برسلز: وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ بھارت پانی کو پاکستان کے خلاف ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ پانی روکنے کی ہر کوشش پاکستان پر حملہ تصور ہوگی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے یورپین دارالحکومت برسلز پہنچنے پر جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناقابلِ قبول سمجھتا ہے، یہ پاکستان کی زراعت کی صورت پاکستان کی 25 فیصد معیشت، کروڑوں انسانوں کے روزگار، 100 فیصد خوراک کی پیداوار اور قومی سلامتی سے جڑا معاملہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ عالمی قوانین، بین الاقوامی معاہدوں کے احترام اور دنیا بھر کے زیریں دریا بردار ممالک کے حقوق کا بھی اہم امتحان ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر پانی کو روکنے یا اس کے بہاؤ میں مداخلت کی کوشش کی گئی تو پاکستان اسے جنگی اقدام کے مترادف سمجھے گا۔
ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوئی قانونی گنجائش موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف پانی کا نہیں بلکہ عالمی معاہدوں کی حرمت، بین الاقوامی اداروں کی ساکھ اور قواعد پر مبنی عالمی نظام کے مستقبل کا بھی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پانی کا مرکز اور دریاؤں کا بالائی بہاؤ رکھنے والے ممالک کو زیریں ممالک کے پانی کو روک، محدود یا اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت مل گئی تو دریاؤں پر انحصار کرنے والے ممالک غیر محفوظ ہو جائیں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ 1960 میں جب سندھ طاس معاہدہ طے پایا تو پاکستان نے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے ماحولیاتی بہاؤ، محدود زرعی ضروریات اور پن بجلی کے استعمال کو معاہدے کے اندر جگہ دی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے کبھی پانی کو محض سیاسی یا تزویراتی مسئلہ نہیں سمجھا بلکہ اسے انسانی ضرورت، علاقائی استحکام اور ماحولیاتی تحفظ کے تناظر میں دیکھا۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے موسمیاتی تبدیلی کے پہلو پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، مگر موسمیاتی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون، سفارت کاری، مکالمے اور باہمی احترام پر یقین رکھتا ہے، لیکن اپنے عوام، پانی، زراعت، خوراکی سلامتی، بچوں کے مستقبل اور قومی معیشت کے تحفظ کو اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھتا ہے۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ قدرتی وسائل کو تنازع اور دباؤ کا ذریعہ بنانے کے بجائے تعاون، امن اور مشترکہ ترقی کا وسیلہ بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ ہم بین الاقوامی معاہدوں کے احترام، مشترکہ آبی وسائل کے منصفانہ استعمال، ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی انصاف اور زیریں دریا بردار ممالک کے حقوق کے حامی ہیں۔
ڈاکٹر مصدق ملک یورپ کے معروف تھنک ٹینک سینٹر فار یورپین پالیسی اسٹڈیز کی دعوت پر برسلز پہنچے، جہاں وہ اہم بین الاقوامی کانفرنس “Transboundary Water Resources: A Weaponized Global Commons” میں شرکت کریں گے۔