سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے صدر ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس اداروں کے پاس موجود شواہد ایران کے ارادوں پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں اور یہ شبہ ظاہر کرتے ہیں کہ تہران حتمی معاہدے میں مطلوبہ جوہری رعایتیں دینے پر آمادہ نہیں۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے صدر ٹرمپ اور دیگر حکام کو ایران سے متعلق رپورٹ دی ہے کہ جمع کردہ شواہد کے مطابق امریکا جن جوہری رعایتوں کا مطالبہ کر رہا ہے حتمی معاہدے میں ان پر ایران کی آمادگی مشکوک ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کی ٹیم میں صرف ریٹکلف ہی اس معاہدے کے بارے میں شکوک نہیں رکھتے، مشاورت میں وزیرِ خارجہ اور وزیرِ دفاع نے بھی مفاہمتی یادداشت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اس معاہدے کے حامی تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اتوار کو معاہدے کے اعلان سے قبل ٹرمپ اور ان کے مشیروں کے درمیان کئی اجلاس ہوئے۔
ان اجلاسوں میں مختلف امریکی خفیہ اداروں کی معلومات کا جائزہ لیا گیا۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ان معلومات سے پتہ چلا کہ ایرانی حکام کی باتیں ثالثوں اور امریکی حکام سے ہوئی باتوں سے مختلف تھیں۔
اجلاس میں ریٹکلف اور روبیو کا کہنا ہے کہ ان معلومات کی بنیاد پر انہیں شک ہے، خفیہ معلومات بتاتی ہیں کہ ایران کے اصل ارادے معاہدے والے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔
وائٹ ہاؤس عہدیدار کے مطابق ٹرمپ مختلف آرا سنتے ہیں، فیصلہ انہی کا ہوتا ہے، یہ مفاہمتی یادداشت امریکی حکومت کی تمام شرائط پوری کرتی ہے، تمام بنیادی شرائط یعنی ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا، ایران زیادہ افزودہ یورینیم اپنے پاس نہیں رکھ سکے گا نہ دنیا کی توانائی کی فراہمی یرغمال بنا سکے گا، ٹرمپ صرف اچھے حتمی معاہدے کو قبول کریں گے۔
سی آئی اے اور وزارت خارجہ نے معاملے پر تبصرہ سے انکار کیا ہے اور پینٹاگون نے کوئی جواب نہیں دیا۔