امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بورڈ آف پیس کے غزہ فنڈز کےلیے 10 ارب ڈالرز دینے کا وعدہ وفا نہ ہوسکا۔
برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس کے غزہ فنڈز کےلیے اربوں ڈالرز کے وعدے کیے گئے۔
غزہ فنڈ کئی ماہ گزرنے کے باوجود تاحال خالی ہے، جس کے باعث غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے تعطل کا شکار ہیں۔
برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے بورڈ آف پیس کے لیے عالمی رہنماؤں سے ایک ارب ڈالر کی تاحیات رکنیت فیس کا مطالبہ اور امریکا کی جانب سے 10 ارب ڈالر دینے کا اعلان کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق رکن ممالک نے7 ارب اور امریکا نے 10 ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا، عالمی بینک کے تحت قائم فنڈ میں ایک ڈالر بھی جمع نہیں ہوا۔
برطانوی اخبار کی رپورٹ ک مطابق عطیات ورلڈبینک کے بجائے نجی بینک اکاؤنٹ کے ذریعے وصول کیے جارہے ہیں، ورلڈ بینک غزہ فنڈ کی مالی صورتحال سے عطیہ دہندگان اور بورڈ اراکین کو آگاہ کرنے کا پابند ہے۔
رپورٹ کے مطابق نجی بینک اکاؤنٹ کے لیے شفافیت سے متعلق کوئی آزادانہ تقاضے موجود نہیں، امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے 1 اعشاریہ 2 ارب ڈالر کی ممکنہ امداد بھی تاحال استعمال نہیں ہوئی۔
اخبار کی رپورٹ کے مطابق بورڈ کے آپریشنز کے لیے مجوزہ 5 کروڑ ڈالر بھی ابھی تک جاری نہیں کیے گئے، غزہ میں سیکیورٹی اور تعمیر نو کےلیے ٹینڈر جاری کیے گئے مگر اب تک کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق منصوبے کی راہ میں بڑی رکاوٹوں میں حماس کا ہتھیار نہ ڈالنا، قانونی حیثیت کے سوالات اور زمینی انتظامی ڈھانچے کی کمی شامل ہیں۔
برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی تعمیر نو کےلیے ایک ڈالر بھی خرچ نہیں ہوا، جس سے منصوبہ عملی طور پر غیر فعال ہے، امریکی قانون سازوں نے بورڈ آف پیس کی قانونی حیثیت اور آپریشنز پر سوالات اٹھائے ہیں، غزہ کی مکمل تعمیر نو کے لیے آئندہ دہائی میں 70 ارب ڈالر سے زائد درکار ہوں گے۔