• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بہت دنوں سے ایک اجنبی میرے خوابوں میں آ رہا ہے۔ سرخ و سفید رنگ، چہرے پر خوبصورت داڑھی ، سر پر سلکی بال ، روشن آنکھیں اور بات کرنے کا دلنشین انداز ۔ مجھے اس سے باتیں کرنا اور اس کی باتیں سننا اچھا لگتا ہے مگر وہ درمیان درمیان میں بہت سنجیدہ ہو جاتا ہے۔ چند روز قبل میرے خواب میں آیا اور آتے ہی کہا ” یار تم بہت دیر تک سوتے ہو؟ ۔“ اس پر میں نے بے غیرتی سے ہنستے ہوئے کہا ” آج کل سونے کی نہیں، جاگنے کی ضرورت ہے تم یہی کہنا چاہتے تھے ناں ؟۔“ بولا ”نہیں زیادہ جاگنے سے بھی اعصاب تھکن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بس ہم لوگوں کو سونے کا وقت ہو تو سونا چاہئے اور جاگنے کے وقت پورا جا گنا چاہئے ۔“ میں نے کہا ” دوست ! سیدھی طرح بتاؤ آج کل ہمیں کیا کرنا چاہئے؟“ اس نے ہنستے ہوئے جواب دیا ” تم جیسے بے فکروں کو حسب عادت سوتے رہنا چاہئے کہ تم جاگ کر بھی کیا کرو گے اور جو لوگ کچھ کر سکتے ہیں ان میں سے اکثر اربوں روپے ٹیکس کی رقم خورد برد کرتے ہیں۔ انھیں ریاست کو پورا ٹیکس ادا کرنا چاہئے۔ مقننہ صرف قوانین نہ بنائے ،ان پر انتظامیہ سے سختی سے عمل کرائے۔ سیاست دانوں کو آپس میں لڑنا نہیں چاہئے ، قوم و ملک کو در پیش مسائل پر یک جہتی کا مظاہرہ بھی کرنا چاہئے ۔ اسمگلنگ روکنے والے ادارے اپنا فرض بھر پور طور پر ادا کریں، مال حرام کی بجائے رزق حلال کی طرف رجوع کریں ۔ کلرک سے لے کر بالائی طبقے تک کے لوگ لوٹ کھسوٹ میں مشغول ہیں ۔ یہ سب ملک کی بنیادیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ تمام اداروں کے کرپٹ افراد کو ،سوائے ان کے جن کے پاس امریکہ اور مغربی ممالک کی شہریت ہے، اپنے ملک کی فکر کرنا چاہئے کہ خدا نخواستہ اگر اسے کچھ ہوا تو اس کے خوفناک اثرات سب کو بھگتنا پڑیں گے۔ جن کے پاس بیرونی ممالک کی شہریت ہے وہ اپنا بوریا بستر سمیٹ کر اپنے ”اصلی وطن“ کو لوٹ جائیں گے اور ہم جیسوں کے پاس سوائے ہاتھ ملنے کے اور کوئی آپشن نہ ہو گا ۔“میں اپنے اس اجنبی دوست کی یہ باتیں سن کر بور ہو گیا۔ میں نے کہا ” دوست! کیوں میری نیند میں خلل ڈال رہے ہو؟ تم کوئی مزے کی بات نہیں کر سکتے۔“ بولا ” کر سکتا ہوں۔ چلو تم ایک لطیفہ سنو : ایک بابا جی نے پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے ایک خوبصورت اورجواں سال لڑکی سے شادی کر لی ۔ معاشی حالات خراب ہوئے تو اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا کہ ایک کو طلاق دے دیں۔ کس کو دیں؟ یہ بہت مشکل مرحلہ تھا۔ بابا جی نے اس کا حل یہ سوچا کہ دونوں بیویوں کو دس دس ہزار روپے دیئے اور خود دو ہفتوں کیلئے کہیں چلے گئے ۔ واپسی پر دیکھا کہ پہلی بیوی نے دو ہفتوں میں اپنا گزارا کر کے بھی پینتیس سو روپے بچار کھے تھے جبکہ جوان اور حسین بیوی نے نہ صرف دس ہزار روپے خرچ کر دیئے بلکہ ادھر ادھر سے پانچ ہزار قرض بھی لے لیا۔ بابا جی نے فیصلہ کیا ان کی پہلی بیوی کفایت شعار اور سلیقہ مند ہے، وہ کسی نہ کسی طرح اپنا گزارا اور خرچہ چلا لے گی ، جبکہ یہ بے چاری نوجوان بیوی ان کے بغیر بھوکی مر جائے گی ، اس لیے انھوں نے پہلی بیوی کو طلاق دے دی۔“ میں نے یہ لطیفہ سنا تو نان اسٹاپ ہنستا چلا گیا، جس پر میرا اجنبی دوست سنجیدہ ہو گیا اور بولا ” جو ہمارے قومی خزانے پر بوجھ ہیں وہ پہلے دن سے ہمارے لاڈلے ہیں ، ان کی وسیع و عریض کوٹھیاں دیکھو تو تمھیں رونا آجائے گا۔“ایک روز جب میرا یہ اجنبی دوست خواب میں آیا تو بہت خوشگوار موڈ میں تھا۔ اس نے آتے ہی مجھے لطیفے سنانا شروع کر دیئے، جن پر وہ خود بھی ہنستا رہا اور میری ہنسی بھی رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا اے میرے دوست ! آج بہت خوش ہو، کیا تمہارا بانڈ نکل آیا ہے؟“ میری بد قسمتی کہ میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ سوال سنتے ہی وہ سنجیدہ ہو گیا۔ بولا ” ہماری قوم کی ایک بد قسمتی یہ بھی ہے کہ اس کے بیشتر افراد راتوں رات امیر بننے کے خواب دیکھتے ہیں۔ وہ اس رستے کی مسافت اور راہ میں پیش آنے والی صعوبتوں سے گزرے بغیر اپنا پہلا قدم کسی ہرے بھرے گلشن میں رکھنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ ان کی ساری عمر کڑھنے اور جلنے بھننے میں گزر جاتی ہے۔“ یہ مزے کے لطیفے سنائے اور ساتھ ہی لیکچر دینا شروع کر دیا۔ یہ سن کر وہ ہنسا اور بولا ” چلو پھر سے تمھیں ایک لطیفہ سناتا ہوں ۔ ایک شخص ایک بلند قامت درخت پر چڑھنے کے دوران یہ دیکھ کر سہم گیا کہ اس کی برابر والی شاخ پر ایک کالا سانپ اپنا پھن پھیلائے موجود ہے اور نیچے نظر ڈالی تو اسے لگا کہ گہرائی اتنی زیادہ ہے کہ اگر اس نے چھلانگ لگائی تو وہ مر جائے گا ، جس پر اس نے چلانا شروع کر دیا کوئی ہے، کوئی ہے جو مجھے بچائے۔ کچھ دیر تک کسی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔ بالآخر ایک آواز سنائی دی۔ اے انسان! میں تمہارا خدا ہوں ، تمھیں بچانا چاہتا ہوں ، بس جو میںکہوں وہ کرو۔“ اس نے کہا ” میرے خدا آپ جو کہیں گے وہی کروں گا۔“ آواز آئی ”تم نے جو شاخ سہارے کیلئے پکڑی ہوئی ہے، وہ شاخ چھوڑ دو“۔ یہ سن کر درخت سے لٹکے انسان نے اِدھر اُدھر دیکھا اور بآواز بلند کہا کوئی اور ہے؟“میں یہ لطیفہ سن کر کھلکھلا کر ہنس پڑا، مگر میرے خوابوں میں آنے والا اجنبی دوست ایکبار پھر سنجیدہ ہو گیا اور بولا ” یہ بھی ہماری قوم کی بدقسمتی ہے۔ ہم اپنے بچاؤ کے لیے ہمیشہ دوسروں کی طرف دیکھتے چلے آئے ہیں۔ پہلے سوچے سمجھے بغیر کوئی بڑا پنگا لے لیتے ہیں اوراس کے بعد اس کے صحیح حل کی طرف جانے کی بجائے دوسروں سے مدد طلب کرتے ہیں۔“میں یہ لطیفہ سن کرایک بار پھر اداس ہو گیا اور کہا ” دوست ! تم بہت اچھی باتیں کرتے ہو مگر اُس قوم کے فرد سے کر رہے ہو جو اب موج میلے میں لگی ہوئی ہے۔ اسے خوشیاں چاہئیں خواہ وہ مصنوعی اور عارضی ہوں اور تم بھول گئے ہو کہ میں بھی اسی قوم کا ایک فرد ہوں“۔

تازہ ترین