• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسرائیلی اور روسی سیکیورٹی فورسز کو اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل کرلیا گیا

فائل فوٹو
فائل فوٹو

اقوام متحدہ نے اسرائیلی سیکیورٹی فورسز  اور روسی سیکیورٹی فورسز کو اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل کر لیا۔ 

اقوام متحدہ نے یہ فیصلہ اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے جنگ کے دوران جنسی تشدد کے الزامات سامنے آنے پر کیا ہے۔ 

اسرائیل نے اقوام متحدہ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے شرم ناک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس فیصلے سے اسے اور حماس کو ایک ہی مقام پر کھڑا کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ نے روسی سیکیورٹی فورسز کو بھی اس فہرست میں شامل کیا ہے۔ 

پچھلے سال اگست میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اسرائیل اور روس کو متنبہ کیا تھا کہ انھیں اس فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور روس کی جانب سے یوکرین میں جنسی تشدد کے واقعات کی مسلسل دستاویز بندی کی جاتی رہی۔ 

یہ رپورٹ جلد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کو بھجوائی جانے والی ہے۔ دستاویز کے مطابق انتونیو گوتیرس کی تنبیہ کے باوجود اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کو دونوں ملکوں نے رسائی دینے سے مسلسل انکار کیا۔ 

دونوں ملکوں کی سیکیورٹی فورسز کو ایسے ملکوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جن کی جانب سے ریپ اور جنسی نوعیت کے دیگر تشدد میں ملوث ہونے یا اس کے ذمے دار ہونے کے شبہات قابل وثوق ہیں۔ 

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ نے اسرائیل پر فلسطینی قیدیوں کے خلاف جنسی تشدد کے الزامات کی تصدیق کی ہے اور یہ الزامات اشارہ کرتے ہیں کہ اسرائیل کا فلسطینی قیدیوں پر جنسی تشدد کا رجحان کئی برسوں پر محیط ہے۔ 

تاہم چوں کہ تفتیش کاروں کو اسرائیلی قیدخانوں تک رسائی نہیں دی گئی اس لیے یہ رپورٹ جامع نہیں۔ ان جرائم میں ملوث افراد کا تعلق اسرائیلی فوج، سیکیورٹی فورسز اور اسرائیلی جیل حکام سے ہے۔ 

بین الاقوامی خبریں سے مزید