• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چینی سائنس دانوں نے نئی قسم کی لیتھیم آئن بیٹری بنا لی

اس جدید دور میں سائنس داں جدت بھر پور چیزیں تیار کررہے ہیں۔ اس ضمن میں چینی سائنس دانوں نے ایک نیا جز تیار کیا ہے جو لیتھیم آئن بیٹریوں میں طویل عرصے سے موجود رکاوٹ کو دور کرتے ہوئے برقی گاڑیوں کی رینج کو دُگنا کر دے گا۔

برقی گاڑیوں میں عموماً استعمال ہونے والی لیتھیم بیٹریاں ایک محلول مینلیتھیم سالٹ اور آکسیجن ایٹمز ری ایکشن پر انحصار کرتے ہیں، تاکہ بجلی بنے۔ ان بیٹریوں میں محلول بڑی مقدار میں چاہیے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان بیٹریوں کے سائز میں کمی میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ محلول کم درجہ حرارت میں بھی ٹھیک کام نہیں کرتا۔ یہ بیٹریاں 350 واٹ آور فی کلو گرام تک کے قریب ہی توانائی پیدا کر سکتی ہیں۔ 

محققین کا کہنا ہے کہ نئی بیٹریوں میں روم ٹیمپریچر پر یہ کثافت 700 واٹ آور فی کلو گرام سے تجاوز کر سکتی ہے اور منفی 50 ڈگری سیلسیئس پر 400 واٹ آور کلو گرام کے قریب تک پہنچ سکتی ہے۔ نئی بیٹریوں میں ’’فلورینیٹڈ ہائیڈرو کاربن‘‘ محلول استعمال کیا گیا ہے جو لیتھیم سالٹس کو مؤثر انداز میں تحلیل کرتا ہے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید