کوئی تین سال کا بچہ، اندر بھاگا بھاگا آیا۔ دکھانے لگا چھید والا سکہ، دادو! یہ کیا ہے، میں نے ہاتھ میں لےکر بتایا ’’یہ ایک پیسے کا سکہ ہے‘‘، مگر اس پیسے کو کہاں استعمال کرتے تھے۔ اسکے سوالات بڑھتے ہی جارہے تھے۔ میں نے گود میں لےکر اسے بتایا۔ بیٹے جان ! ’’پہلے ایک پیسےمیں سنگھاڑے، بیر اور ذرا سے دال موٹھ آجاتے تھے‘‘۔ دادو! اب بتائیں یہ کتنا پرانا ہے۔ ساتھ ہی میری مائی بیٹھی تھی۔ وہ خوشی خوشی بتانے لگی، دیکھو تو ایک پیسےکی اکنی، آٹھ پیسوں کی اٹھنی،چار پیسوں کی چونی ہوتی تھی۔’’ دادو! یہ بتائیں کس زمانے میں ایسا ہوتا تھا‘‘ میں نے گہرا سانس لیتے ہوئے اسے بتایا کہ جب پاکستان بناتھا تو اس وقت یہ سکے ہوتے تھے۔ اچھا دادو! وہ ایک روپیہ کتنے پیسوں کا ہوتا تھا؟۔ بیٹا 16آنے کا۔ اب یہ سب چیزیں نظر نہیں آتیں۔ بیٹا! تم سے بڑی باجی، ان سے بڑے بھائی اور پھر تمہاری امی اسکے بعد تمہاری دادو۔اچھا یہ بتائیں اب تو سوروپے کا نوٹ دکھائی دیتا ہے اور ایک ہزار کا نوٹ! بس سمجھو ، آج کا ہزار کا نوٹ پرانے زمانے کے سو روپے کے نوٹ کے برابر ہوتا ہے۔
یہ بچہ ایک کے بعد دوسرے کے پاس جا کر پوچھتا پھررہا تھا کہ دھیلہ، پھر پیسہ اور اکنی سے اٹھنی تک سب ختم ہوگئیں۔
آخر کو باپ کے پاس گیا بولا’’ ابوجی! دادو تو پتہ نہیں کیا بتارہی ہیں، اس زمانے میں پیسہ کیوں نظر نہیں آتا۔‘‘ بیٹا! مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے، لوگ بھی زیادہ ہوگئے ہیں۔ پہلے ایک گھر میں چار افراد ہوتے تھے، اب آٹھ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خرچ بڑھ گئے۔دادو نے تو بتایا تھا کہ پہلے سکے بنائے جاتے تھے اب کیوں نہیں بناتے، بیٹا! مہنگائی بہت ہوگئی ہے۔ اب چلو میں تمہیں کھیت میں لےکر چلوں، دیکھو فصل کیسے کاٹی جاتی ہے۔بچے نے جوگر پہنے اور گاڑی میں جا بیٹھا۔ سامنے سے ایک بیل گاڑ ی دیکھ کر بولا’’یہ کس زمانے کی گاڑی ہے؟‘‘۔یہ صدیوں سے دوبیلوں کوسامنے جوت کرپیچھے بیٹھنے کی جگہ بنائی جاتی ہے۔ اتنی دیر میں بڑے بھائی جان آگئے انکے ہاتھ میں اٹلس نما کتاب تھی۔ مجھے دکھانے بیٹھے۔بگھی،ٹانگہ آنے کے بعد بجلی کاسامان بہت بننے لگا۔ ہاں ہاں میں نے مائیکروویوز میں ہر طرح کا کھانا بنتے دیکھا ہے۔ اچھا اب سڑکوں پر لگے تنوروں کا سبب بتائیں۔سنو بیٹا! پشاور سے ترکی، مصر اور افغانستان تک گھروں میں روٹی نہیں پکتی۔ یہ تو ہندو اور لکھنوی تہذیب نے ہزاروں قسم کی روٹی بنانے کی رسم ڈالی۔ خواجہ حسن نظامی کی کتاب میں سینکڑوں طرح کی روٹی کے نمونے درج ہیں۔ابھی ہمارے ملک میں ہر محلے کے نکڑ پر ایک پرنا ڈال کر،مائی روٹی بناتی ہے پہلے تو روٹی کے ساتھ دال مفت دی جاتی تھی۔
مصر، افغانی اور ترکی کی طرز کی روٹیاں چھابے میں رکھتے، لوگ سائیکلوں پر گھر گھر یا ریستوران میں روٹیاں فروخت کرتے نظر آتے۔ اکثر ہوٹل تو روٹی پرتازہ بھنا گوشت یا سبزی ڈال دیتے ۔ لوگ مصالحے والا نان خرید کرخود کھاتے اور بچوں کے لیے گھر میں لے آتے۔
توپھر یہ پیزا وغیرہ بھی تو آلو، قیمہ بھرے پراٹھوں کی طرح ہوتا ہے۔اصل میں دوسری جنگ عظیم کے بعد ، عورتوں کو بھی گھر کے علاوہ، باہر کے کام کرنے کی عادت پڑی۔ آج بھی پیزا، ہر شہر میں بھی جاؤ تو مرد، عورتیں، سب بتاتے ہیں کہ یہ بھی تنور میں پکایا جاتا ہے اور سرخ ہوکرباہر نکل آتا ہے۔ بازار میں فیشن کے طور پر نوجوان بچے، بچیاں کھاتی ہیں۔ مگر اب گھروں میں نوجوان بچے بھی خود ہی بنانے لگے ہیں۔
سامنے ایک پھولوں کا گلدستہ بچہ بیچ رہا تھا۔ صبح کے وقت کون پھول خریدتا ہے۔ مگر اسکی ماں نے بچوں کو صبح کو مصروف رکھنےکیلئے، یہ راستہ نکالا ہے۔
آجکل بچوں کی گرمیوں کی چھٹیاں ہیں۔ پیسے والے لوگ تو سمر اسکول میں بھیج دیتے ہیں۔ مگر ہم جیسے غریبوں کو اپنے بچوں کو، کھانا پکانا اور کمپیوٹر پر بسکٹ بنانے کے طریقے سکھانا بھی مناسب لگتا ہے۔ ہر محلے میں ایک پڑھی لکھی خاتون یہ ذمہ داری خود ہی اٹھائے تو پورے علاقے میں خبر پھیل جاتی ہے اور چھٹی کے دن، سارے بچے پکنک پر جائیں اور واپسی پر اپنے سفر کا حال لکھ کر ، ایک شام سارے بچے سنائیں۔
یہ سب کچھ بھی،کام ہو، بچوں کا وقت ضائع بھی نہیں ہوتا اور کھیل کھیل میں بہت کچھ سیکھ جاتے ہیں۔چلو بچو! مل کر ایک بیل گاڑی میں سیر کریں مزے کیلئے چنے بٹھورے ساتھ میں لیکر کھائیں۔