امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل نے مالی سال 2026ء کے دوران دنیا بھر میں تقریباً 21,000 ملازمین کو فارغ کر دیا جبکہ کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال کے باعث مستقبل میں مزید ملازمتیں بھی ختم ہو سکتی ہیں۔
کمپنی کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اس کی مجموعی افرادی قوت 162,000 سے کم ہو کر 141,000 رہ گئی ہے جو تقریباً 13 فیصد کمی بنتی ہے۔
اوریکل کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو مختلف شعبوں میں نافذ کرنے سے کام کے طریقۂ کار میں تبدیلی آئی ہے جس کے نتیجے میں ملازمین کی تعداد میں کمی ہوئی اور آئندہ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔
کمپنی اس وقت مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے وسیع ڈیٹا سینٹرز تعمیر کیے جا رہے ہیں۔
اس حکمتِ عملی کے تحت اوریکل کی مسابقت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے بڑھ گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اوریکل نے رواں مالی سال میں تقریباً 70 ارب ڈالرز کے سرمایہ جاتی اخراجات کا ہدف رکھا ہے جبکہ فنڈنگ کے لیے مزید 40 ارب ڈالرز قرض اور حصص کے ذریعے حاصل کرنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق کمپنی نے مالی سال 2026ء میں تنظیمِ نو اور ملازمین کی برطرفیوں سے متعلق اخراجات پر 1.84 ارب ڈالرز خرچ کیے ہیں جو گزشتہ سال کے 374 ملین ڈالرز کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