخلاقی ذمہ داری کے جذبے کا اظہار ہے، یہی وہ تصور ہے جو دنیا کے مختلف مذاہب اور روحانی روایات میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے، اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو حج صرف مذہبی فریضہ نہیں بلکہ عالمی مکالمے ، باہمی احترام اور ثقافتی ہم آہنگی کا بھی بہترین ذریعہ ہے،اس موقع پر دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے حاجی ایک دوسرے کی زبان، ثقافت اور حالات و مسائل سے جانکاری حاصل کرتے ہیں ، اپنے سے مختلف پس منظر کے حامل افراد کو ایک جیسے کپڑوں میں ملبوس دیکھنا،ایک جگہ عبادت کرنا اور ایک ہی تھالی میں کھانا حاجیوں کو اجتماعیت ، نظم و ضبط، بھائی چارہ اور خدمت کے وہ اسباق سکھاتا ہے جو آج اکیسویں صدی میں بھی دنیا کا کوئی جدید تعلیمی ادارہ سکھانے سے قاصر ہے۔ روحانیت کا یہ عظیم الشان سفر ہر پل انسان کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتا ہےکہ اوپر والے کی نظر میں ہرانسان برابر ہے، حقیقی کامیابی دوسروں پر غلبہ حاصل کرنے میں نہیں بلکہ اپنی انا پر قابو پانے میں ہے، انسان کو انسان سے جوڑنا، دِلوں میں عاجزی پیدا کرنا اور مخلوقِ خدا کی خدمت کیلئے ہردم تیار رہنا ہی انسان کی زندگی کا اصل مقصد ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہر سال لاکھوں افرادکی میزبانی ایک غیر معمولی انتظامی، طبی، نقل و حمل اور سیکورٹی چیلنج ہوتا ہے، ہر سال کی طرح رواں برس بھی سعودی حکومت نے جدید ٹیکنالوجی ، ڈیجیٹل سہولیات، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک، طبی خدمات، ہجوم کے نظم اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے ذریعے حاجیوں کیلئے جدید انتظامات، بہترین سہولیات اور زائرین کی آسانی پر خصوصی توجہ دی ہے، میری نظر میں دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں افراد کو ایک محدود وقت اور جگہ میں اکٹھاکرنا سعودی عرب کا ایک بڑا انتظامی کارنامہ ہے۔میں ایسے بہت سے پاکستانیوں کو ذاتی طور پر جانتا ہوں جو اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے صرف ایک بار خدا کے گھر حاضری کی خواہش رکھتے ہیں، تاہم پاکستان میں جس تیزی سے مہنگائی اور روپے کی بے قدری کا سلسلہ جاری ہے، بدقسمتی سے بہت سےلوگ اپنی آنکھوں میں فریضہ حج کی ادائیگی کا خواب سجائےدنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔آج جب میں اپنا یہ کالم دنیا بھر کے اُن خوش قسمت حاجیوں کے نام کرتا ہوں جنہیں مالک نے اپنے در پر بُلانے کا شرف بخشا ہے، میں ایک مرتبہ پھر حکومت پاکستان سے مطالبہ کرنا چاہوں گا کہ فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے بحری سفر کو بحال کیا جائے،جب کراچی کے ساحل کو خدا نے بحیرہ عرب سے منسلک کیا ہے تو ہم اپنے ملک کے حاجیوں کیلئے سستا ترین بحری راستہ اختیارکیوں نہیں کرتے جبکہ ہمارے پڑوس بشمول بھارت اور بنگلہ دیش کے حاجیوں کو یہ سہولت میسر ہے، ایک ہفتے سے کم دورانیہ پر مشتمل بحری سفر کے دوران پاکستانی حاجیوں کو مناسک حج و دیگر مذہبی و اخلاقی تعلیمات سے بھی آگاہی فراہم کی جاسکتی ہےجو انہیں مزیداچھا انسان اور اچھا شہری بنانے میں بہت معاون ثابت ہوگی۔دنیا بھر کے خوش قسمت حاجیوں کو حج مبارک۔۔۔!

تازہ ترین