معروف بھارتی فلمساز و ہدایتکار امتیاز علی نے دہلی میں کالج کے دنوں میں اپنے اغوا ہونے کا انکشاف کیا ہے۔
ان کا کہنا کہ دو طلبہ تنظیموں میں کشیدگی کا نشانہ میں بن گیا تھا۔ واقعہ ایک سیاسی پوسٹر لگانے پر ہوا اور مجھے اغوا کر لیا گیا۔
اپنی آئندہ آنے والی رومانوی ڈرامہ فلم میں واپس آؤں گا کی پروموشن کے موقع پر بھارتی میڈیا سے گفتگو میں 55 سالہ امتیاز علی نے کہا یہ واقعہ بلآخر میرے لیے خوبصورت ثابت ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب آپ دہلی میں رہتے ہیں تو کچھ جارح مزاج ہو جاتے ہیں، میں بھی اپنے کالج کے دنوں میں کچھ ایسا ہی تھا، لیکن اس وقت یہ میری غلطی نہیں تھی۔ میرے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ ایک خوبصورت تجربہ بن گیا۔
اس واقعے کی وجہ سے میرے بہت سے دوست بن گئے، حالانکہ یہ ایک خوفناک واقعہ بھی بن سکتا تھا۔ اب جب میں اس عمر کو پہنچ گیا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ بعض اوقات میں ضد کی وجہ سے باتیں کرتا ہوں۔
امتیاز علی نے 1993 میں ہندو کالج میں اپنے زمانہ طالب علمی کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت کیمپس میں این ایس یو آئی اور اے بی وی پی کے حامیوں کے درمیان شدید رقابت چل رہی تھی، جس کے باعث طلبہ سیاست میں کشیدگی رہتی تھی۔
کسی نے میرے ہاسٹل کی دیوار پر ایک پوسٹر لگا دیا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ اسے ہاسٹل کے سامنے والے حصے پر نہ لگائیں بلکہ سائیڈ والی دیوار پر لگا دیں۔ لیکن انہوں نے جان بوجھ کر اسے سامنے ہی چسپاں کر دیا۔ میں نے ان کے سامنے وہ پوسٹر اتارا اور سائیڈ والی دیوار پر لگا دیا۔
وہ چلے گئے لیکن چند روز بعد وہ مجھے اٹھا کر ایک ویران سرکاری کوارٹر میں لے گئے جہاں ایک سیاسی گروہ کے رہنما نے مجھ سے پوچھ گچھ کی اور جب گروہ کے سربراہ کو یہ پتہ چلا کہ میں نے پوسٹر پھاڑا نہیں بلکہ اسے صرف دوسری جگہ منتقل کیا تھا تو مجھے آزاد کر دیا گیا۔
جہاں تک انکی نئی فلم کا تعلق ہے تو یہ پنجاب، تقسیمِ ہند کے مسائل، ماضی اور حال کے درمیان مسلسل سفر، چند مانوس چہرے، اچھی موسیقی اور وقت و جغرافیائی سرحدوں سے ماورا محبت کی کہانی ہے۔
یہ امتیاز علی اور دلجیت دوسانجھ کے درمیان دوسری مشترکہ کاوش ہے۔ اس سے قبل دونوں نے 2024 میں امر سنگھ چمکیلا میں ساتھ کام کیا تھا۔
اس فلم کے ذریعے امتیاز علی کی عالمی شہرت یافتہ موسیقار اے آر رحمان اور نغمہ نگار ارشاد کامل کے ساتھ بھی دوبارہ شراکت داری ہوئی ہے، جنہوں نے امر سنگھ چمکیلا، تماشا، روک اسٹار اور ہائی وے جیسی فلموں کے لیے یادگار اور دلکش موسیقی تخلیق کی۔