• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ کچھ وقت گزرنے کے بعد دنیا میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل دیتی ہیں۔ پہلے یہ تبدیلیاں سست روی سے وجود میں آتی تھیں جس میں بعض اوقات صدیاں لگ جاتی تھیں۔ جیسے مختلف خاندانوں کی حکومتیں کئی صدیوں تک چلتی رہیں ۔ ہمارے برصغیر میں مسلمانوں نے تقریباً ایک ہزار سال تک حکومت کی ہے ۔ان حکومتوں میں حکمران خاندانوں کا کردار بھی صدیوں تک برقرار رہا۔ اس کی مثالیں سلاطینِ دہلی ، خاندانِ غلاماں، اورمغلیہ خاندانوں کی حکومتیں ہیں ۔اسی طرح اسپین میں مسلمانوں نے 700 سال تک حکومت کی اور خلافت عثمانیہ بھی تین براعظموں میں تقریبا 700 سال تک برسرِ اقتدار رہی۔ صرف ہمارے خطے میں ہی نہیں یورپ اور دیگر براعظموں میں بھی صدیوں تک مختلف خاندانوں کی حکومت رہی ہے۔ برطانیہ جو ایک چھوٹا سا ملک ہے کسی زمانے میں اس کے وسیع و عریض اقتدار کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اسکی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا لیکن اب وہ اتنا سکڑ گیا ہے کہ وہاں سورج طلوع ہونے کے بارے میں خدشات پیدا ہونے لگے ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد برطانوی نو آبادیاتی دور کا خاتمہ ہوا تو دنیا کی از سرِ نو سیاسی و جغرافیائی تقسیم عمل میں آئی۔ ڈوبتے ہوئے برطانوی سامراج کی جگہ امریکی سامراج نے لے لی اور اسکے ساتھ سوویت یونین دوسری سپر پاور کے طور پر ابھرا ۔ جسکے نظام نے تقریباً آدھی دنیا میں اپنے قدم جما لیے۔ امریکہ اور سوویت یونین کی سرد جنگ نے نئے قومی اور عالمی بلاک تشکیل دیے جن کی کشمکش نے عالمی سطح پر نئے دوست اور دشمن پیدا کیے۔ 1991ءمیں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکہ واحد سپر پاور کے طور پر ابھرا اور اس نے دنیا میں ایک نئی سیاسی و جغرافیائی تقسیم کو جنم دیا۔ جسے نیو ورلڈ آرڈر کہا جاتا ہے۔ یہ نیو ورلڈ آرڈر کوئی نئی چیز نہیں ہے کیونکہ انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ ہمیشہ فاتح اقوام نے اپنے قومی مفادات کے تحت ایک نیو ورلڈ آرڈر بنایا اور دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی کوشش کی ۔ اس تمام کشمکش میں پرانے جانی دشمن ممالک گہرے دوست بن گئے۔ جسکی مثال امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات میں ملتی ہے وہی امریکہ جس نے کبھی برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کیلئے ایک طویل جنگ لڑی تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ کا نہ صرف حلیف بن گیا بلکہ برطانیہ نے اپنے تمام مقبوضات امریکی سامراج کے حوالے کر دیے اور خود خطے میں امریکی مفادات کا سب سے بڑا محافظ بن گیا ۔عالمی طاقت کا توازن کبھی زیادہ دیر تک کسی خطے یا قوم کے پاس نہیں رہا ۔جب دنیا پر مسلمان ایک عالمی طاقت کی حیثیت سے حکمران تھے تو یورپ اپنی تاریخ کے تاریک دور سے گزر رہا تھا اور اس کے سماج میں وہی مذہبی و معاشرتی جہالت پر مبنی رسم و رواج پائے جاتے تھے جو آج ہماری سوسائٹی میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ لیکن بقول سر برٹرینڈ رسل یہ تاریخی حقیقت ہے کہ دنیا میں طاقت کبھی مغرب کے پاس رہی ہے اور کبھی مشرق کے پاس۔

چین اوربرِصغیر پاک و ہند کسی وقت میں تہذیب و تمدن کی بلندیوں پر تھے اور پھر ایسا وقت بھی آیا کہ ہندوستان غیرملکیوں کے حملوں کی آماجگاہ بن گیا اور چینی کاہل اور افیونچی قوم کی حیثیت سے زوال پذیر ہو گئے ۔امریکی سامراج کو دنیا کی واحد سرکش سپر پاور بنانے میں دیگر عوامل کے علاوہ نام نہاد افغان جہاد کا کلیدی کردار رہا ، جس میں ہمارے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیا اور اس کے ساتھیوں نے انتہائی مذموم کردار ادا کیا اور نہ صرف مذہب کےنام پرپاکستان کوامریکی سامراج کی توسیع پسندانہ جنگ کا حصہ بنا دیا ،اس عرصے میں پاکستان میں عسکریت پسندی بڑھی اور دہشت گردی اور قتل و غارت کا وہ سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ غیر مسلم امریکہ کے مالی تعاون سے شروع ہونے والا یہ نام نہاد جہاداور ہمارے تربیت یافتہ مجاہدینِ اسلام یعنی طالبان آج پاکستان کیخلاف مسلم دشمن بھارتی حکومت کےآلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ یہی کچھ کشمیر میں ہوتا دکھائی دے رہا ہے آج کشمیری بھی گمراہ ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ہمارے پالیسی سازوںنےدوررس قومی مفادات کےبجائے وقتی پالیسیوں کے تحت ہمارے ارد گرد تباہی کا ایسا جال بچھا دیا ہے جس سے نکلنے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ موجودہ حالات میں ایران اور امریکہ و اسرائیل کی جنگ نے ایک مرتبہ پھر دنیا کو ایک نئے دوراہے پر لا کھڑا کیاہے۔ ایران کی بے مثال مدافعت نے امریکی سامراج کو اتنا کمزور اور بے وقعت کر دیا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی مرتبہ یورپ خصوصاً برطانیہ نے اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کیا ہے اور اسرائیل کی ناجائز ریاست کے قیام کے بعد پہلی مرتبہ اسرائیل جن مغربی طاقتوں کی آنکھ کا تارا تھا انہوں نے اسکے ظلم و بربریت کے خلاف مسلم ممالک کے عوام سے بڑھ کر احتجاج کیا ہے۔ اس سارے عمل میں اس خطے میں چینی اثر و رسوخ اور پاکستان کی مفاہمتی کوششوں کی وجہ سے ایک نیا بلاک تشکیل پا رہا ہے جو ہمارے لیے بھی امید کی آخری کرن ثابت ہو سکتا ہے اور اگر ہمارے پالیسی ساز اپنے وقتی مفادات کے بجائے دورس قومی مفادات کو سامنے رکھیں تو پاکستان بھی ترقی کے نئے دور میں شامل ہو سکتا ہے اس کیلئے پاکستان کو حقیقت پسندانہ پالیسیاں اختیار کرنا ہوں گی اور اپنے ارد گرد ایسا پرامن ماحول بنانا ہوگا اور اندرونی طور پر ایسا سیاسی استحکام لانا ہوگا جسکی موجودگی میں پاکستان نہ صرف اپنے ماضی کے زخم بھر سکتاہے بلکہ دن دگنی رات چوگنی ترقی بھی کر سکتا ہے۔

تازہ ترین