پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما سینیٹر مشال یوسفزئی نے کہا ہے کہ بانی نے آخری ٹرائل میں خیبر پختونخوا کے بجٹ سے متعلق ہدایات دی تھیں، سینئر وکلا بھی موجود تھے۔
اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کی قانونی ٹیم کے مطابق تین ماہ کے بجٹ میں کوئی قانونی سقم نہیں۔ بانی پی ٹی آئی نے مزمل اسلم کو بجٹ کے طریقہ کار پر واضح احکامات دیے تھے۔
مشال یوسفزئی نے کہا کہ کون سی قیادت ہے جس نے بانی کی اجازت کے بغیر مکمل بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کیا؟ مکمل بجٹ کے معاملے پر نہ سیاسی کمیٹی کا اجلاس ہوا، نہ پارلیمانی پارٹی نے ایسا کوئی فیصلہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی پارٹی نے آرٹیکل 125 کے تحت صرف صوبائی امور چلانے کیلئے بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
پی ٹی آئی سینیٹر نے سوال اٹھایا کہ وفاق بانی پی ٹی آئی کے انسانی حقوق بحال نہیں کر رہا تو ہم ہر معاملے میں اچھے بچے کیوں بنیں؟
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت وزیراعلیٰ کے پی ہماری قیادت ہے، وہ خود بجٹ کے معاملے پر فیصلہ کریں گے۔ وزیراعلیٰ تک بجٹ سے متعلق بانی پی ٹی آئی کی ہدایات پہنچ چکی ہوں گی۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے ترجمان شوکت یوسفزئی نے کہا تھا کہ صوبائی حکومت نے پورے سال کا بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہونے کی صورت میں 3 ماہ کا بجٹ پیش کرنا چاہتے تھے، لیکن اس میں قانونی سقم آڑے آگیا ہے۔