علامہ اقبال نے اللہ تعالیٰ سے شکوہ کرتے ہوئے کہا تھا
رحمتیں ہیں تیری اغیار کے کاشانوں پر
برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر
یہ شعر تقریباً ایک صدی پہلے کہا گیا تھا، اس دوران دنیا میں بہت کچھ ہوا۔ بڑی جنگیں ہوئیں،کئی ایک نئے ملک وجود میں آئے جن میں اسلام کے نام پر وجود میں آنے والا ملک پاکستان بھی شامل ہے لیکن مسلمانوں پر مسلسل برق گرتی رہی ۔کہنے والوں نے کہا کہ اس کا سبب قرآن و سنت سے ہماری دوری ہے چنانچہ ہم نے 73 کے آئین میں اسلامی شقیں شامل کر کے اسے مشرف بہ اسلام کر دیا لیکن برق زنی کم ہونے کی بجائے اور بڑھ گئی۔ ایک بات ہم نے سمجھنے کی زحمت گوارا نہ کی کہ غیر مسلم جن پر خدا کی رحمتیں برستی ہیں وہ کیوں برس رہی ہیں ؟خدا کے اصول اٹل ہیںجبکہ ہمارے بعض پیشواؤں کےخیال میں خدا غیر مسلموں سے خوش ہو ہی نہیں سکتا ۔ کوئی مانے یا نہ مانے یہ بات تو طے ہے کہ آج اگر اس دنیا پر قدرت کی رحمتیں برس رہی ہیں تو وہ کافروں پر برس رہی ہیں بلکہ وہ جو شاید کافروں سے بھی نچلے درجے پہ ہیں کیونکہ وہ تو اپنے گرجاؤں میں بھی کم کم ہی جاتے ہیں اور اکثر نے تو اپنے گر جاؤں کو تعلیمی اداروں میں تبدیل کر دیا ہے یا دیگر مذہب کے ماننے والوں کو دے دیا ہے کہ وہ چاہیں تو اس میں مسجد بنا لیں یا رفاہِ عامہ کے ادارے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ دنیا کی امامت ان گمراہ اقوام کے ہاتھ میں ہے جو بے پردہ ہیں، جہاں عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ چلتی ہیں، جہاں انسانوں کو سب کچھ کہنے سننے اور کرنے کی آزادی ہے مگر قانون کے اندر رہ کر...اور وہاں کا قانون بھی کیا ہے انسانوں کا بنایا ہوا جسےوہ بدلتے رہتے ہیں۔ قدرت کی رحمت ،قومی حمیت اور غیرت سے محروم ان قوموں پر برس رہی ہے جو اس خوف سے اپنی آبادی کی شرح کو منفی حد تک لے گئے ہیں کہ زیادہ آبادی کا بوجھ پوری دنیا میں غربت اور انسانی مسائل کا سبب بنتا ہے۔ انہیں اس بات کی مطلق پروا نہیں کہ ایسا کرنے سے ان کی قومیت آہستہ آہستہ اقلیت میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ وہ بڑی فراخ دلی سے دوسرے ممالک اور مذاہب کے لوگوں کو اپنے معاشروں میں سموتے چلے جا رہے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے اپنے آئین اور دساتیر میں خدا اور بندے کے تعلق کو انکی ریاستوں نے اپنے ذمے لینے کی بجائے خود انہی پر چھوڑ دیا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان اقوام کے غیر مذہبی یا سیکولر رویے اور بہت زیادہ انسان دوستی ایک عملِ بد ہے یا عملِ خیر؟ ایک ہم ہیں جو بے گھرشہریوں کو گھر دینے سے زیادہ سرکاری اور ذاتی زمینیں چھین کر ان پر عبادت گاہیں بنانے کے زیادہ شوقین ہیں۔وہ بے دین اپنی عبادت گاہیں دوسرے مذاہب کے لوگوں کے حوالے کر دیتے ہیں جبکہ ہم اپنے ہی مذہب کے دوسرے مسلک کے کسی شخص کو اپنی مسجد میں گھسنے نہیں دیتے اور بعض اوقات ایسا کرنے والے کو سزا دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔۔ معیشت ہماری تباہ،ثقافت ہماری تباہ (ویسے ہم گانے بجانے اور شعرو ادب کو ثقافت مانتے بھی نہیں) ۔ آخرہماری کون سی کل سیدھی ہے ؟جب ہمارے ملک میں ایک فوجی ڈکٹیٹر جنرل ایوب جس نے ایک سیکولر آئین دیا ہوا تھا تو اس وقت مذہب پسندوں کی ایک ہی رَٹ تھی کہ جب ہم اسلامی آئین بنائیں گے تو سارے مسائل یکلخت ختم ہو جائیں گے ۔ حالانکہ اس وقت معیشت اور امن و امان کی صورتحال بہت بہتر تھی ۔ 73 میں ایک اسلامی آئین نافذ ہوا تو اس کی برکت سے پہلی رحمتیں بھی ختم ہو گئیں۔مسلکی منافرت بڑھ گئی ۔ آئین کے خالق کے خلاف ہی مذہبی تحریک چل پڑی گویا اس نےاسلامی آئین دے کر کوئی غیر اسلامی حرکت کی تھی۔ جسکے خمیازے کے طور پر اسے اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا ۔77 کے بعد جنرل ضیا کی شکل میں جو مردِ مومن نازل ہوااس نے حقیقی اسلامی نظام کیلئے جو جو کام کئے اس سے عذاب کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ آج تک ختم نہیں ہوا۔اس دور میں ہر برائی، ہر جھوٹ اور ہر نا انصافی کوتقدیس کی چادر میں چھپانے کی کوشش کی گئی ۔ جس کی وجہ سے دہشت گردوں کی فوج ظفر موج تیار ہوئی۔پھر عیسائی امریکہ کے ساتھ مل کر افغانستان میں اسلامی جہادکیا گیا۔زبان اور حلیے سے مذہبی تاثر دینے کے باوجود ہمارے معاشرے پر خدائی رحمت نہیں برستی تو اسکی وجہ ہماری جہالت ، انتہا پسندی اور جدید علوم سے دوری ہے۔ مذہب کے ساتھ محض زبانی وابستگی سے صرف ایسےمعاشرے بنتے ہیں جہاں عملی طور پر مذہبی اور خدائی اصولوں کو مانتے ہوئے بھی گریز کیا جاتا ہے۔دنیا میں اسلام سمیت تمام مذاہب نے معاشروں میں اپنے اپنے مثبت اثرات گہرائی میں چھوڑے ہوئے ہیں۔ معاشرے کو ترقی، سکون اور خدا کی رحمت کا حقدار بنانےکیلئے ضروری ہے کہ مذہب اور سیاست کو الگ الگ کیا جائے تاکہ مذہب بھی قائم و دائم رہے اور سیاست بھی۔