علامہ اقبال نے شکوہ لکھا بہت اعتراضات ہوئے پھر جواب شکوہ لکھا۔ مگر نوجوانی کی شاعری میں وجود زن اچھا اسلئے لگتا تھا کہ سارے گھروں کی مسلمان عورتیں تو بیاہ کے آتیں اور مر کے قبرستان چلی جاتیں۔ علامہ! آپ سے گلہ یہ ہے کہ تصویر کائنات میں رنگ بھرنے والی تو آپ نے جاوید اقبال صاحب اور منیرہ آپا کی آیا کو دیکھا، آپ نے عطیہ فیضی کو دیکھا اور اپنی والدہ کو دیکھا جو مثال تھیں۔ اُس وقت کےمعاشرےمیں عورت کو باہر نکلنے کی آزادی نہ تھی اور وہ پیدائش کے بعد سے گھر کے کاموں میں پھنسی رہتی تھی۔
جب سرسید نے تعلیم کا نعرہ بلند کیا تب بھی عورت کا نام نہیں لیا گیا۔ عورتوں کی تعلیم کیلئے ڈپٹی نذیر احمد جیسے دانشور نے اپنے ناولوں کے ذریعہ یہ بات عام کی کہ عورت کو محض قرآن شریف پڑھایا جائے، اُسے لکھنا بھی آئے، یہ تحریک بھی لکھنؤ اور علی گڑھ کی خواتین نے شروع کی کہ صرف پڑھنے سے دانش کے دروازے نہیں کھلتے، ہر چند یہ بحث بہت طویل ہے کہ عورت کو پڑھنا اور لکھنا دونوں آنے چاہئیں۔ وہ لکھیں گی تو پڑھے ہوئے الفاظ کی نقل نہیں کریںگی۔ بلکہ اپنے ذہن کو استعمال کرنا سیکھیں گی۔
یہ بحث تو پرانی ہے کہ عورت نے جب علم حاصل کیا اور اس زمانے میں 1857ءکی ابتلا میں مسلمان مردوں کو بھی ذہنی آزادی کا خیال آیا۔ ’’لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی ‘‘اکبرالہ آبادی کا یہ طنز عورتوں کی تعلیم کی تحریک پر اثر انداز نہیں ہوا۔
معاشرے نے اتنا آزاد کیا کہ عورتیں برقع اوڑھ کر یونیورسٹی جاتی تھیں۔ ادب آداب علی گڑھ اور لکھنؤکے علاوہ پورے معاشرے میںتعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور عزت دی۔ پرانی کہانیوں میں ہم نےپڑھا اور عملی زندگی میں دیکھا کہ لڑکی کی طرف، لڑکے نے کوئی پرزہ، کوئی فقرہ اور اونچا کہاتو اس گلی کے بزرگ نوجوانوں تنبیہ کرتے، لڑکیاں بھی میلوں پیدل چل کر پڑھنے جاتی تھیں اور اب تک دور دراز کے دیہات میں یہ منظر ہمارے سامنے ہے۔
ترقی، بجلی کے گھر گھر پہنچنے سے ہوئی کہ پہلے لڑکیوں کو صرف ہائی اسکول تک پڑھایا جاتا تھا پھر یونیورسٹی اور باہر تعلیم دی گئی، شائستہ اکرام اللہ اور محمدی بیگم نے آگے بڑھ کے ذہنوں پر جمی علم دشمنی کو دور کیا۔ پاکستان کے قیام میںبھی عورتوں کی تحریک کام آئی اور بیگم شاہ نواز کی لندن جاکر پاکستان کےقیام کیلئے کوششیں رنگ لائیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سائنسی معلومات اور آزاد پاکستان کا منظر محترمہ فاطمہ جناح نے،بیگم رعنالیاقت علی خاں نے قانون شہادت ،عائلی قوانین اور عورت کی مساوات کا نعرہ بلند کیا۔ اب جبکہ سینما، ٹی وی، گانوں اور فلموں نے ایسے منظر دکھائے( جو اب تک جاری ہیں) کہ کشور کمار کی نقل میں انڈیا، پاکستان میں لڑکوں نے لڑکیوں کا پیچھا کرنا شروع کیا اس پر حکومت نے اخلاق کے آداب اور پڑھائے۔
مگر علامہ صاحب کی کائنات میں رنگ بھرنے کی منزلوں پر معاشرے کے مرد نے آزادی کو جنسی آزادی اور فلموں کی طرح شیطانیت نے، حیوانیت اور بے لگام آزادی کاڈھول لیکر جنسی آزادی کو ہی مردانگی سمجھنا شروع کردیا۔
ہر طرف بدتہذیبی اور حیوانیت ایسی پھیلی کہ سال دوسال کی لڑکیوں کو لہولہان کرکے گردن مروڑ کے کوڑے کے ڈھیر پر پھینک کر ، اپنی تسکین اور بہادری کی داد خود ہی مانگتے پھرتے رہے۔
اپنی پسند کی شادی، جسکی اجازت اللّٰہ تعالیٰ اور میرے رسولﷺ دیتے ہیں۔ جو نوجوان ایسے قدم اٹھائیں، کورٹ میں جاکر نکاح پڑھوالیں، جیکب آباد میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ جاہلوں نے دونوں دیہات جلا ڈالے۔ شادی کرنا اور اس میں خاتون کی مرضی لازمی ہے۔
ڈاکٹر ماہ نور کوئٹہ کے اسپتال میں کام کررہی تھی۔ ایک خونخوار نے جب ماہ نور کی طرف سے انکار کا حرف سنا،مردانگی کو برداشت نہیں ہواتو اس ذلیل نے ماہ نور پرتیزاب پھینک دیا اور ماہ نور اس کی بربریت کا شکار ہوگئی۔ جبھی تو علامہ صاحب میری گزارش ، التجا حکومت وقت سے ہے کہ فوری طور پر تیزاب کا سر عام فروخت ہونا بند کیا جائے، کیا کریں واش روم کے لئے تیزاب بوتلوں میں فروخت ہورہا ہے ۔علامہ صاحب آپ ہی بتائیں کہ آپ کے خوبصورت شعر اور وجود زن کی تعریف کا کیسا حلیہ بگاڑا جارہا ہے۔
وجود زن کو جس انداز میں مشرق، مغرب دونوں جگہ لیا جارہا ہے ماہ نور جیسی ڈاکٹر بھی، ناں، کہہ کر مردانگی کو پسند نہیں آئی۔