• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آبنائے ہرمز کی چابی، قشم جزیرہ امریکا کے نشانے پر کیوں؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

ایران کا قشم جزیرہ حالیہ کشیدگی میں ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

کبھی سیاحت، تجارت اور قدرتی حسن کے لیے مشہور یہ جزیرہ اب ایران کی اہم ترین عسکری تنصیبات میں شمار کیا جاتا ہے، جس کے باعث یہ امریکی فوجی حکمتِ عملی میں بھی ایک اہم ہدف سمجھا جا رہا ہے۔

قشم جزیرہ خلیج فارس کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع ہے، یہی آبی گزرگاہ دنیا کی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، جہاں سے عالمی توانائی کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق قشم جزیرے کے اندر وسیع زیرِ زمین سرنگیں، بنکرز اور خفیہ تنصیبات موجود ہیں جنہیں ایران نے میزائلوں، مواصلاتی نظام اور تیز رفتار حملہ آور کشتیوں کے لیے استعمال کیا ہے، ماہرین اسے ایران کا ناقابلِ غرق طیارہ بردار اڈہ بھی قرار دیتے ہیں۔

ایران نے جزیرے کے اندر مبینہ طور پر ایسی ساحلی میزائل تنصیبات قائم کر رکھی ہیں جن کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی نگرانی اور ضرورت پڑنے پر جہاز رانی کو متاثر کرنا ہے، ان تنصیبات کو بعض اوقات میزائل سٹیز بھی کہا جاتا ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی معیشت کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے، اگر یہاں کشیدگی بڑھے یا بحری راستے متاثر ہوں تو دنیا بھر میں تیل اور گیس کی قیمتوں پر فوری اثر پڑ سکتا ہے، اسی وجہ سے امریکا قشم جزیرے کو خطے میں ایران کی بحری حکمتِ عملی کا مرکزی نقطہ تصور کرتا ہے۔

گزشتہ برسوں میں قشم جزیرہ کئی بار امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کا مرکز بن چکا ہے، امریکی حکام کا مؤقف رہا ہے کہ جزیرے پر موجود بعض فوجی اور مواصلاتی تنصیبات آبنائے ہرمز میں ایرانی کارروائیوں کی صلاحیت بڑھاتی ہیں، جبکہ ایران اسے اپنے دفاعی نظام کا جائز اور قانونی حصہ قرار دیتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق قشم جزیرے کی جغرافیائی اہمیت، فوجی تنصیبات اور آبنائے ہرمز پر اس کے اثر و رسوخ کے باعث یہ خطے میں جاری کسی بھی ممکنہ تصادم میں ایک انتہائی حساس مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید