کولمبیا یونیورسٹی کے سابق طالب علم اور فلسطینی نژاد سماجی کارکن محمود خلیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے متعدد اعلیٰ عہدیداروں اور 3 نجی تنظیموں کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔
مقدمے میں انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مجھے منظم سازش کے تحت نشانہ بنایا گیا اور ملک بدر کرنے کی کوشش کی گئی۔
گزشتہ روز نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں امریکی وفاقی ضلعی عدالت میں دائر کیے گئے مقدمے میں قدامت پسند تھنک ٹینک ہیریٹیج فاؤنڈیشن، اسرائیل نواز تنظیموں بیطار اور کینری مشن سمیت ٹرمپ انتظامیہ کے کئی سینئر حکام کو فریق بنایا گیا ہے، مقدمے میں مدعا علیہان سے ہرجانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
درخواست میں وائٹ ہاؤس کے مشیر اسٹیفن ملر کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جنہوں نے جنوری 2025ء میں ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت شروع ہونے سے قبل ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے ساتھ کام کیا تھا۔
مدعا علیہان میں اسٹیفن ملر، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، سابق اور موجودہ سیکریٹریز برائے ہوم لینڈ سیکیورٹی کرسٹی نوم اور مارک وین ملن، جبکہ قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش بھی شامل ہیں۔
مقدمے میں عدالت سے یہ درخواست بھی کی گئی ہے کہ مبینہ سازش کے کسی بھی پہلو کو محمود خلیل کے خلاف جاری ملک بدری کی کارروائی کا جواز بنانے سے روکا جائے۔
عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خلیل نے کہا کہ یہ مقدمہ صرف میرے ساتھ ہونے والے سلوک کا معاملہ نہیں بلکہ ان تنظیموں، سیاسی شخصیات اور اداروں کے اس نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کے لیے ہے جو فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کو جرم بنانے اور خاموش نہ رہنے والوں کو عبرت کا نشان بنانے کے لیے مل کر کام کرتے ہیں۔
گرین کارڈ کے حامل محمود خلیل کو 8 مارچ 2025ء کو وفاقی اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا اور بعد ازاں انہیں ریاست لوزیانا کے ایک امیگریشن حراستی مرکز میں 104 روز تک زیرِ حراست رکھا گیا تھا۔
اس کے بعد سے وہ وفاقی عدالت اور امیگریشن عدالت دونوں میں اپنی ملک بدری کے خلاف قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔
جون 2025ء میں نیو جرسی کی ایک وفاقی عدالت نے محمود خلیل کی رہائی کا حکم دیا تھا، تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی، جو کامیاب رہی اور وفاقی عدالت کے دائرہ اختیار کو مسترد کر دیا گیا۔
بعد ازاں ایک وفاقی جج نے مقدمے میں حکمِ امتناع جاری کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کو قانونی کارروائی مکمل ہونے تک محمود خلیل کو دوبارہ حراست میں لینے یا ملک بدر کرنے سے روک دیا تھا۔