• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف 2024 کے الیکشن سے چند ماہ قبل کوئی تین سال لندن میں رہنے کے بعد پاکستان واپس آئے تو انہیں جلد ہی یہ اندازہ ہونا شروع ہو گیا کہ ان کے مضبوط قلعہ پنجاب کا سیاسی مزاج تبدیل ہو گیا ہے خاص طور پر نئی نسل میں، اور اس دوڑ میں ان کی پارٹی پاکستان مسلم لیگ (ن) خاصی پیچھے رہ گئی ہے۔ وہ بلاشبہ ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں اور مقتدرہ کے لاڈلے بھی رہے ہیں اور ان کیلئے ناقابل قبول بھی ۔ شائد انہیں اس بات کا ادراک اس وقت بھی تھا جب ان کے سب سے بڑے سیاسی حریف سابق وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جا رہی تھی کہ ’قبولیت‘ کے ساتھ اقتدار میں آیا تو جا سکتا ہے مگر پھر ’مقبولیت‘ اسی کے ساتھ جاتی ہے جو ’قبول‘ نہیں ۔ انہوں نے اس کا ایک درمیانہ راستہ عدم اعتماد کےبعد فوری عام انتخابات نکالا مگر جوان کے اتحادیوں اور خود پارٹی کے بہت سے رہنمائوں کیلئے قابل قبول نہیں تھا۔

8 فروری 2024کو عام انتخابات کے وقت ہی میاں صاحب نے یہ بات واضح کر دی تھی اور ان کا بیان بھی موجود ہے کہ وہ وزارت عظمیٰ کے امیدوار نہیں ۔ میاں صاحب اب بھی مسلم لیگ(ن) کے قائد ہیں مگر اب ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اپنے لیے ’کوچ‘ کا عہدہ قبول کر لیا ہے۔ کپتان کا رول بھائی وزیر اعظم شہباز شریف کے سپرد کر دیا ہے۔ وہ خود بھی اور بھائی بھی پنجاب کی وزارت اعلیٰ سے وزار ت ِعظمیٰ تک پہنچے اور آج ان کی سیاسی جانشین مریم نواز اس منصب پر ہیں مگر کیا وہ اس منصب تک پہنچ پائیں گی۔ اس کیلئے ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ آگے کیا ہوتا ہے کہہ نہیں سکتا لیکن بادی النظر میں تمام تر اچھے اور اہم اقدامات کے باوجود وہ اپنی پارٹی پاکستان مسلم لیگ (ن) کےمینڈیٹ کو واپس نہیں لاپا رہیں۔ پارٹی کے قریبی ذرائع کے مطابق شاید میاں صاحب بھی یہ بات سمجھ رہے ہیں کہ اپنا کھویا ہوا مینڈیٹ واپس کیسے لایا جائے۔

یہ مسئلہ 2013کے انتخابات سے لے کر آج تک پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی درپیش ہے۔ تصور کریں جس پارٹی کی بنیاد ہی پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں 30؍ نومبر 1967میں رکھی گئی ہو۔ وہاں آج پارٹی کو امیدوار نہیں ملتے۔ آخر پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کا ووٹر گیا کہاں اور کیسے۔ پی پی پی نے تو لگتا ہے پنجاب میں سیاسی واپسی کا سفر ترک کر دیا ہےمگر مسلم لیگ (ن) کوشش میں لگی ہوئی ہے مگر قبولیت کے ساتھ مقبولیت حاصل کرنا کٹھن راستہ ہے اور یہ بات نواز شریف سے بہتر کوئی نہیں سمجھتا۔ ان دونوں کا ووٹ کہاں ’لاپتہ‘ ہو گیا ہے یہ آگے چل کر بتاتا ہوں اور وجوہات بھی مگر پہلے ذرا پی پی پی اور پنجاب پر ایک نظر۔

