بھارتی ریاست اتر پردیش میں ایک پیٹرول پمپ پر معمولی جھگڑے کے نتیجے میں 28 سالہ نوجوان جیویندر سنگھ عرف وکی کے دونوں ہاتھ کلہاڑی کے وار سے کلائیوں تک کاٹ دیے گئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق واقعہ منگل کی رات 11 بجے ایک پیٹرول پمپ کے سامنے پیش آیا، متاثرہ نوجوان ایندھن بھروانے کے لیے پیٹرول پمپ گیا تھا جہاں تیل بھروانے کے دوران جھگڑا ہو گیا، الزام ہے کہ جھگڑے کے بعد حملہ آوروں نے کلہاڑی سے حملہ کر کے اسے شدید زخمی کر دیا اور موقع سے فرار ہو گئے۔
منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے حملے میں وکی کے دونوں ہاتھ کلائیوں سے الگ کر دیے گئے جبکہ اس کی ٹانگ اور سر پر تیز دھار ہتھیار سے کئی گہرے وار کرنے سے بھی شدید زخم آئے ہیں۔
اطلاع ملنے پر اہلِ خانہ موقع پر پہنچے تو نوجوان خون میں لت پت پڑا تھا، والدہ نے کپڑے کی مدد سے اس کے کٹے ہوئے ہاتھ باندھے اور سر پر کپڑا لپیٹ کر خون بہنے سے روکنے کی کوشش کی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق راہگیروں نے زخمی نوجوان کو سڑک پر پڑا دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد اسے اسپتال منتقل کیا گیا۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز کے مطابق نوجوان کی حالت انتہائی نازک ہے، دونوں ہاتھ تقریباً مکمل طور پر کٹ چکے ہیں جبکہ ٹانگ اور سر پر بھی گہرے زخم موجود ہیں۔
متاثرہ خاندان نے حملے میں ایک مقامی سیاسی رہنما کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے خاندان کی شکایت پر مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ پیٹرول پمپ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔
پولیس نے ایک ملزم کو حراست میں لے لیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