کوئٹہ کی نوجوان معالج ڈاکٹر ماہ نورپر تیزاب گردی کا حالیہ اندوہناک واقعہ محض ایک فردِ واحد پر حملہ نہیں، بلکہ یہ انسانیت، طب ،سماجی و تہذیبی اقدار کے چہرے پر ایک ایسا بدنما داغ ہے جو ہماری بے حسی اور اخلاقی انحطاط کی المناک، شرمناک، خطرناک اور افسوسناک داستان سناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ڈاکٹر ماہ نور اس سفاکانہ حملے میں محفوظ رہیں، تاہم اس حادثے نے ایک بار پھر اِس تلخ اور لرزہ خیز حقیقت کو آشکار کر دیا ہے کہ پاکستان میں طبی عملہ مسلسل خوف، عدم تحفظ، تشدد، دھمکیوں اور جان لیوا خطرات کے حصار میںاپنے فرائضِ منصبی انجام دے رہا ہے۔اس موقع پرایک مددکرنے والے پیرا میڈیکل اسٹاف کی جانب سے جرات کا مظاہرہ قابل تقلید ہے۔ حملہ آور کا بعد ازاں پولیس مقابلے میں مارا جانا اپنی جگہ، مگر اصل سوال آج بھی پوری شدت سے ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے کہ آخر وہ لوگ جو زندگیاں بچاتے ہیں،چہروں پر مسکراہٹیں لاتے ہیں، خوشیاں بانٹتے ہیں، خود خوف اور وحشت کے سائے میں کیوں جینے پر مجبور ہیں؟
کسی بھی مہذب معاشرے میں معالج کو مسیحا، فرشتہ، شفا بخش اور انسانیت کا امین سمجھا جاتا ہے، لیکن ہمارے ہاں صورتحال اس قدر افسوسناک ہو چکی ہے کہ ہسپتال، جو سکون، امید اور شفا کی علامت تھے ، شورش، ہنگامہ آرائی ،انتشار اور تشدد کے مراکز بن جاتے ہیں۔ مریض دم توڑ دے، دوا ناپید ہو، بستر کم پڑ جائیں، وینٹی لیٹر دستیاب نہ ہوں، طبی وسائل جواب دے جائیں یا حکومت صحت کے شعبے کیلئے ناکافی بجٹ مختص کرے، ان تمام خرابیوں اور کوتاہیوں اور ناکامیوں کا ملبہ بالآخر ڈاکٹر کے سر پر ڈال دیا جاتا ہے۔
کورونا وبا کے ایام آج بھی ہمارے حافظے سے محو نہیں ہوئے۔ جب پوری دنیا خوف سے لرز رہی تھی، لوگ اپنے گھروں میں محصور تھے قریبی عزیز و اقربا ایک دوسرے سے گریزاں تھے ، تب سفید کوٹ پہنے یہ سپاہی موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے تھے۔ کتنے ڈاکٹر، نرسیں اور پیرامیڈکس اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر گئے۔ کتنے ایسے تھے جنہوں نے مریضوں کی جان بچانےکیلئے اپنا خون عطیہ کیا، کئی کئی راتیں جاگ کر آپریشن تھیٹرز اور ایمرجنسی وارڈز میں گزار دیں اور اپنی صحت کو دائوپر لگا دیا قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کیں لیکن اگراسپتالوں کے اندر کا منظر نامہ افسوسناک ہے تو فیلڈ میں کام کرنے والے ہیلتھ ورکرز کی داستان اس سے بھی زیادہ دل خراش ہے۔ خصوصاً پولیو ورکرز کی قربانیاں ہماری قومی تاریخ کا وہ باب ہیں جسے شاید ہم نے نہ تو سمجھا اور نہ کبھی اس عزت و احترام سے پڑھا جس کا وہ حق رکھتا ہے۔
