ہانیہ احمد کی عمر صرف نو برس تھی۔اتنی عمرکےبچے موت کا مطلب نہیں جانتے ،ریاست کا مطلب نہیں جانتے، آئین، قانون ،پولیس ا،ختیارات اور احتساب جیسے الفاظ ان کی لغت کا حصہ نہیں ہوتے وہ صرف اتنا جانتے ہیں کہ دادا کے گھر جانا ہے، نئے کپڑے پہننے ہیں، تصویریں بنانی ہیں ،ہنسنا ہے ،کھیلنا ہے اور رات کو ماں کے پہلو میں سو جانا ہے۔
چکوال کی ایک رات نے ایک بچی سے صرف اس کی زندگی نہیں چھینی اس نے ایک سوال پاکستانی معاشرے کے سامنے رکھ دیا ہے، ایسا سوال جس سے بھاگنا آسان ہےتاہم اس کا جواب دیے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ ہانیہ اپنے والدین کے ساتھ آسٹریلیا سے پاکستان آئی تھی حج کی سعادت کے بعد واپسی تھی۔مکہ اور مدینہ کی فضاؤں سے لوٹ کر ہر دل نرم ہوتاہے ۔ہر انسان میں ایک سکون اتراہوتاہےانہوںنے سوچا ہوگا کہ بچوں کو اپنے لوگوں سے ملوائیں گےددھیال کے ساتھ وقت گزاریں گے رشتوں کی گرمی محسوس کریں گے انہیں کیا معلوم تھا کہ چند گھنٹوںکےبعد ان کی زندگی دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ ایک حصہ وہ جب ہانیہ زندہ تھی اور دوسرا جب ہانیہ نہیں تھی۔
یہاں رک کر ذرا تصور کیجیے ایک گاڑی کھڑی ہے اس میں ایک خاندان بیٹھا ہے ایک باپ ہے دو بچے ہیں اچانک شور اٹھتا ہے اسلحہ نکلتا ہے فائرنگ شروع ہوجاتی ہےچند سیکنڈ گزرتے ہیں اور پھر ایک بچی کا جسم گولیوں سے چھلنی ہو جاتا ہے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اسکے جسم پر متعدد زخم تھے پھیپھڑے متاثر ہوئے، جگر زخمی ہوا آنتیں پھٹ گئیں، ران کی ہڈی ٹوٹ گئی ۔یہ صرف طبی الفاظ ہیں مگر ایک باپ کیلئے یہ اسکی بیٹی کے جسم کا نوحہ ہےمجھے نہیں معلوم کہ ہانیہ کے آخری الفاظ کیا تھے شاید اس نے اپنے باپ کو پکارا ہوگا، شاید اس نے پوچھا ہوگا کیا ہوا ،شاید وہ صرف رونا چاہتی ہوگی اور شاید اسے یہ بھی نہیں معلوم ہوگا کہ اسے مارنے والی گولی کسی ڈاکو نے نہیں چلائی تھی۔ یہی اس سانحے کا سب سے بڑا المیہ ہے ۔کچھ سانحات محض حادثے نہیں ہوتے ،پورے نظام کا آئینہ ہوتے ہیں۔اصل سوال یہ نہیں کہ ہانیہ کیسے ماری گئی اصل سوال یہ ہے کہ ہم یہاں تک پہنچے کیسے ہم کب اس مقام پر پہنچ گئے جہاں طاقت کو احتساب سے زیادہ اہم سمجھا جانے لگا، ہم کب اس مقام پر پہنچ گئے جہاں ہر مسئلے کا حل بندوق میں تلاش کیا جانے لگا ،ہم کب اس مقام پر پہنچ گئے جہاں قانون کی سست روی کا علاج قانون کو کمزور کرنا سمجھ لیا گیا ، پچھلے برسوں میں ایک خطرناک سوچ نے جنم لیا کہ عدالتیں سست ہیں مقدمات لمبے ہیں اس لیے فوری انصاف ہونا چاہیے ۔