• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ناروے کی کراؤن پرنسس کے بیٹے کو جبری زیادتی کیس میں چار سال قید کی سزا

تصویر سوشل میڈیا۔
تصویر سوشل میڈیا۔

ناروے کی ایک عدالت نے تاریخی فیصله دیتے ہوئے ناروے کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ ماریئس بورگ ہوبی کو اوسلو ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپنی سابق گرل فرینڈ 29 سالہ نورا ہوکلینڈ کے خلاف جبری زیادتی اور بدسلوکی کے علاوہ دیگر خلاف ورزیوں پر چار سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ناروے کی ایک عدالت نے شاہی کراؤن پرنسس کے بیٹے کو متعدد سنگین جرائم میں مجرم قرار دیتے ہوئے چار سال قید کی سزا سنائی ہے، جبکہ ان کے خلاف عائد چار ریپ الزامات میں سے دو میں انہیں بری کر دیا گیا۔

عدالت کی جانب سے سنائے گئے 128 صفحات پر مشتمل متفقہ فیصلے کے مطابق ماریئس بورگ ہوبی کو 2023 میں لوفوٹین میں پیش آنے والے ایک مبینہ مکمل ریپ کیس سے بری کر دیا گیا۔ 

استغاثہ کا مؤقف تھا کہ خاتون اس وقت سو رہی تھیں اور مزاحمت کے قابل نہیں تھیں، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ شواہد اس الزام کو بلا شبہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں تھے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ خاتون کے بیان پر عدالت کو شک نہیں، لیکن فوجداری مقدمات میں ثبوت کے سخت معیار مقرر ہیں۔ عدالت کے مطابق ایک حقیقی امکان موجود ہے کہ ملزم نے خاتون کو جگایا ہو یا اسے یقین ہو کہ خاتون جاگ رہی تھیں، اسی لیے مناسب شک کا فائدہ ملزم کو دیا گیا۔

استغاثہ نے خاتون کی اسمارٹ واچ کے پلس ڈیٹا کو بطور ثبوت پیش کیا، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ یہ شواہد موجودہ شکوک کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ البتہ ماریئس بورگ ہوبی کو خاتون کی رضامندی کے بغیر ویڈیو بنانے کے جرم میں قصور وار قرار دیا گیا، کیونکہ متعلقہ ویڈیو ان کے موبائل فون سے برآمد ہوئی تھی۔

عدالت نے انہیں ایک اور جبری زیادتی کے الزام سے بھی بری کر دیا جو 2024 میں اوسلو کے ایک ہوٹل میں پیش آنے والے مبینہ واقعے سے متعلق تھا۔

تاہم عدالت نے ماریئس بورگ ہوبی کو دو دیگر جنسی جرائم میں مجرم قرار دیا۔ ان میں سے ایک واقعہ دسمبر 2018 میں سکاؤگم میں پیش آیا، جو ناروے کے ولی عہد جوڑے شہزادہ ہاکون اور شہزادی میٹ میرٹ کی سرکاری رہائش گاہ ہے، جبکہ دوسرا واقعہ ایسٹر 2024 کے دوران ایک بعد از پارٹی سے متعلق تھا۔

عدالت نے انہیں سابق گرل فرینڈ نورا ہاؤکلینڈ کے خلاف طویل عرصے تک نفسیاتی اور جسمانی تشدد کرنے کے جرم میں بھی قصوروار قرار دیا۔ اس کے علاوہ فروگنر سے تعلق رکھنے والی خاتون کے خلاف تشدد، دھمکیاں، ہراسانی، متعدد ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں اور منشیات سے متعلق جرائم میں بھی سزا سنائی گئی۔

فیصلے کے تحت ماریئس بورگ ہوبی کو مختلف متاثرہ خواتین کو مجموعی طور پر لاکھوں ناروین کرونر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ نورا ہاؤکلینڈ کو 100,000 کرونر، سکاؤگم کیس کی متاثرہ خاتون کو 230,000 کرونر، بعد از پارٹی کیس کی خاتون کو 200,000 کرونر اور فروگنر خاتون کو 110,000 کرونر ادا کیے جائیں گے۔

عدالت نے فروگنر خاتون کے حق میں دو سالہ پابندی کا حکم  بھی جاری کیا ہے، جس کے تحت ماریئس بورگ ہوبی ان سے رابطہ نہیں کر سکیں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مقدمہ ناروے میں غیرمعمولی توجہ کا مرکز رہا، کیونکہ ماریئس بورگ ہوبی ناروے کی کرائون پرنسس میٹ میرٹ کے بیٹے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
برطانیہ و یورپ سے مزید