• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسرائیل امریکا کی ایران کیخلاف جنگ: سیٹلائٹ تصاویر نے خطے میں تباہی کے ہولناک منظر دکھا دیے

---فوٹوز بشکریہ عرب میڈیا
---فوٹوز بشکریہ عرب میڈیا 

ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے خطے میں ہونے والی وسیع پیمانے پر تباہی کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق امریکی درخواست پر کئی تجارتی سیٹلائٹ کمپنیوں نے جنگی علاقوں کی تصاویر پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کر رکھی ہے تاہم پابندی سے قبل حاصل کی گئی تصاویر ایران، لبنان اور خلیجی ممالک میں تباہی کا بڑا منظر پیش کر رہی ہیں۔

ایران میں بڑے فوجی اور تیل مراکز نشانہ

امریکی کارروائی ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کے دوران بنکر شکن بم استعمال کیے گئے جن سے زیرِ زمین تنصیبات کے داخلی راستوں اور عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔

ایران کے جنوبی ساحل سے 70 کلومیٹر دور سیری جزیرے پر موجود تیل تنصیبات میں اپریل 2026ء میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی، سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق 1 ملین بیرل گنجائش رکھنے والا سب سے بڑا ذخیرہ ٹینک تباہ ہو گیا۔

آبنائے ہرمز کے قریب بندر عباس بندرگاہ میں 11 مختلف مقامات پر شدید تباہی دیکھی گئی جہاں گوداموں اور ایک لنگر انداز جہاز کو بھی نقصان پہنچا۔

تہران کے قریب فتح فضائی اڈے پر اپریل 2026ء کی تصاویر میں ہینگرز، تکنیکی عمارتوں اور دیگر فوجی تنصیبات کی تباہی بھی واضح دیکھی گئی۔

بندر عباس بحری اڈے پر ایرانی بحریہ کے اہم جہاز ’آئی آر آئی ایس مکران‘ کو براہ راست نشانہ بنایا گیا جبکہ اڈے کے اندر بڑے پیمانے پر آگ لگنے کے شواہد بھی سامنے آئے۔

لبنان کے سرحدی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی

جنوب مغربی لبنان کے شہر ناقورہ میں 100 سے زائد عمارتیں تباہ ہو گئیں، یہ علاقہ اقوام متحدہ کی عبوری امن فورس کے ہیڈکوارٹر کا مرکز بھی ہے۔

بنت جبیل میں اسرائیلی زمینی اور فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں تقریباً 725 عمارتوں اور تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔

سرحدی قصبے رشاف میں پورے کے پورے رہائشی محلے ملبے کا ڈھیر بن گئے۔

کوزہ اور بیت لیف میں تاریخی اور مذہبی مقامات کو شدید نقصان پہنچا جن میں  (St Joseph Church) اور اقوامِ متحدہ کی امن فورس کی ایک پوزیشن بھی شامل ہے۔

خلیجی ممالک میں امریکی اور اتحادی فوجی اڈے متاثر

الجزیرہ کی خصوصی رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ قطر کے العدید فضائی اڈے پر 3 مقامات پر حملوں کے نشانات ملے جن میں لاجسٹک عمارت اور طیارہ پناہ گاہ شامل ہیں۔

کویت کے علی السالم فضائی اڈے پر 9 مختلف مقامات متاثر ہوئے۔

الجزیرہ کے مطابق یہ نقصان ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے ملبے سے ہوا جنہیں کویتی فضائی دفاع نے فضا میں تباہ کیا تھا۔

متحدہ عرب امارات کے الظفرہ فضائی اڈے میں کئی مرکزی ہینگرز کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔

سعودی عرب کے پرنس سلطان فضائی اڈے پر میزائل اور ڈرون حملوں سے رن وے، عمارتوں اور طیارہ پارکنگ کے علاقوں کو نقصان پہنچا۔

بحرین کے دارالحکومت منامہ میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر پر بھی ایرانی حملوں کے بعد متعدد ریڈار ڈومز اور اہم فوجی تنصیبات کی تباہی ریکارڈ کی گئی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید