پاکستان کی بنیادی تعمیر میں اور گول میز کانفرنس میں خواتین بھی شامل رہیں۔ قیام پاکستان کے بعد، اجڑے گھروں کے قافلوں کو گھر کی دہلیز پہ پہنچانے اور آباد کاری کی مشکل منزلیں خواتین ہی نے طے کیں۔ بیگم شاہنواز سے فاطمہ جناح تک نےیہ ذمہ داری کسی کے کہنے پہ نہیں، اپنے اپنے ضمیر کی پکار پر پوری کی۔ بیگم رعنا لیاقت علی خاں نے عورتوں کی تنظیم اپوا بنائی اور ضلع کے ڈپٹی کمشنر کی بیوی کو خواتین کی آبادکاری، تعلیم اور بچوں خاص کر نومولود کیلئے یونیسیف سے دودھ اور نرم غذا، حاصل کرکے خواتین کے گھروں تک پہنچائیں۔ بیگم جی اے خان نے گرل گائیڈ کی اسکیم اسکولوں سے شروع کی۔ بیگم ہدایت اللہ نے کراچی سے کھوکھراپار تک آنے والے مہاجرین کی بہبود اور لڑکیوں کی تعلیم کے ادارے قائم کیے۔
سیاست میں ملک کو صحیح قیادت فراہم کرنے کیلئےمحترمہ فاطمہ جناح آمر ایوب خان کے مقابل الیکشن لڑنے کے لئے میدان میں اتریں۔ تمام خواتین، دانشور، صحافی اور لیبر لیڈر مع سارے فیکٹری مزدوروں اور ہرطرح کے پہاڑوں کو کاٹ کر زمین ہموار کرنے والے مزدور اور عورتیں مشرقی اور مغربی پاکستان میں، محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت میں ووٹ ڈالنے کیلئے کھڑی ہوئیں۔ مقابلہ آمریت اور عام خلقت کے درمیان تھا۔ یہیں جمہوریت کی پہلی اینٹ کو ٹیڑھا کردیا گیا۔ بنگال میں جو کچھ ہوا ۔نتیجہ وہی نکلا جو آج تک نکلتا رہا ہے۔ ایوب خان نے دس سالہ جشن منایا ، ہر بات بھول بھلیوں میں پڑی رہی۔ جبکہ سامنے یحییٰ خان اور انکےساتھ جنرل رانی اور بنگال میں نیازی نے وہ آفت ڈھائی اور ملک کا شیرازہ بکھیر نے کی ہر ممکن کوشش کی اورلہو ولعب کی محفلوں نے پاکستان کو دولخت کیا۔ دو ملک یعنی بنگلہ دیش اور پاکستان ان عیاشوں نے بنادئیے، بنگالیوں کو پہلے دن سے مساوی درجہ نہیں دیا گیا تھا۔ پھر روز حکومتیں بدلتی تھیں بنگال کو مساوی بجٹ بھی کبھی دیا نہیں گیا تھا۔ 1971 میں بنگلہ دیش اور پاکستان دو ملک بن گئے۔کسی ذمے دار کو کچھ نہیں کہا گیا۔
بھٹو صاحب نے حالات کو بدلنے، قوم کو سادہ لباس پہننے اور پانچ مرلے سے لیکرغریب طبقے کی گھر بنانے کی بنیادی ضرورت کو پورا کیا۔ کابینہ بھی پڑھے لکھے لوگوں پر مشتمل بنائی۔ شاید چھ وزرا نے احمد شاہ رنگیلے کا چلن سناتھا۔ ویسے ہی نقشے اِدھر اُدھر دکھائی دینے لگے۔ اب ایک طرف جماعت اسلامی اور دوسری طرف مقتدرہ کو پھر آزادیاں ملنی شروع ہوئیں۔ بھٹو صاحب کے خلاف جھوٹے مقدمات بناکر ڈی سیٹ اور ضیاءالحق نے جماعت اسلامی کو شامل کرکے بارہ برس تک قوم پر اور خصوصاً خواتین پر وہ قیامتیں ڈھائیں کہ جب انکا جہاز پھٹا تو قوم نے کوڑوں ،فوجی عدالتوں سے رہائی پائی۔ انکی چھوٹی بیٹی کے طفیل پاکستان میں انڈین اداکار آنے شروع ہوئے اور اب خواتین نے بے نظیر کو سربراہ بنایا سارے مزدور اور دانشور بھی متحد ہوئے بی بی بے نظیر دو دفعہ وزیراعظم نام کی بنیں کہ سارے بڑے محکمے تواسٹیبلشمنٹ ہی کے پاس رہے۔ رام لیلا چلانے والی قوتوں نے راولپنڈی میں جلسے سے پلٹتے ہوئےان کو خون میں نہلا دیا۔ کچھ عرصے تک بیگم بھٹو نے پارٹی سنبھالنے کی کوشش کی۔ مگر دو بیٹیوں اور ایک بیٹی کی ظالم موت نے انکوڈیمنشیاکا مریض بنا دیا۔
ہر چند نواز شریف نے بھی تین مرتبہ وزیرِاعظم کی کرسی سنبھالی ،کوشش بھی کی کہ سب کو قابو میں رکھیں مگر بیٹوں نے کمپنیاں بنائیں۔ اباجی نے جاتی امرا بنایا۔ ملک میں جمہوریت کے نام پر جاگیردار اور سرداروں کے علاوہ صنعت کاروں کا جوڑ ایسا چلا کہ اسٹیبلشمنٹ نے کرکٹ کے مقبول کھلاڑی کو سامنے رکھ کر خوب کمائیاں کیں۔ کھلاڑی اور اس کے قافلہ برداروں نے پہلے بغاوت نما آگ کا کھیل کھیلا۔ ویسے یاد کریںپرویز مشرف نے بہت دفعہ کبھی اچکن پہنی، کبھی یونیفارم اور کبھی طبلہ بجایا، گایا بھی، مگر نئی یونیفارم پہنے لوگوں نے کرکٹ کے کھلاڑی سمیت سینکڑوں کو زنداں برد کردیا۔جمہوریت نما مارشل لا رہا۔ عدالتیں بھی بے وقعت ہوگئیں۔
اس سارے78 برسوں میں عورتوں کی عصمتیں لٹتی رہیں وہ اپنی مرضی سے شادی کرتیں تو بھی قتل کردی جاتیں۔ کم سن بچیوں کی شادی رازدارانہ چلتی رہی۔ ضیا نےجو شراب پہ بندش لگائی تھی وہ خاکروب کے پرمٹ کے ذریعے توڑدی گئی۔ اور بہت سے دنیا بھرکے نشے، اسمگل بھی ہوتے رہے اور پاکستانی خاتون نے تو ایسی منشیات کی فیکٹری لگائی کہ پورے پاکستان میں سپلائی پھیلتی رہی شاید ایک دن کسی بڑے صاحب سے لڑائی ہوئی تو پولیس جو پکڑ کر لارہی تھی چھوڑ چکی تھی۔ پھر پکڑی گئی وہ مجرم ثابت نہیں ہوسکےگی۔ کیوں کہ بڑے نام قندیل کی طرح مروا بھی سکتے ہیں۔