کیا برا زمانہ ہے کہ اب غریب آدمی میں رشوت دینے کی استطاعت بھی نہیں رہی۔مجھے یاد ہے بھلے وقتوں میں رشوت کا ریٹ ہر پاکستانی کی دسترس میں ہوتا تھا۔ لاہور کے اے جی آفس میں کسی کلرک سے کام پڑتا تو اسے یار لوگ عبدالرحمن کے ہوٹل میں لے جاتے جہاں اعلیٰ درجے کے کھانے مع سویٹ ڈش زردے کی پلیٹ کا زیادہ سے زیادہ بل پانچ روپے بنتا تھا۔ یہی صورتحال دوسرے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی تھی۔ سیاست دانوں کو اپنی خبریں لگوانے کیلئے صحافیوں کے جو ناز نخرے اٹھانا پڑتے ان نخروں کی اوقات یہ تھی کہ ایک دفعہ ایک سیاسی کارکن اپنی خبر لے کر ایک اخبار کے دفتر میں پہنچا اور نیوز ایڈیٹر سے التجا کی کہ براہ کرم یہ خبر ڈبل کالمی لگا دیں۔ اس پر نیوز ایڈیٹر نے اسے گھور کر دیکھا اور کہا تم مرغا سنگل کالمی کھلاتے ہو اور خبر ڈبل کالم لگوانا چاہتے ہو۔ واضح رہے یہ اُس دور کی بات ہے جب کسی گھر میں مرغ یعنی ککڑ پکتا تھا تو ہمسایوں کو گمان گزرتا تھا کہ اہلِ خانہ میں سے کوئی بیمار ہے یا مرغ بیمار ہے۔ تاہم یہ رشوت بھی دس بارہ روپے سے زیادہ کی نہیں تھی۔ جو لوگ اخبار کے ڈسٹرکٹ نیوز پر کام کرتے تھے انھیں دیہات کی سوغاتوں مثلاً مرونڈےاور ستو وغیرہ پر ٹرخا دیا جاتا تھا اور وہ اس پر خوش تھے۔بچوں کو دی جانے والی رشوت بھی بہت معمولی ہوتی تھی۔ اس رشوت کا پس منظر یہ ہے کہ جب کوئی بارات لڑکی والوں کے گھر پہنچتی تو دولہا کے سر پر سے پیسے وار کے لٹائے جاتے۔ کچھ کنجوس قسم کے لوگ ایسا نہیں بھی کرتے تھے جس پر محلے بھر کے بچے جلوس کی صورت میں دولہا کے گھوڑے کے آگے آگے چلنے لگتے اور اوئے اوئے کی آواز لگانے لگتے اور اس "اوئے اوئے"کا واضح مطلب دولہا اور اس کے اقرباء کی بھد اڑانا ہوتا تھا۔ انقلابی قسم کے بچے تو اس صورتحال میں گھوڑے کے پاؤں کے قریب کریکر بھی چلا دیتے تھے جس سے گھوڑا اور گدھا، سوری گھوڑا اور دولہا دونوں بدک جاتے ۔ چنانچہ اس نازک صورتحال سے بچنے کیلئے دولہے کا باپ یا بھائی یا کوئی چچا، ماموں پیسے لٹانے پر مجبور ہو جاتا۔ واضح رہے یہاں پیسے سے مراد پیسے ہی ہیں جو ایک روپے میں سو آتے تھے۔ اگر پیسے لٹانے والے کا نشانہ صحیح نہ ہوتا تو یہ سکے دولہا کی آنکھ کے گردونواح میںبھی جا لگتے جبکہ شریکوں کے صحیح نشانے کی وجہ سے یہ سکے ایک آدھ بار دولہا کے کانے ہو جانے کا سبب بھی بنے جسکے نتیجے میں یار لوگ اکثر اس سے پوچھتے تھے کہ تم کس کے کانے ہو؟لیکن جب رشوت کا معیار بہت بلند ہو گیا تو راشیوں کو ٹر خانا مشکل ہو گیا ، تاہم یہ بلند معیار بھی اتنا پست تھا کہ آج بتاتے ہوئے شرم آتی ہے، یعنی حکومتوں کو جس کسی کو ممنون کرنا ہوتا تو اس کا ایک معزز ذریعہ ٹرانسپورٹ کا محکمہ تھا۔ چنانچہ ممنون کیے جانے والوں کو کسی بس کا روٹ پرمٹ عطا کر دیا جاتا جس پر بوجہ مسرت وہ خلوت میں بھنگڑے ڈالتا اور جلوت میں لوگوں سے منہ چھپاتا پھرتا کیونکہ اس دور میں رشوت لینے والوں کو نفرت سے دیکھا جاتا تھا۔ آج کے دور اور اس دور میں اسی قسم کا فرق تھا جو ایک انڈین ولن نے بیان کیا کہ پہلے لوگ بطور ولن اسکرین پر دیکھ کر ہمیں گالیاں دیتے تھے اور با آواز بلند دیتے تھے جبکہ آج جب ولن اسکرین پر نمودار ہوتا ہے تو وہ عوام کا ہیرو ہوتا ہے اور وہ نعرہ ہائے تحسین سے اس کا استقبال کرتے ہیں۔ سوجن دنوں کی بات میں کر رہا ہوں ان دنوں رشوت لینے والے کو لوگ مجرم سمجھتے تھے، آج معزز سمجھتے ہیں۔ اور ہاں مجھے اپنے اس دور کی تنخواہ بھی یاد آگئی ہے، یہ تین سو تیس روپے ماہوار تھی۔ میں والدین کے گھر میں رہتا تھا اور یوں رہائش کھانا پینا سب مفت تھا۔ اس کے نتیجے میں تین سو تیس روپے خرچ ہونے میں نہیں آتے تھے۔ لنڈے سےبہترین سوٹ تیسں روپے میں مل جاتا تھا اور اعلیٰ معیار کے سگریٹ کے پیکٹ کی اوقات پانچ روپے تھی ۔ چنانچہ اُن دنوں ہر طرف میری امارت کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ امارت کی ایک بڑی نشانی ریلے کی سائیکل بھی تھی۔ میں جب اس پر بیٹھ کر سیر کو نکلتا تو دیکھنے والے دیکھتے اور جلنے والے جل کر رہ جاتے ۔ اب میرے پاس کیا ہے، ایک تیرہ سوسی کی کرولا کار ہے جسکی موجودہ مالیت ۵۰ لاکھ سے زیادہ نہیں، چنانچہ جب میرے قریب سے کوئی ڈیڑھ کروڑ روپے کی پراڈو گزرتی ہے تو میں اسے دیکھتا اور جل کے رہ جاتا ہوں۔خیر بات ہو رہی تھی رشوت کی ، آج اس خانہ خراب کا معیار اتنا بلند ہو گیا ہے کہ آسمان کو چھونے لگا ہے۔ اب غیر ملکی سودوں میں کروڑوں اور اربوں کی رشوت لی جاتی ہے۔ روز مرہ کے جائز کاموں کی رشوت بھی اب کھانا کھلانا نہیں۔ چنانچہ کوئی سادہ لوح اپنے کسی کام کیلئے کسی اہلکار کو کھانے کی دعوت نہ دے بیٹھے ورنہ وہ اسے اس کی اوقات یاد دلانےکیلئے اس کے گھر روزانہ تین وقت کا کھانا بھیجنا شروع کر دے گا۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ صحافت کے پیشے میں بھی ہمیشہ کی طرح آج بھی کچھ لوگ نقب لگا کر داخل ہو گئے ہیں۔ ان کے بلند بانگ دعووں پر نہ جائیں ۔ جناب شیخ کی طرح یہ بھی بظاہر خلاف شرع تھوکتے تک نہیں مگر دوسری طرف اندھیرے اجالے میں چوکتے بھی نہیں ۔ تاہم اللہ کا شکر ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں ان کی تعداد آٹے میں نمک سے زیادہ نہیں ۔ آخر میں میری اللہ سے دعا ہے کہ رشوت کا پرانا زمانہ اور پرانا ریٹ واپس آ جائے تا کہ فائلوں میں دبے ہوئے غریب لوگوں کے جائز کام بھی ہو جائیں ۔