سوچیے، ایک نوجوان لڑکی، جو چند سو روپے کے عوض اپنے غریب والدین یا اپنے بچوں کا پیٹ پالنےکیلئےصبح سویرے گھر سے نکلتی ہے، میلوں پیدل چلتی ہے، گرد آلود راستوں، دشوار گزار علاقوں، پہاڑوں، صحراؤں کو پار کرتی ہے اور نامساعد حالات کا سامنا کرتی ہے، صرف اس لیے کہ کسی معصوم بچے کی ٹانگیں عمر بھر کیلئے مفلوج نہ ہو جائیں۔ لیکن افسوس! ہم نے انہی بچیوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا، انہی نوجوانوں کے سینے چھلنی کیے اور انکے محافظوں کو بھی شہید کر دیا ۔ دنیا بھر میں صحت کے کارکنوں کو عزت و تکریم کی علامت سمجھا جاتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں بعض شرپسند عناصر انہیں آسان شکار تصور کرتے ہیں۔اس صورتحال کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ ہم آج بھی سیکورٹی کو محض رسمی کارروائی سمجھتے ہیں۔ ہسپتال کے دروازے پر چند گارڈ کھڑے کر دینا یا پولیو ٹیم کے ساتھ ایک اہلکار بھیج دینا تحفظ کا متبادل نہیں۔ سیکورٹی ایک مکمل سائنس ہے، ایک جامع حکمتِ عملی ہے، ایک مربوط حفاظتی نظام ہے جس میں خطرات کا تجزیہ، پیشگی منصوبہ بندی، ہنگامی ردِعمل، نگرانی کے جدید آلات، تربیت یافتہ عملہ اور مسلسل احتساب شامل ہوتا ہے۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس شعبے میں بھی بدعنوانی کی جڑیں گہری ہیں۔ کاغذات میں درجنوں گارڈز تعینات ہوتے ہیں، جبکہ عملی طور پر چند افراد ہی موجود ہوتے ہیں۔ سیکورٹی کے نام پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں مگر تحفظ پھر بھی ناپید رہتا ہے۔ جب تحفظ کا نظام ہی بدعنوانی کی نذر ہو جائے تو پھر جانوں کی حفاظت کیسے ممکن ہوگی؟
اسی طرح طبی عملے پر حملہ کرنے والوں کیلئے قانون میں ایسی سخت اور فوری سزائیں ہونی چاہئیں جو دوسروںکیلئے عبرت بن جائیں۔ ڈاکٹر، نرس یا ہیلتھ ورکر پر حملہ درحقیقت پورے معاشرے کے حقِ زندگی پر حملہ ہے۔ ایسے جرائم کے مقدمات کیلئےخصوصی عدالتیں قائم کی جائیں، فوری فیصلے ہوں اور مجرموں کو قانون کے مطابق سخت ترین سزائیں دی جائیں۔
میری رائے میں شہید ہیلتھ ورکرز اور پولیو کارکنوں کو اعلیٰ قومی اعزازات سے نوازا جانا چاہیے۔ قومی ہیروز کی فہرست میں ان سفید پوش مجاہدوں کا نام بھی شامل ہونا چاہیے۔ وطن کا دفاع صرف سرحدوں پر نہیں ہوتا بیماریوں، وبائوں، معذوری اور موت کیخلاف لڑنے والے بھی اسی وطن کے محافظ ہیں۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست، معاشرہ، قانون نافذ کرنیوالے ادارے اور صحت کے منتظمین اس مسئلے کو محض انتظامی مسئلہ نہ سمجھیں بلکہ اسے قومی بقا اور انسانی وقار کا مسئلہ تصور کریں۔ کیونکہ جب معالج خوف زدہ ہو، نرس غیر محفوظ ہو، پولیو ورکر موت کے سائے میں کام کر رہا ہو اور صحت کا نظام مسلسل حملوں کی زد میں ہو تو درحقیقت پورا معاشرہ بیمار ہو جاتا ہے۔
چراغِ زیست جلانے نکلے تھے جو لوگ
ہوائے ظلم نے ان ہی کو بجھانے کی ٹھان لی