یہ سوچ دلکش لگتی ہے لوگ تالیاں بجاتے ہیں جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ فلاں ملزم مارا گیامگر تاریخ کا اصول ہے جب آپ کسی ریاستی اہلکار کو قانون سے اوپر کھڑا کر دیتے ہیں تو وہ صرف مجرموں کیلئے خطرہ نہیں رہتا وہ ہر شہری کیلئے خطرہ بن جاتا ہےکیونکہ بندوق کے پاس شعور نہیں ہوتا گولی کے پاس اخلاقیات نہیں ہوتیں ٹریگر دبانے کے بعد فیصلہ عدالت نہیں کرتی چند سیکنڈ کا انسانی اندازہ کرتا ہے اور انسانی اندازے غلط بھی ہوتے ہیںاسی لیے مہذب معاشروں نے عدالتیں بنائیں، قوانین بنائے، شواہد کا نظام بنایا کیونکہ انسان غلطی کرتا ہےلیکن چکوال میں ایک غلطی کی قیمت ایک بچی کی جان بنی اور پھر ہمیشہ کی طرح بیانات آگئے تحقیقات ہوں گی، رپورٹ آئے گی، ذمہ داروں کا تعین ہوگا مگر ہانیہ کا راستہ ختم ہو چکا۔وہ اسکول واپس نہیں جائے گی ،وہ اپنے دوستوں سے نہیں ملے گی، وہ اپنی سالگرہ نہیں منائے گی ،وہ جوان نہیں ہوگی ،وہ خواب نہیں دیکھے گی ،اس کے ماں باپ کبھی پہلے جیسے نہیں ہو سکیں گے۔یہ وہ نقصان ہے جسکی تلافی کسی رپورٹ سے نہیں ہوتی ۔
پنجاب حکومت سے سوال ہے کہ ریاست کی پہلی ذمہ داری شہری کی جان کا تحفظ ہے، جب ریاستی اہلکار شامل ہوں تو حکومت کو جواب دینا پڑتا ہے کہ غلطی کہاں ہوئی ،تربیت کہاں گری، نگرانی کہاں ٹوٹی ،احتساب کہاں غائب ہوا۔اگر ہر واقعے کے بعد کہا جائے کہ یہ انفرادی غلطی تھی تو سوال ہے یہ غلطیاں ایک ہی نظام میں کیوں بار بار پیدا ہوتی ہیں۔سانحہ ساہیوال آج بھی لوگوں کو یاد ہےاور آج ہانیہ اس فہرست میں شامل ہو گئی ہے۔
لوگوں کو ڈر لگنے لگا ہے جرائم سے نہیں بلکہ اس امکان سے کہ وہ غلط وقت پر غلط جگہ پر نہ ہوں،ریاست کا کام خوف کم کرنا ہوتا ہے خوف پیدا کرنا نہیںاور اگر والدین یہ سوچنے لگیں کہ ان کے بچوں کی حفاظت کوئی ضمانت نہیں تو یہ ایک بحران ہے۔آج شاید لوگ سمجھیں کہ یہ ایک خبر ہے چند دن کا شور ہے مگر ایسا نہیں ہوتا ریاستیں صرف آئین سے نہیں چلتیں یادداشت سے بھی چلتی ہیں، قومیں واقعات یاد رکھتی ہیں ، مائیں قبریں یاد رکھتی ہیں، تاریخ سوال یاد رکھتی ہے۔
ہانیہ اب ایک نام نہیں ایک سوال ہےوہ سوال کہ ریاستی طاقت کی حد کہاں ہے،وہ سوال کہ فوری انصاف اور حقیقی انصاف میں فرق کیا ہے،وہ سوال کہ ایک بچے کی جان کی قیمت کیا ہے؟چکوال میں صرف ایک بچی نہیں مری کچھ اور بھی مجروح ہوا ،اعتماد یقین اور ریاست پر بھروسہ ۔یہ اعتماد صرف بیانات سے واپس نہیں آتا بلکہ شفاف احتساب اور اصلاحات سے آتا ہے۔ہانیہ واپس نہیں آئےگی لیکن اگر ہم نے کچھ نہ سیکھا تو المیہ صرف اس کی موت نہیں ہوگا بلکہ ہمارا اجتماعی زوال ہوگا۔