نیوزی لینڈ کے ایک پھل و سبزیوں کے اسٹور میں ایک نایاب اور عجیب الخلقت سیب کی جھلک دیکھنے کے لیے شوقین افراد کا رش لگ گیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ سیب آدھا سرخ اور آدھا پیلا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس سیب کا رنگ تقریباً بالکل درمیان سے دو حصوں میں تقسیم ہے، مئی کے وسط میں یہ سرخ اور اچھے معیار کے رس دار، میٹھے، خستہ اور خوش ذائقہ سیبوں کے ایک کھیپ میں سے ملا۔ یہ کھیپ سن شائن کارنر مارکیٹ میں پہنچی تھی، جو نیوزی لینڈ کے شہر کرائس چرچ کے مضفاتی علاقے مائر یہاؤ میں واقع ہے۔
اس نایاب اور عجیب الخلقت سیب کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ہر دس لاکھ پھلوں میں سے ایک سے بھی کم میں پایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ ایک جینیاتی تبدیلی ہوتی ہے۔ اس تبدیلی کی وجہ سے سیب ایسے خلیات سے بنتا ہے جو دو مختلف جینیاتی پس منظر رکھتے ہیں۔
مقامی میڈیا ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے اسٹور کی مالک مس ہیدر نے کہا کہ یہ سیب مقامی طور پر ایک طرح کی مشہور سلیبریٹی بن گیا ہے۔ لوگ اسے دیکھنے کے بعد اپنے گھر جاکر اپنے شریکِ حیات کو اس کے بارے میں بتاتے ہیں لیکن انہیں یقین نہیں آتا، اس لیے وہ انہیں ساتھ لے کر دوبارہ آکر انھیں دکھاتے ہیں۔ بہت سے لوگ اس سیب کو دیکھ کر بے حد پرجوش ہوئے اور اس کی تصاویر بھی بنائیں۔ اس سیب نے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی ہے۔
مس ہیدر نے کہا کہ انھوں نے پہلی بار دو رنگوں والا سیب دیکھا ہے، انکے مطابق وہ کافی عرصے سے اسٹور بزنس میں ہیں، لیکن اس جیسا سیب کبھی نہیں دیکھا۔ کچھ گاہک تو کسی مقابلے میں حصہ لینے سے پہلے خوش قسمتی کے لیے اس کو چھونے کی درخواست بھی کرتے ہیں۔
ہیدر نے کہا کہ سیب کو ریفریجریٹر میں رکھنے کی وجہ سے اس کی شیلف لائف بڑھ گئی ہے، لیکن اب جلد ہی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا اسے مستقل طور پر محفوظ کیا جا سکتا ہے یا پھر اسے کاٹ کر دیکھا جائے کہ اس کے اندر سے یہ کیسا دکھائی دیتا ہے۔