• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پریم نگر کنسرٹ سیریز کے تحت مایہ ناز عالمی شہرت یافتہ گلوکار راحت فتح علی خان کے کراچی اور حیدرآباد میں منعقدہ فنڈ ریزنگ کنسرٹ نے میری توقعات سے بڑھ کر ریکارڈ توڑکامیابی حاصل کی، موسیقی کی رنگارنگ تقریب میں نہ صرف ہزاروں افراد نے شرکت کی بلکہ انہیں میرے تھرپارکرمیں محبت بھری سرزمین پریم نگر دی لینڈ آف لَومیں دُکھی انسانیت کی خدمت کے جاری منصوبوں کے بارے میں بھی آگاہی حاصل ہوئی، یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز نے ہزاروںپاکستانی نوجوانوں کو روزگار اور آمدنی کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں، گزشتہ چند برسوں میں پاکستان میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز، وی لاگرز، یوٹیوبرز اور ڈیجیٹل کریئیٹرز کی تعداد تیزی سے بڑھی ہے اور بیرون ملک سے ڈالرز کی صورت میں کمائی میں اضافہ ہورہا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ حکومت پاکستان نے مالی سال 2026-27کے بجٹ میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی آمدنی پرپانچ فیصد ٹیکس عائد کرنیکا فیصلہ کیا ہے، پارلیمنٹ سے بجٹ منظوری کے بعد پاکستانی بینک اپنے صارف کے اکاؤنٹ سے سوشل میڈیا سے حاصل کردہ آمدنی میں سے پانچ فیصد ٹیکس کٹوتی کے قانونی طور پر مجاز ہونگے۔ میری اس حوالے سےحالیہ دِنوں میں مختلف سوشل میڈیا انفلوئنسرز سےتفصیلی گفتگو ہوئی جو میں نے ضروری سمجھی کہ آپ سب کے ساتھ شیئر کی جائے۔ سوشل میڈیا انفلوئنسرز ٹیکس دراصل ان افراد پر لاگو ہوگا جو مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اشتہارات، اسپانسرشپس، برانڈ پروموشنز، افیلی ایٹ مارکیٹنگ یا دیگر آن لائن سرگرمیوں سے آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ جب دیگر شعبوں سے وابستہ افراد اپنی آمدنی پر ٹیکس ادا کرتے ہیں تو ڈیجیٹل معیشت سے منسلک افراد کو بھی باقی کاروباری طبقے کی مانند قومی خزانے میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے؟تاہم میرے اس سوال کے جواب میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے یہ موقف اپنایاکہ پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت ابھی ابتدائی ترقی کے مراحل میں ہے اور ایسے وقت میں اضافی ٹیکس نوجوان کانٹینٹ کریئیٹرزکی حوصلہ شکنی کا باعث ہے۔دنیا کے کئی ممالک میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو باقاعدہ ٹیکس دہندگان تصور کیا جاتا ہے، میری معلومات کے مطابق امریکہ میں یوٹیوبرز اور ڈیجیٹل کنٹنٹ کرئیٹرز اپنی کمرشل آمدنی پر وفاقی اور ریاستی ٹیکس ادا کرتے ہیں، برطانیہ میں آن لائن کریئیٹرز کو سیلف ایمپلائڈافراد کے طور پر رجسٹر ہونا پڑتا ہے اور انٹرنیٹ پر حاصل کردہ آمدنی پر انکم ٹیکس عائد ہوتا ہے، آسٹریلیا اور کینیڈا میں بھی ڈیجیٹل کریئیٹرز کی آمدنی ٹیکس کے دائرے میں شامل ہے۔ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں آن لائن کریئیٹرزکو اپنی ویڈیو پروڈکشن، اسٹوڈیو کرایہ، کیمرہ آلات، انٹرنیٹ اخراجات، سفری اخراجات اور دیگر کاروباری مصارف کو ٹیکس میں قابل کٹوتی ٹیکس اخراجات کے طور پر ظاہر کر نے کی اجازت ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز ہماری قومی معیشت میں اپنا بھرپور حصہ ڈال رہے ہیں، پاکستانی یوٹیوبرز، فری لانسرز اور ڈیجیٹل کریئیٹرز کی بڑی تعداد اپنی آمدنی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے امریکی ڈالر میں حاصل کرتی ہے، جب یہ رقم پاکستان میں بینکنگ چینلز کے ذریعے پاکستانی روپے میں منتقل ہوتی ہے تو نہ صرف انہیں اپنی محنت کا معاوضہ وصول ہوتا ہے بلکہ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ہمارے اربابِ اختیار کو سوچنا چاہیے کہ سخت ٹیکس قوانین سے پہلے پرکشش مراعات کا اعلان بہت ضروری ہے تاکہ ہمارے نوجوان نہ صرف ڈیجیٹل شعبے میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرسکیں بلکہ اپنی ڈیجیٹل آمدنی کوبھی پاکستان ہی میں لانا پسند کریں۔

تازہ ترین