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علیٰ بھٹو کا تعلق صوبہ سندھ سے تھا مگر وہ ہمیشہ پنجاب کو اپنا سیاسی قلعہ سمجھتے تھے۔ میرے پاس آج بھی ہفت روزہ ’الفتح‘‘ کا وہ شمارہ محفوظ ہے جس میں بھٹو کے حوالے سے یہ لکھا تھا ’’پھانسی ہونے کی صورت میں مجھے لاہور میں دفن کرنا‘‘۔ پی پی پی پنجاب کی سب سے بڑی جماعت تھی جس میں بائیں بازو اور لبرل افراد کا بڑا ووٹ بینک بھی شامل تھا۔ 1977 میں بھٹو کو اقتدار سے بے دخل کیا گیا اور 90 روز میں الیکشن کا وعدہ ہوا تو اس وقت کے سروے نےبتایا کہ پی پی پی دو تہائی اکثریت لے جائے گی لہٰذا الیکشن ملتوی کروا دیئے گئے ۔ اور پھر اسے ’پھانسی‘ دے کر یہ گمان ہوا کہ شائد وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی مقبولیت ختم ہو جائے گی مگر نتائج اس کے برعکس آنا شروع ہو گئے یہاں تک کہ 1979کے بلدیاتی الیکشن میں بھی پی پی پی کے ’عوام دوست‘ بڑی تعداد میں جیت کر آ گئے۔’مقبولیت‘ کا تاریخی منظر1986کو دیکھنے کو ملا جب لاکھوں افراد لاہور ایئر پورٹ پربینظیر بھٹو کے استقبال کیلئے پہنچے۔ مگر 1988میں دو تہائی اکثریت کا راستہ روکا گیا۔ بی بی کی بڑی سیاسی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے والد کی طرح پنجاب کو اپنا سیاسی قلعہ نہیں بنایا۔اب میاں نواز شریف سے بہتر کون جانتا ہے کہ بی بی کے ساتھ کیاہوا اور ان کی دونوں حکومتیں کیسے گرائی گئیںاور پھر خود ان کے ساتھ کیا ہوا۔ یہ احساس دونوں ،بے نظیر اور میاں صاحب کو 2002 میںہوا جب دونوں کو انتخابی عمل سے باہر کر دیا گیا۔ اس کے باوجود ووٹر نے ان دونوں جماعتوں کو ووٹ دیا۔ مگر قبولیت مسلم لیگ (ق) کو ملی۔ دونوں نے ’میثاق جمہوریت‘ کیا اور بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پنجاب کی سیاست میں بڑی تبدیلی آئی۔ ووٹرکے سیاسی مزاج کو سمجھنے کیلئے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ 2013میں یہاں کے ووٹر نے پی پی پی کو ووٹ کیوں نہیں دیا۔ دراصل اس ووٹر نے پی پی پی کا مسلم لیگ سے اتحاد قبول نہیں کیا۔ پی پی پی کے دوست یہ سمجھتے رہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی مسلم لیگ کا ووٹ کاٹے گی مگر دراصل ان کا ووٹراپنے ووٹ سمیت پی ٹی آئی میں چلا گیا اور اب تک واپس نہیں آیا۔

2018 میں انتخابات کے ذریعہ پی ٹی آئی کو ’قبولیت‘ کے ذریعے لایا گیا تو خان صاحب ایک بڑی سیاسی غلطی کر گئے ۔ پنجاب میں غیر معروف عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ بنانےکی اور ان تین سالوں میں پی ٹی آئی نے نہ بلدیاتی الیکشن کرائے اور نہ ہی کوئی قابل ذکر کام کیا اور یوں ان تین سالوں میں وہ کئی ضمنی انتخابات ہار گئی۔ خان صاحب اگر اپنے اتحادی چوہدری پرویز الٰہی کوہی وزارت اعلیٰ کے منصب پر لے آتے تو مسلم لیگ (ن) کیلئے پارٹی بچانا مشکل ہو جاتا۔ اہم بات یہ ہے کہ 2008 سے لےکر 2013 تک ایک سیاسی عمل جاری رہا تو پر امن انتقال اقتدار بھی ہوا اور پھر 2013سے 2018 تک۔ اگر یہی عمل 2018سے 2023 تک جاری رہتا تو شاید آج فیصلہ سازوں کو اتنے تجربات نہ کرنے پڑتے۔ مگر اس سیاسی عمل کو ایک ایسے عمل سے تبدیل کرنےکی کوشش کی گئی جو بادی النظر میں آئی تو ہے 26ویں اور 27ویں ترمیم کی طرح مگر اس نے عمران خان کو مقبولیت کی بلندی پر پہنچا دیا۔ شاید اس سے بہت آسان راستہ تھا کہ 2023 تک انتظار کر کے الیکشن میں ہرایا جاتا یا پھر عدم اعتماد کے بعد میاں صاحب کی بات مان لی جاتی نئے انتخابات کے حوالے سے۔

الیکشن کے نتائج تبدیل توکیے جا سکتے ہیں من پسند لوگوں کو اقتدار میں بھی لایا جا سکتا ہے مگر ووٹر کا سیاسی مزاج تبدیل نہیں کیا جا سکتا یقین نہ آئے تو بنا کسی رکاوٹ پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کروا کے دیکھ لیں۔

تازہ ترین