• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانوی پولیس کا دکانوں سے چوری کرنیوالوں کے خلاف مقدمات تیزی سے چلانے کا مطالبہ

لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے دکانوں سے چوری کرنے والوں کے مقدمات کے فاسٹ ٹریک ٹرائلز کا مطالبہ کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ صرف 104 عادی مجرم گزشتہ دو برسوں میں 5,300 سے زائد جرائم کے ذمہ دار ہیں۔

ان 104 افراد میں سے ہر ایک نے جیل جانے سے پہلے کم از کم 31 مرتبہ قانون کی خلاف ورزی کی۔ دکانوں سے چوری کے یہ جرائم ان تمام مقدمات کا ایک تہائی تھے جن میں ملزمان کی شناخت ہو چکی تھی۔ ان مجرموں میں صرف تین افراد کو چھوڑ کر باقی سب نے فردِ جرم عائد ہونے کے بعد بھی جرائم کا سلسلہ جاری رکھا۔

میٹرو پولیٹن پولیس، برٹش ریٹیل کنسورشیم اور ریٹیل ٹرسٹ نے ہوم آفس اور منسٹری آف جسٹس کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ قانون میں اصلاحات کے ذریعے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں تاکہ بار بار جرم کرنے والوں پر فردِ جرم عائد کرکے انہیں 72 گھنٹوں کے اندر عدالت میں پیش کیا جا سکے۔

اسسٹنٹ کمشنر میٹ ٹوئسٹ نے کہا ہے کہ نیبرہڈ پولیس افسران عادی مجرموں کو گرفتار کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔ برٹش ریٹیل کنسورشیم کی چیف ایگزیکٹو ہیلن ڈکنسن نے کہا کہ بہت سے ایسے مجرم ہیں جنہیں اپنے جرائم کے پر کوئی مؤثر سزا نہیں ملتی۔

میٹ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق مئی 2025 میں ختم ہونے والے سال کے دوران دکانوں میں چوری کے 101,924 واقعات پیش آئے۔ ان میں سے 6,239، یعنی 6.8 فیصد مقدمات میں کارروائی کے نتیجے میں مثبت پیش رفت ہوئی، جبکہ مئی 2026 میں ختم ہونے والے سال میں جرائم کی تعداد 100,264 رہی اور مثبت نتائج کی شرح بڑھ کر 14.3 فیصد ہو گئی۔

حکومتی ترجمان نے کہا کہ چوریاں ہائی اسٹریٹ کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں اور کاروبار کو کمزور کرتی ہیں، حکومت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات کر رہی ہے، فردِ جرم عائد ہونے کی شرح میں 17 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ نام نہاد ”200 پاؤنڈ تک کی چوری“ والی رعایت بھی ختم کی جا رہی ہے تاکہ چوری کرنے والوں کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید