• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انمول عرف پنکی کیس، ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کے پولیس کے عبوری چالان پر اعتراضات

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف کراچی کے بغدادی تھانے میں درج قتل کے مقدمے میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر نے پولیس کے عبوری چالان پر اعتراضات لگا دیے۔

ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر عارف سیتائی کا کہنا ہے کہ وقوعے اور مقدمے کے اندراج میں تقریباً ایک ماہ کی تاخیر پائی گئی ہے، چارج شیٹ جمع کرانے میں بھی 12 دن کی تاخیر کی گئی، تفتیشی افسر متوفی کی شناخت کے لیے معلومات جمع کرنے میں ناکام رہا۔

انہوں نے کہا کہ تفتیشی افسر نے جائے وقوع اور گردونواح کی سی سی ٹی وی فوٹیج جمع کرنے یا محفوظ کرنے میں غفلت برتی، ڈیجیٹل شواہد متوفی کے ملزمہ سے منشیات ڈیلرز سے روابط ثابت کرنے کے لیے اہم تھے، تفتیشی افسر نے آزاد چشم دید گواہان کو تلاش کرنے یا بیان ریکارڈ کرنے کی کوشش نہیں کی، ایسے گواہان کے بیانات اہم تھے جنہوں نے مقتول کو ممنوعہ منشیات خریدتے یا ملزمہ کے کارندوں کے ساتھ ملتے ہوئے دیکھا ہو۔

عارف سیتائی نے کہا کہ متوفی کے جسمانی اعضاء کے نمونوں کی کیمیکل جانچ کی رپورٹ آنا باقی ہے، موجودہ تفتیش تاحال نامکمل ہے، مزید شواہد جمع کیے جائیں، عبوری رپورٹ قانون کے مطابق عدالت کو ارسال کی جا رہی ہے، تفتیش مکمل ہونے اور فرانزنک رپورٹس موصول ہونے کے بعد حتمی چالان پیش کیا جائے گا۔

دوسری جانب کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات کے دو مقدمات کی سماعت ہوئی۔

تفتیشی افسر نے ایک بار پھر چالان پیش کرنے کے لیے مہلت طلب کرلی، عدالت نے تفتیشی افسر کو مہلت دیتے ہوئے آئندہ سماعت پر چالان طلب کرلیا۔

کراچی کی مقامی عدالت نے کیسز کی سماعت 15 جون تک ملتوی کردی، پولیس کے مطابق ملزمہ کے خلاف گارڈن تھانے میں مقدمات درج ہیں۔

قومی خبریں سے مزید