امریکی میڈیا کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان اتوار والی مفاہمتی یادداشت کے جوہری نکات کا انحصار اگلے 60 دن میں تفصیلی جوہری معاہدے کے ہونے یا نہ ہونے پر ہے۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ جمعے کو وینس، وٹکوف، کشنر کی قالیباف اور عراقچی سے ملاقات متوقع ہے، ملاقات میں پاکستانی اور قطری ثالث بھی شریک ہوں گے تاکہ اگلے مرحلے پر بات کی جا سکے، 14 نکات پر مشتمل ابتدائی معاہدے کا مکمل متن ابھی تک جاری نہیں کیا گیا۔
ایک ذرائع کے مطابق موجودہ مفاہمتی یادداشت میں ایران کو نسبتاً زیادہ فائدہ ملتا ہے، اس معاہدے کا مقصد جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور 60 روزہ مذاکرات کا آغاز کرنا ہے، اس معاہدے کو دونوں فریقوں کی رضامندی سے مزید بڑھایا جا سکتا ہے، مذاکرات کے دوران ایران اپنے سابقہ مؤقف کو دہرائے گا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ معاہدے کے مطابق امریکا اور ایران افزودہ جوہری مواد کے ذخائر سے متعلق حل تلاش کریں گے، فریقین ایران کی جوہری ضروریات سے متعلق دیگر امور پر بھی بات کریں گے، جب تک مذاکرات جاری رہیں گے، ایران اپنے جوہری پروگرام میں موجودہ صورتِحال برقرار رکھے گا، جواب میں امریکا نئی پابندیاں نہیں لگائے گا اور خطے میں اضافی فوجی دستے تعینات نہیں کرے گا۔
امریکی میڈیا کے مطابق حتمی جوہری معاہدہ طے پاتا ہے تو امریکا 30 دن میں اپنی جنگی اضافی فوجی قوت واپس بلا لے گا، معاہدہ طے پا جاتا ہے تو طے شدہ شیڈول کے مطابق ایران پر عائد تمام پابندیاں ختم کر دے گا، معاہدے کے ناقدین کا خیال ہے کہ ایران امریکی شرائط پر جوہری معاہدہ قبول نہیں کرے گا، اس دوران اسے امریکا کے مقابلے میں ایران کو زیادہ فوائد حاصل ہوں گے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کو ملنے والے تمام فوائد عملی اور اہم اقدامات سے مشروط ہیں، امریکا 2، 3 ہفتوں میں جان لے گا کہ ایران جوہری رعایتیں دینے میں سنجیدہ ہے یا نہیں، ایسا نہ ہوا تو مذاکراتی عمل روک دیا جائے گا اور ایران کو زیادہ فائدہ نہیں ملے گا۔
سینیٹر لنزے گراہم نے کہا ہے کہ تشویش ہے کہ ایران اس معاہدے کو امریکی مذاکراتی ٹیم سے مختلف انداز میں دیکھ رہا ہے، معاہدے کا متن فوری طور پر جاری کیا جائے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو جلد دوبارہ کھولنے کی شق بھی شامل ہے، ایران 60 دن تک تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گا، ایران اس دوران کوئی فیس وصول نہیں کرے گا، امریکا اپنی بحری پابندیوں کو مرحلہ وار ختم کرے گا، 30 دن میں مکمل ہٹا دے گا، ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام اور بحری خدمات پر لائحہ عمل کے لیے بات کریں گے، خلیجی ممالک بھی اس عمل میں شریک ہوں گے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے اشارہ دیا ہے کہ 60 دن ختم ہونے پر جہازوں سے گزرنے کی فیس لینے پر غور ہو سکتا ہے، مذاکرات میں ایک اہم اور متنازع مسئلہ ایران کے منجمد فنڈز اور اثاثوں کی واپسی بھی تھا، معاہدے میں ہے کہ امریکا ان رقوم کو استعمال کے لیے دستیاب بنانے کی کوشش کرے گا، تاہم اس کی تفصیلات واضح نہیں۔
امریکی حکام کے مطابق یہ کارکردگی کے بدلے فائدے کی بنیاد پر ہو گا، اگر ایران مثبت اقدامات کرتا ہے تو امریکا اس کے بدلے کچھ فنڈز جاری کر سکتا ہے، معاہدے میں ہے کہ حتمی معاہدے میں ایران کی تعمیرِ نو شامل ہو گی، حتمی معاہدے میں ایران کی اقتصادی ترقی کے لیے 300 ارب ڈالرز کے فنڈ کا واضح اور باہم منظور شدہ منصوبہ شامل ہو گا۔
معاہدے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک طویل مدتی منصوبہ ہے، یہ منصوبہ صرف اسی صورت حقیقت بنے گا جب ایران اپنا جوہری پروگرام ختم کرے اور نمایاں اصلاحات نافذ کرے۔