ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ مذاکرات دو مراحل میں انجام پائیں گے۔
تہران میں سفارت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کا نیا دور ممکنہ طور پر جمعے کو سوئٹزر لینڈ میں شروع ہو گا، ابتدائی مرحلے میں جنگ بندی اور علاقائی معاملات جبکہ بعد ازاں جوہری پروگرام اور پابندیوں کے خاتمے پر بات چیت ہو گی۔
عباس عراقچی نے کہا کہ مذاکرات کے پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز کی صورتِ حال، امریکی بحری ناکہ بندی اور ایران کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کے بعد تعمیرِ نو جیسے معاملات زیرِ بحث آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں جوہری پروگرام، یورینیئم کی افزودگی اور ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے سے متعلق امور پر تفصیلی مذاکرات کیے جائیں گے، جن کا مقصد ایک حتمی معاہدے تک پہنچنا ہے، مفاہمتی یادداشت میں ایک طرف امریکا اور اسرائیل ہیں، دوسری جانب ایران اورحزب اللّٰہ فریق ہیں۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے لبنان کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور لبنان میں جنگ کے خاتمے کے معاملات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ لبنان کے کسی بھی حصے پر اسرائیل کا مسلسل قبضہ یا آئندہ کسی قسم کی فوجی کارروائی امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (MoU) کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔
عراقچی نے کہا کہ لبنانی سر زمین پر اسرائیلی قبضے کا جاری رہنا مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی ہے، جبکہ لبنان پر کسی نئے حملے کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔
عباس عراقچی کے مطابق ایران کے وقت کے مطابق پیر کے روز امریکا کے ساتھ معاہدہ حتمی شکل اختیار کرنے کے بعد جنگ کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مفاہمتی یادداشت باضابطہ طور پر جمعے سے نافذ العمل ہو گی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اگلے مرحلے کے مذاکرات شروع ہوں گے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایک وسیع تر سیاسی و جوہری سمجھوتے کی جانب اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